بیرون مکّہ دعوت عام

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 20, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    بیرون مکّہ دعوت عام۔
    ​
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں:

    شوال(1) 10 سن نبوی (اواخر مئی یا اوائل جون سن 619ع) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے۔یہ مکّے سے تقریبا" ساٹھ میل دور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مسافت آتے جاتے پیدل طے فرمائی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ تھے۔راستے میں جس قبیلے سے بھی گزر ہوتا اسے اسلام کی دعوت دیتے لیکن کسی نے بھی یہ دعوت قبول نہ کی۔جب طائف پہنچے تو قبیلہ ثقیف کے تین سرداروں کے پاس تشریف لے گئے جو آپس میں بھائی تھے اور جن کے نام یہ تھے۔عبدیائیل، مسعود اور حبیب۔ ان تینوں کے والد کا نام عمرو بن عمیر ثقفی تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس بیٹھنے کے بعد انہیں اللہ کی اطاعت اور اسلام کی مدد کی دعوت دی۔جواب میں ایک نے کہا:کہ وہ کعبے کا پردہ پھاڑے اگر اللہ نے تمہیں رسول بنایا ہو۔(2) دوسرے نے کہا: "کیا اللہ کو تمہارے علاوہ کوئی اور نہ ملا؟" تیسرے نے کہا: " میں تم سے ہرگز بات نہ کروں گا۔اگر تم واقعی پیغمبر ہو تو تمہاری بات رد کرنا میرے لئے انتہائی خطرناک ہے اور اگر تم نے اللہ پر جھوٹ گھڑ رکھا ہے تو پھر مجھے تم سے بات کرنی ہی نہیں چاہئیے"۔
    یہ جواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئےاور صرف اتنا فرمایا:" تم لوگوں نے جو کچھ کیا، بہر حال اسے پس پردہ ہی رکھنا۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں دس دن قیام فرمایا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ایک ایک سردار کے پاس تشریف لیگئے اور ہر ایک سے گفتگو کی لیکن سب کا ایک ہی جواب تھا کہ تم ہمارے شہر سے نکل جاؤ۔بلکہ انہوں نے اپنے اوباشوں کو شہہ دے دی چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کا قصد فرمایا تو یہ اوباش گالیا دیتے،تالیاں پیٹتے اور شور مچاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بھیڑ جمع ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کے دونوں جانب لائین لگ گئی۔پھر گالیوں اور بد زبانیوں کے ساتھ ساتھ پتھر بھی چلنے لگے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑی پر اتنے زخم آئے کہ دونوں جوتے خون میں تر بتر ہوگئے۔ادھر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ڈھال بن کر چلتے ہوئے پٹھروں کو روک رہے تھے جس سے ان کے سر میں کئی جگی چوٹ آئی۔بدمعاشوں نے یہ سلسلہ برابر جاری رکھا یہاں تک کہ آپ کو عتبہ اور شیبہ ابنائے ربیعہ کے ایک باغ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔یہ باغ طائف سے تین میل کے فاصلے پر واقع تھا۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پناہ لی تو بھیڑ واپس چلی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیوار سے ٹیک لگا کر انگور کی بیل کے سائے میں بیٹھ گئے۔قدرے اطمینان ہوا تو دعا فرمائی جو دعائے مستضعفین کے نام سے مشہور ہے۔اس دعا کے ایک ایک فقرے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ طائف میں اس بدسلوکی سے دوچار ہونے کے بعد اور کسی ایک بھی شخص کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر دل فگار تھے اور آپ کے احساسات پر حزن و الم اور غم و افسوس لا کس قدر غلبہ تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    الھم الیک اشکو ضعف قوتی وقلّۃ حیلتی وھَوَا انِی علی النّاس یا ارحم الراحمین، انت ربّ المستضعفین وانت ربّی ،الی من تکلنی؟ الی بعید یتجھمنی ام اِلی عدوّ ملکتہ امری؟ ان لم یکن بک علیّ غضب فلا ابالی،ولکن عافیتک ھی اوسع لی، اعوذ بنور وجھک الذی اشرقت لہ الظلمات وصلح علیہ امر الدنیا والا خرۃ من ان تنزل بی غضبک اؤ یحل علیّ سخطک لک العتبی حتی ترضی، ولا حول ولا قوۃ الا بک۔
    " بارالہا! میں تجھ ہی سے اپنی کمزوری اور بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ کرتا ہوں۔یا ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا بھی رب ہے۔ تو مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کیا کسی بیگانے کے جو میرے ساتھ تندی سے پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے جس کو تونے میرے معاملے کا مالک بنا دیا ہے؟ اگر مجھ پر تیرا غضب نہیں ہے تو مجھے کوئی پرواہ نہین،لیکن تیری عافیت میرے لئے زیادہ کشادہ ہے۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ لینا چاہتا ہوں جس سے تاریکیاں روشن ہو گئیں اور جس پر دنیا اور آخرت کے معاملات درست ہوئے کہ تو مجھ پر اپنا غضب نازل کرے، یا تیرا عتاب مجھ پر وارد ہو، تیری ہی رضا مطلوب ہے، یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے اور تیرے بغیر کوئی زور اور طاقت نہیں۔
    ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابنائے ربیعہ نے اس حالت زار میں دیکھا تو ان کے جذبہ قرابت میں حرکت پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنے ایک عیسائی غلام جس کا نام عداس تھا بلا کر کہا کہ اس انگور سے ایک گچھا لو اور اس شخص کو دے آؤ۔جب اس نے انگور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ کہہ کر ہاتھ بڑھایا اور کھانا شروع کیا۔عداس نے کہا: " یہ جملہ تو اس علاقے کے لوگ نہیں بولتے"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تم کہاں کے رہنے والے ہو؟" اور تمہارا دین کیا ہے؟" اس نے کہا میں عیسائی ہوں اور نینوایٰ کا باشندہ ہوں۔ رسول اللہ صٌی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اچھا! تم مرد صالح یونس بن متی کی بستی کے رہنے والے ہو؟" اس نے کہا: آپ یونس بن متی کو کیسے جانتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ میرے بھائی تھے"۔ وہ نبی تھے میں بھی نبی ہوں۔" یہ سن کرعداس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک پڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ہاتھ پاؤں کو بوسہ دیا۔
    یہ دیکھ کر ربیعہ کے دونوں بیٹوں نے آپس میں کہا: لو! اب اس شخص نے ہمارے غلام کو بگاڑ دیا۔ اسکے بعد جب عدس واپس گیا تو دونوں نے اس سے کہا: اجی! یہ کیا معاملہ تھا؟
    اس نے کہا: " میرے آقا! روئے زمین پر اس شخص سے بہتر اور کوئی نہیں۔اس نے مجھے ایک ایسی بات بتائی ہے جسے نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔" ان دونوں نے کہا: " دیکھو عداس کہیں یہ شخص تمہیں تمہارے دین سے نہ پھیر دے۔ کیونکہ تمہارا دین اس کے دین سے بہتر ہے۔"
    قدرت ٹہر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ سے نکلے تو مکّے کی راہ پر چل پرے۔غم و الم کی شدت سے طبعیت نڈھال اور دل پاش پاش تھا۔قرن منازل پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے۔انکے ساتھ پہاڑوں کا فرشتہ بھی تھا۔وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گزارش کرنے آیا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو وہ اہل مکّہ کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس ڈالے۔
    (1) مولانا نجیب آبادی نے تاریخ اسلام 1/122 میں اس کی صراحت کی ہے اور یہی میرے نزدیک راجح ہے۔
    (2) یہ اردو کے اس محاورے سے ملتا جلتا ہے کہ: اگر تم پیغمبر ہو تو اللہ مجھے غارت کرے"۔ مقصود اس یقین کا اظہار ہے کہ تمہارا پیغمبر ہونا ناممکن ہے جیسے کعبے کے پردے پر دست درازی کرنا ناممکن ہے۔
     
  2. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    اس واقعے کی تفصیل صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ ان کا بیان ہے کہ انہوں نے ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسا دن بھی آیا ہے جو اعد کے دن سے زیادہ سنگین رہا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہاں! تمہاری قوم سے مجھے جن جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا ان میں سب سے سنگین مصیبت وہ تھی جس سے میں گھاٹی کے دن سے دوچار ہوا، جب میں نے اپنے آپ کو عبدیائیل بن عبدکلال کے صاحبزادے پر پیش کیا مگر اس نے میری بات منظور نہ کی تو میں غم و الم سے دوچار نڈھال اپنے رخ پر چل پڑا اور مجھے قرن ثعالب پر پہنچ کر ہی افاقہ ہوا۔ وہاں میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بادل کا ایک ٹکڑا مجھ پر سایہ فگن ہے۔ میں نے بغور دیکھا تو اس میں حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے انہوں نے مجھے پکار کر کہا: " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے آپ سے جو بات کہی اللہ نے اسے سن لیا ہے ۔اب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں اسے جو حکم دینا چاہیں دیں۔ اس کے بعد پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے آواز دی اور سلام کرنے کے بعد کہا: " اے محمّد ! بات یہی ہے۔اب آپ جو چاہیں ۔۔۔۔۔۔ اگر چاہیں کہ میں انہیں(3) دو پہاڑوں کے درمیان کچل دوں -------- تو ایسا ہی ہوگا -------- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ عزّوجل ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹہرائیگی"۔(4)
    رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب میں آُ کی یگانہ روزگار شخصیت اور ناقابل ادراک گہرائی رکھنے بوالے اخلاق عظیمہ کے جلوے دیکھے جا سکتے ہیں۔ بہرحآل اب سات آسمانوں کے اوپر سے آنے والی اس غیبی مدد کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مطمئن ہو گیا اور غم و الم کے بادل چھٹ گئے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکےّ کی راہ پر مزید پیش قدمی فرمائی اور وادئ نخلہ میں جا فروکش ہوئے۔یہاں دو جگہیں قیام کے لائق ہیں۔ایک السیل الکبیر اور دوسرے زیمہ کیونکہ دونوں ہی جگہ پانی اور شادابی معجود ہے لیکن کسی ماخذ یہ پتہ نہیں چل سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کس جگہ قیام فرمایا تھ۔
    وادئ نخلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام چند دن رہا۔اس دوران اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنّوں کی ایک جماعت بھیجی جس کا ذکر قران مجید دو جگہ آیا ہے۔ ایک سورۃ الاحقاف میں، دوسرے سورہ جن میں سورہ الاحقاف کی آیات یہ ہیں:

    وَاِذْ صَرَفْنَا اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوہُ قَالُوا اَنصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا اِلَى قَوْمِھِم مُّنذِرِينَ

    قَالُوا يَا قَوْمَنَا اِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا اُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْہِ يَھْدِي الَى الْحَقِّ وَاِلَى طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ

    يَا قَوْمَنَا اَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّہِ وَآمِنُوا بِہِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ اَلِيمٍ۔

    ترجمہ: اور جب کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جنون کے ایک گروہ کو پھیرا کہ وہ قران سنیں تو جب وہ (تلاوت) قران کی جگہ پہنچے تو انہوں نے آپس میں کہا کہ چپ ہو جاؤ، پھر جب اسکی تلاوت پوری کی جا چکی تو وہ اپنی قوم کی طرف عذاب الٰہی سے ڈرانے والے بن کر پلٹے۔انہوں نے کہا! اے ہماری قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد نازل کی گئی ہے۔اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے اور راہراست کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔اے ہماری قوم! اللہ کے داعی کی بات مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے بچائے گا۔
    ( سورہ الاحقاف: 29-31)
    سورہ جن کی آیات یہ ہیں:
    قُلْ اُوحِيَ اِلَيَّ اَنَّہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا

    يَھْدِي اِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِہِ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا اَحَدًا۔

    ترجمہ: آپ کہہ دیں: میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قران سنا اور باہم کہا کہ ہم نے ایک عجیب قران سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے،ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو ہرگز شریک نہیں کر سکتے۔( پندرھویں آیت تک)سورہ الجنّ: 1-2)
    یہ آیات جو اس واقعے کے بیان کے سلسلے میں نازل ہوئیں ان کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتداء جنوّں کی اس جماعت کی آمد کا علم نہ ہو سکا تھا بلکہ جب ان آیات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقف ہو سکے۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کی آمد پہلی بار ہوئی تھی اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے بعد ان کی آمدورفت ہوتی رہی۔
    جنوں کی آمد اور قبول اسلام کا واقعہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے دوسری مدد تھی جو اس نے اپنے غیب مکنون کے خزانے سے اپنے اس لشکر کے ذریعے فرمائی تھی جس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، پھر اس واقعے کے تعلق سے جو آیات نازل ہوئیں ان کے بیچ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی کامیابی کی بشارتیں بھی ہیں اور اس بات کی وضاحت بھی کائنات کی کوئی بھی طاقت اس دعوت کی کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی چنانچہ ارشاد ہے:

    وَمَن لّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّہِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الاَرْضِ وَلَيْسَ لَہُ مِن دُونِہِ اَوْلِيَاء اُوْلَئِكَ فِي ضَلالٍ مُّبِينٍ ۔
    ترجمہ: جو اللہ کے داعی کی دعوت قبول نہ کرے وہ زمین میں (اللہ کو) بے بس نہیں کر سکتا اور اللہ کے سوا اس کا کوئی کارساز بھی نہیں، اور ایسے لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔
    سورہ الاحقاف: 32)

    وَاَنَّا ظَنَنَّا اَن لَّن نُّعْجِزَ اللَّہَ فِي الاَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَہُ ھَرَبًا۔
    ترجمہ: ہماری سمجھ میں آگیا ہے کہ ہم اللہ کو زمین میں بے بس نہیں کر سکتے اور نہ ہم بھاگ کر ہی اسے پکڑنے سے عاجز کر سکتے ہیں۔
    سورہ الجن: 12)
    اس نصرت اور بشارتوں کے سامنے غم و الم اور حزن و مایوسی کے وہ سارے بادل چھٹ گئے جع طائف سے نکلتے وقت گالیاں اور تالیاں سننے اور پتھر کھانے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چھائے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عزم مصمم فرما لیا کہ اب مکّہ پلٹنا ہے اور نئے سرے سے دعوت اسلام اور تبلیغ رسالت کے کام میں چستی اور گرمجوشی کے ساتھ لگ جانا ہے۔ یہی موقع تھا جب حضرت زید بن حارثہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ مکّہ کیسے جائینگے جبکہ وہاں کے باشندوں یعنی قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیاہے؟ اور جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ فرمایا:" اے زید! تم جو حالت دیکھ رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے کشادگی اور نجات کی کوئی راہ ضرور بنائے گا۔اللہ یقینا" اپنے دین کی مدد کرے گا، اور اپنے نبی کو غالب فرمائیگا۔
    آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے اور مکّے کے قریب پہنچ کر کوہ حرا کے دامن میں ٹہر گئے۔ پھر خزاعہ کے ایک آدمی کے ذریعے اخنس بن شریق کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دے دے مگر اخنس نے یہ کہہ کے معذرت کرلی میں حلیف ہوں اور حلیف پناہ دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو کے پاس یہی پیغام بھیجا مگر اس نے بھی یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ بنی عامر کی دی ہوئی بنو کعب پر لاگو نہیں ہوتی۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطعم بن عدی کے پاس پیغام بھیجا۔ مطعم نے کہا: ہاں اور پھر ہتھیار پہن کر اپنے بیٹوں اور قوم کے لوگوں کو بلایا اور کہا تم لوگ ہتھیار باندھ کر کعبہ کے گوشوں پر جمع ہو جاؤ--- کیونکہ میں نے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دے دی ہے۔اس کے بعد مطعم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ مکّے کے اندر آجائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیغام پانے کے بعد حجرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ہمراہ لے کر مکّہ تشریف لائے، اور مسجد حرام میں داخل ہوگئے۔اس کے بعد مطعم بن عدی نے اپنی سواری پر کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ قریش کے لوگو! میں نے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دے دی ہے۔اب اسے کوئی نہ چھیڑے۔ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے حجر اسود کے پاس پہنچے اسے چوما۔پھر دو رکعت نماز پڑھی اور اپنے گھر کو پلٹ آئے،اس دوران مطعم بن عدی اور ان کے لڑکوں نے ہتھیار بند ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد حلقہ باندھے رکھا تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مکان کے اندر تشریف لے گئے۔کہا جاتا ہے کہاس موقع پر ابو جہل نے مطعم سے پوچھا تھا کہ تم نے پناہ دی ہے یا پیروکار--- مسلمان--- ہو گئے ہو؟ اور مطعم نے جواب دیا تھا کہ پناہ دی ہے اور اس جواب کو سن کر ابو جہل نے کہا تھا کہ جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم نے بھی پناہ دی۔06)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطعم بن عدی کے اس حسن سلوک کو کبھی فراموش نہ فرمایا۔چنانچہ بدر میں جب کفار مکّہ کی کی ایک بڑی تعداد قید ہوکے آئی۔اور بعض قیدیوں کی رہائی کیلئے حضرت جبیر بن مطعم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    لؤکان المطعم بن عدی حیاتم کلمنی فی ھٰؤلاء النتنی لترکتھم لہ(7)
    "اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا،پھر مجھ سے ان بدبودار لوگوں کے بارے میں گفتگو کرتا تو میں اس کی خاطر ان سب کو چھوڑ دیتا،"
    (3) اس موقع پر صحیح بخاری لفظ اخشبین استعمال کیا گیا ہے، جو مکّہ کے دو مشہور پہاڑوں ابو قبیس اور قیقعان پر بولا جاتا ہے۔یہ دونوں پہاڑ علیالترتیب حرم کے جنوب و شمال میں آمنے سامنے ہیں۔اس وقت مکّے کی آبادی ان ہی دو پہاڑوں کے درمیان میں تھی۔
    (4) صحیح بخاری کتاب بدء الخلق 1؟485، مسلم باب القی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اذی المشرکین و للمنافقین 2/109
    (6) سفر طائف کے واقعے کی یہ تفصیلات ابن ہشام 1/419 -422۔ زاد المعاد 2/46-47
    مختصر السیرۃ للشیخ عبداللہ ص 141-143، تاریخ اسلام نجیب دریا آبادی 1/123-124
    اور معروف اور معتبر کتب تفاسیر سے جمع کی گئی ہیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں