ابو طالب کی خدمت میں قریش کا آخری وفد

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 18, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    ابو طالب کی خدمت میں قریش کا آخری وفد:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعب ابی طالب سے نکلنے کے بعد پھر حسب معمول دعوت و تبلیغ کا کام شروع کر دیا اور اب مشرکین نے اگرچہ بائیکاٹ ختم کردیا تھا لیکن وہ بھی حسب معمول مسلمانوں پر دباؤ ڈالنے اور اللہ کی راہ سے روکنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔اور جہاں تک ابو طالب کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنی دیرینہ روایت کے مطابق پوری جاں سپاری کے ساتھ اپنے بھتیجے کی حمایت و حفاظت میں لگے ہوئے تھے لیکن اب انکی عمر اسی سال سے متجاوز ہو چلی تھی۔کئی سال سے پے درپے سنگین آلام و حوادث نے اور خصوصا"محصوری نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا۔انکے قویٰ مضمحل ہو گئے تھے اور کمر ٹوٹ چکی تھی،چنانچہ گھاٹی سے نکلنے کے چند مہینے گزرے تھے کہ انہیں سخت بیماری نے آن پکڑا۔اس موقع پر مشرکین نے سوچا اگر ابو طالب کا انتقال ہو گیا اور اسکے بعد ہم نے اسکے بھتیجے پر کوئی زیادتی کی تو بڑی بدنامی ہوگی،اسلئے ابوطالب کے سامنے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معاملہ طر کر لینا چاہئیے۔اس سلسلے میں بعض ایسی رعایتیں بھی دینے کو تیار ہو گئے جس پر اب تک راضی نہ تھے۔چنانچہ ان کا ایک وفد ابو طالب کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ان کا آخری وفد تھا۔
    ابن اسحٰق وغیرہ کا بیان ہے کہ جب ابو طالب بیمار پر گئے اور قریش کو معلوم ہوا کہ ان کی حالت غیر ہوتی جا رہی ہے تو انہوں نے آپس میں کہا کہ دیکھو حمزہ اور عمر اب مسلمان ہو چکے ہیں اور محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین قریش کے ہر قبیلے میں پھیل چکا ہے اس لئے چلو ابو طالب کے پاس چلین کہ وہ اپنے بھتیجے کو کسی بات کا پابند کرین اور ہم سے بھی انکے متعلق عہد لے لیں کیونکہ واللہ ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ بڈھا مر گیا اور محمّد کے ساتھ کوئی گڑبڑ ہو گئی تو عرب ہمیں طعنہ دینگے اور کہیں گے کہ انہوں نے محمّد( صلی اللہ علیہ وسلم) کو چھوڑے رکھا (اور اسکے خلاف کچھ کرنے کی ہمت نہ کی) لیکن جب اسکا چچا مر گیا تو اس پر چڑھ دوڑے۔ بہرحال قریش کا یہ وفد ابو طالب کے پاس پہنچا اور ان سے گفت و شنید کی۔وفد کے ارکان قریش کے معزّز ترین افراد تھے یعنی عُتبہ بن ربیعہ،شیبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، امیّہ بن خلف،ابو سفیان بن حرب اور دیگر اشراف قریش جن کی کل تعداد تقریبا: پچیس تھی۔
    انہوں نے کہا:
    "اے ابو طالب! ہمارے درمیان آپ کا جو مرتبہ و مقام ہے اسے آپ بخوبی جانتے ہیں اور اب آپ جس حالت سے گزر رہے ہیں وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ آپ کے آخری ایام ہیں،ادھر ہمارے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان جو معاملہ چل رہا ہے اس سے بھی آپ واقف ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ انہیں بلائیں اور انکے بارے میں ہم سے کچھ عہدو پیمان لیں اور ہمارے بارے میں ان سے عہدو پیمان لیں یعنی وہ ہم سے دستکش رہیں اور ہم ان سے دستکش رہیں،وہ ہم کو ہمارے دین پر چھوڑ دیں اور ہم ان کو انکے دین پر چھوڑ دیں۔"
    اس پر ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائےتو کہا:
    "بھتیجے! یہ تمہاری قوم کے معزّز لوگ ہیں،تمہارے ہی لئے جمع ہوئے ہیں۔یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں کچھ عہدو پیمان دے دیں اور تم بھی انہیں کچھ عہدو پیمان دے دو" اسکے بعد ابو طالب ان کی پیشکش ذکر کی کہ کوئی بھی فریق دوسرے سے تعرض نہ کرے۔
    جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد کو مخاطب کرکے فرمایا:
    "آپ لوگ یہ بتائیں کہ اگر میں ایک ایسی بات پیش کروں جس کے اگر آپ قائل ہو جائیں تو عرب کے بادشاہ بن جائیں اور عجم آپ کے زیر نگیں آجائے تو آپ کی کیا رائے ہوگی؟"بعض روایتوں میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ صٌی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کو مخاطب کرکے فرمایا: "میں ان سے ایک ایسی بات چاہتا ہوں جس کے یہ قائل ہو جائیں تو عرب انکے تابع فرمان بن جائیں اور عجم انہیں جزیہ ادا کریں۔"
    ایک اور روایت میں یہ مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا:"چچا جان! آپ کیوں نہ انہیں ایک ایسی بات کی طرف بلائیں جو ان کے حق میں بہتر ہے!"انہوں نے کہا:"تم انہیں کس بات کی طرف بلانا چاہتے ہو؟"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں ایک ایسی بات کی طرف بلانا چاہتا ہوں جس کے یہ قائل ہو جائیں تو عرب ان کا تابعفرمان بن جائے اور عجم پر انکی بادشاہت قائم ہو جائے"۔
    ابن اسحٰق کی ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آپ لوگ صرف ایک بات مان لیں جس کی بدولت آپ عرب کے بادشاہ بن جائینگے اور عجم آپ کے زیر نگیں آجائے گا۔"
    بہر حال جب یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی تو وہ لوگ کسی قدر توقف میں پڑ گئے اور سٹپٹا سےگئے۔ وہ حیران تھے کہ صرف ایک بات جو اس قدر مفید ہے اسے مسترد کیسے کریں؟ آخرکار ابو جہل نے کہا: "اچھا بتاؤ وہ بات کیا ہے؟"تمہارے باپ کی قسم! ایسی ایک بات تو کیا دس باتیں بھی پیش کرو تو ہم ماننے کو تیار ہیں"۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "آپ لوگ لا الہ الا اللہ کہیں اور اللہ کے سوا جو کچھ پوجتے ہیں اسے چھوڑ دیں۔"
    اس پر انہوں نے ہاتھ پیٹ پیٹ کر اور تالیاں بجا بجا کر کہا:
    "محمّد ( صلی اللہ علیہ وسلم) تم یہ چاہتے ہو کہ سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالو؟ واقعی تمہارا معاملہ بڑا عجیب ہے،"
    پھر آپس میں ایک دوسرے سے بولے: "خدا کی قسم! یہ شخص تمہاری کوئی بات ماننے کو تیار نہیں۔لہٰذا چلو اور اپنے آباؤاجداد کے دین پر ڈٹ جاؤ،یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور اس شخص کے درمیان فیصلہ فرمادے"۔ اسکے بعد انہوں نے اپنی اپنی راہ لی۔ اس واقعے کے بعد انہی لوگوں کے بارے میں قران مجید کی یہ آیات نازل ہوئیں:

    بسم اللہ الرحمن الرحيم

    ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ

    بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّۃٍ وَشِقَاقٍ

    كَمْ اَھْلَكْنَا مِن قَبْلِھِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوْا وَلاتَ حِينَ مَنَاصٍ

    وَعَجِبُوا اَن جَاءَھُم مُّنذِرٌ مِّنْھُمْ وَقَالَ الْكَافِرُونَ ھَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ

    أَجَعَلَ الآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ

    وَانطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْھُمْ اَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِھَتِكُمْ اِنَّ ھَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ

    مَا سَمِعْنَا بِھَذَا فِي الْمِلَّۃِ الآخِرَہِ اِنْ ھَذَا اِلاَّ اخْتِلاقٌ۔

    ترجمہ: ص۔ قسم ہے نصیحت سے بھرے ہوئے قران کی۔ بلکہ جنہوں نے کفر کیا ہیکڑی اور ضد میں ہیں۔ہم نے کتنی ہی قومیں ان سے پہلے ہلاک کر دیں اور وہ چیخے چلاّئے (لیکن اس وقت) جبکہ بچنے کا وقت نہیں تھا۔انہیں تعجّب ہے کہ ان کے پاس خود ان ہی میں سے ڈرانے والا آگیا۔کافر کہتے ہیں‌کہ یہ جادوگر ہے۔ بڑا جھوٹا ہے۔کیا اس نے سارے معبودوں کی جگہ بس ایک ہی معبود بنا ڈالا! یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ اور ان کے بڑے یہ کہتے ہوئے نکلے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو۔یہ ایک سوچی سمجھی بات ہے۔ہم نے کسی اور ملّت میں یہ بات نہیں سنی۔یہ محض گھڑنت ہے۔"
    سورہ ص: 1-7)

    (1) ابن ہشام 1/417 تا 419، مختصر السیرۃ للشیخ عبداللہ ص 91
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں