غزوہ بدر دوم ، غزوہ دومۃ الجندل

محمد نعیم نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 18, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901
    غزوہ بدر دوم

    اعراب کی شوکت توڑ دینے اور بدوؤں کے شر سے مطمئن ہو جانے کے بعد مسلمانوں نے اپنے بڑے دشمن (قریش ) سے جنگ کی تیاری شروع کر دی ۔کیونکہ سال تیزی سے ختم ہو رہا تھا اور احد کے موقع پر طے کیا ہوا وقت قریب آتا جا رہا تھا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فرض تھا کہ میدان کارزار میں ابو سفیان اور اس کی قوم سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے نکلیں اور جنگ کی چکی اس حکمت کے ساتھ چلائیں کہ جو فریق زیادہ ہدایت یافتہ اور پائدار بقا کا مستحق ہو حالات کا رخ پوری طرح اس کے حق میں ہو جائے ۔
    چنانچہ شعبان 4 ھ جنوری 626ء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے کا انتظام حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو سونپ کر اس طے شدہ جنگ کے لیے بدر کا رخ فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ڈیڑھ ہزار کی جمعیت اور دس گھوڑے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوج کا علم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور بدر پہنچ کر مشرکین کے انتظار میں خیمہ زن ہو گئے ۔
    دوسری طرف ابو سفیان بھی پچاس سواروں سمیت دو ہزار مشرکین کی جمعیت لے کر روانہ ہوا اور مکے سے ایک مرحلہ دور وادی مرالظّہران پہنچ کر مجنہ نام کے مشہور چشمے پر خیمہ زن ہوا لیکن وہ مکہ ہی سے بوجھل اور بد دل تھا ۔ بار بار مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی جنگ کا انجام سوچتا تھا اور رعب و ہیبت سے لرز اٹھتا تھا ۔ مرالظّہران پہنچ کر اس کی ہمت جواب دے گئی اور وہ واپسی کے بہانے سوچنے لگا ۔ بالآخراپنے ساتھیوں سے کہا : ’’ قریش کے لوگو ! جنگ اس وقت موزوں ہوتی ہے جب شادابی اور ہریالی ہو کہ جانور بھی چر سکیں اور تم بھی دودھ پی سکو ۔ اس وقت خشک سالی ہے ، لہٰذا میں واپس جا رہاہوں ، تم بھی واپس چلے چلو ‘‘۔
    ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے ہی لشکر کے اعصاب پر خوف و ہیبت سوار تھی ۔کیونکہ ابو سفیان کے اس مشورہ پر کسی قسم کی مخالفت کے بغیر سب نے واپسی کی راہ لی اور کسی نے بھی سفر جاری رکھنے اور مسلمانوں سے جنگ لڑنے کی رائے نہ دی ۔
    ادھر مسلمانوںنے بدر میں آٹھ روز تک ٹھہر کر دشمن کا انتظار کیا اور اس دوران اپنا سامان تجارت بیچ کر ایک درہم کے دو درہم بناتے رہے ۔ اس کے بعد اس شان سے مدینہ واپس آئے کہ جنگ میں پیش قدمی ان کے ہاتھ آچکی تھی ، دلوں پر ان کی دھاک بیٹھ چکی تھی اور ماحول پر ان کی گرفت مضبوط ہو چکی تھی ۔ یہ غزوہ بدرِ موعد ، بدر ثانیہ ، بدر آخرہ اور بدر صغرٰی کے ناموں سے معرف ہے ۔ (11)


    غزوہ دُومۃُالجندل :
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر سے واپس ہوئے تو ہر طرف امن و امان قائم ہوچکا تھا اور پوری اسلامی قلمرو میں اطمینان کی باد بہاری چل رہی تھی ۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کی آخری حدود تک توجہ فرمانے کے لئے فارغ ہو چکے تھے اور اس کی ضرورت بھی تھی تاکہ حالات پر مسلمانوں کاغلبہ اور کنٹرول رہے ۔ اور دوست ودشمن سبھی اس کو محسوس اور تسلیم کریں ۔
    چنانچہ بدر صغریٰ کے بعد چھ ماہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے مدینے میں قیام فرمایا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاعات ملیں کہ شام کے قریب دُومۃ الجندل کے گرد آباد قبائل آنے جانے والے قافلوں پر ڈاکے ڈال رہے ہیں اور وہاں سے گزرنے والی اشیاء لوٹ لیتے ہیں ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ انہوں نے مدینے پر حملہ کرنے کے لیے ایک بڑی جمعیت فراہم کر لی ہے ۔ ان اطلاعات کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ کو مدینے میں اپنا جانشین مقرر فرما کر ایک ہزار مسلمانوں کی نفری کے ساتھ کوچ فرمایا ۔ یہ 25ربیع الاول 5ھ کا واقعہ ہے ۔ راستہ بتانے کے لیے بنو عذرہ کا ایک آدمی رکھ لیا گیا جس کا نام مذکور تھا ۔
    اس غزوے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں سفر فرماتے اور دن میں چھپے رہتے تھے تاکہ دشمن پر بالکل اچانک اور بے خبری میں ٹوٹ پڑیں ۔ قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ باہر نکل گئے ہیں ؛ لہذا ان کے مویشیوں اور چرواہوں پر ہلہ بول دیا کچھ ہاتھ آئے کچھ نکل بھاگے ۔
    جہاں تک دُومۃ الجندل کے باشندوں کا تعلق ہے تو جس کا جدھر سینگ سمایا بھاگ نکلا ۔ جب مسلمان دُومۃ کے میدان میں اترے تو کوئی نہ ملا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دن قیام فرماکر اِدھر اُدھر متعدد دستے روانہ کئے لیکن کوئی بھی ہاتھ نہ آیا ۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پلٹ آئے ۔ اس غزوے میں عُیَینہ بن حصن(12) سے مصالحت بھی ہوئی ۔
    دُومَہ ---------- دال کو پیش ---------- یہ سر حد شام میں ایک شہر ہے ۔ یہاں سے دمشق کا فاصلہ پانچ رات اور مدینے کا پندرہ رات ہے ۔
    ان اچانک اور فیصلہ کن اقدامات اور حکیمانہ حزم و تدبر پر مبنی منصوبوں کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قلمرو اسلام میں امن و امان بحال کرنے اور صورتحال پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی اور وقت کی رفتار کا رخ مسلمانوں کے حق میں موڑ لیا اور ان اندرونی اور بیرونی مشکلات پیہم کی شدت کم کی جو ہر جانب سے انہیں گھیرے ہوئے تھیں ۔ چنانچہ منافقین خاموش اور مایوس ہو کربیٹھ گئے ۔ یہود کا ایک قبیلہ جلاوطن کر دیا گیا ۔ دوسرے قبائل نے حق ہمسائیگی اور عہدوپیمان کے ایفاء کا مظاہرہ کیا ۔ بدو اور اعراب ڈھیلے پڑ گئے اور قریش نے مسلمانوں کے ساتھ ٹکرانے سے گریز کیا اور مسلمانوں کو اسلام پھیلانے اور رب العالمین کے پیغام کی تبلیغ کرنے کے مواقع میسر آئے ۔


    (استفادہ از الرحیق المختوم)
    ------------------------

    11۔اس غزوے کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ابن ہشام 2/210, 209، زاد المعاد 2/112
    12۔ قبیلہ فزارہ کے سردار
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں