حبیب جالب

naseerhaider نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اگست 4, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. naseerhaider

    naseerhaider -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2007
    پیغامات:
    408
    نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

    نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
    چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں

    کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرے
    ہزار غنچہ و گُل ہیں صبا کے رستے میں

    خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں
    ملےہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں

    کہیں سلاسلِ تسبیح کہیں زناّر
    بچھے ہیں دام بہت مُدعا کے رستے میں

    ابھی وہ منزلِ فکر و نظر کہاں آئی
    ہے آدمی ابھی جرم و سزا کے رستے میں

    ہیں آج بھی وہی دار و رسن وہی زنداں
    ہر اِک نگاہِ رموز آشنا کے رستے میں

    یہ نفرتوں کی فصیلیں جہالتوں کے حصار
    نہ رہ سکیں گے ہماری صدا کے رستےمیں

    مٹا سکے نہ کوئی سیلِ انقلاب جنھیں
    وہ نقش چھوڑے ہیں ہم نے وفا کے رستے میں

    زمانہ ایک سا جالب صدا نہیں رہتا
    چلیں گے ہم بھی کبھی سر اُٹھا کے رستے میں
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں