قبائل اور افراد کو اسلام کی دعوت:

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 26, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    قبائل اور افراد کو اسلام کی دعوت:​


    ذی قعد 10 سن نبوّت (اواخر جون یا اوائل جولائی سن 619ء) میں رسول اللہ صبی اللہ علیہ وسلم طائف سے مکہ تشریف لائے اور یہاں کے افراد اور قبائل کو پھر سے اسلام کی دعوت دینی شروع کی۔کیونکہ موسم حج قریب تھا اس لئے فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے دور و نزدیک سے ہر جگہ سے پیدل اور سواروں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعے کو غنیمت سمجھا اور ایک ایک قبیلے کے پاس جا کر اسے اسلام کی دعوت دی جیسا کہ نبوّت کے چوتھے سال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔

    وہ قبائل جنہیں اسلام کی دعوت دی گئی۔​

    امام زہری فرماتے ہیں کہ جن قبائل کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل تشریف لے گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو ان پر پیش کیا ان میں سے حسب ذیل قبیلوں کے نام ہمیں بتائے گئے ہیں۔
    بنو عامر بن صعصعہ، محارب بن خصفہ، فزارہ، غسّان، مرہ، حنیفہ، سلیم، عبس بنو نصر، بنو البکاء،کلب، حارث بن کعب، عذرہ، حضارمہ----- لیکن ان میں سے کسی نے بھی اسلام قبول نہ کیا۔(1)
    واضح رہے کہ امام زہری کے ذکر کردہ ان سارے قبائل پر ایک ہی سال یا ایک ہی موسم حض میں اسلام پیش نہیں کیا گیا تھا بلکہ نبوّت کے چوتھے سال سے ہجرت سے پہلے کے آخری موسم حج تک دس سالہ مدّت کے دوران پیش کیا گیا۔(2)
    ابن اسحٰق نے بعض قبقیل پر اسلام کی پیشی اور انکے جواب کی کیفیت کا بھی ذکر کیا ہے۔ذیل میں مختصرا" ان کا بیان نقل کیا جا رہا ہے۔
    بنو کلب:- نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس قبیلے کی ایک شاخ ابو عبداللہ کے پاس تشریف لےگئے اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا۔باتوں باتوں میں یہ بھی فرمایا کہ دیکھو اے بنو عبداللہ! اللہ نے تمہارے جدّ امجد اعلیٰ کا نام بہت ہی اچھا رکھا تھا، لیکن اس قبیلے نے آپ کی دعوت قبول نہ کی۔
    بنو حنیفہ:- آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ڈیرے پر تشریف لے گئے، انہیں اللہ کی طرف بلایا، اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا، لیکن ان جیسا برا جواب اہل عرب میں سے کسی نے بھی نہ دیا۔
    عامر بن صعصعہ:- انہیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی طرف دعوت دی اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا ۔جواب مین ان کے ایک آدمی بحیرہ بن فراس نے کہا: "خدا کی قسم! اگر میں قریش کے اس جوان کو لے لوں تو اس کے ذریعے پورے عرب کو کھا جاؤنگا"۔پھر اس نے دریافت کیا کہ اچھا یہ بتائیے:" اگر ہم آپ سے آپ کے اس دین پر بیعت کر لیں پھر اللہ آپ کو مخالفین پر غلبہ عطا فرمائے تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زمام کار ہمارے ہاتھ میں ہوگی؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" زمام کار تو اللہ کے ہاتھ میں ہے،وہ جہاں چاہے گا رکھے گا۔" اس پر اس شخص نے کہا: خوب! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں تو ہمارا سینہ اہل عرب کے نشانے پر رہے، لیکن جب اللہ آپ کو غلبہ عطا فرمائے تو زمام کار کسی اور کے ہاتھ میں ہو۔ ہمیں آپ کے دین کی ضرورت نہیں۔ غرض انہوں نے انکار کر دیا۔ اسکے بعد جب قبیلہ بنو عامر اپنے علاقے میں واپس گیا تو اپنے ایک بوڑھے آدمی کو ------- جو کبر سنی کے باعث حج میں شریک نہ ہو سکا تھا ساراماجرا سنایا اور بتایا کہ ہمارے پاس قبیلہ قریش کے خاندان بنو عبد المطلب کا ایک جوان آیا تھا جس کا خیال تھا کہ وہ نبی ہے۔ اس نے ہمیں دعوت دی کہ ہم اسکی حفاظت کریں اور اسکا ساتھ دیں اور اسے اپنے علاقے میں لے آئیں۔ یہ سن کر بدھے نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا اور بولا: اے بنو عامر! کیا اب اسکی تلافی کی کوئی سبیل ہے؟ اور کیا اس ازدست رفتہ کو ڈھونڈا جا سکتا ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں فلاں کی جان ہے،کسی اسماعیلی نے کبھی اس(نبوّت) کا جھوٹا دعویٰ نہیں کیا۔ یقینا" حق ہے۔آخر تمہاری عقل کہاں چلی گئی تھی؟ (3)

    ایمان کی شعائیں مکّے سے باہر:​

    جس طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل اور وفود پر اسلام پیش کیا، اسی طرح افراد اور اشخاص کو بھی اسلام کی دعوت دی اور بعض نے اچھا جواب بھی دیا۔ پھر اس موسم حج کے کچھ ہی عرصے میں کئی افراد نے اسلام قبول کیا۔ ذیل میں انکی مختصر روداد پیش کی جا رہی ہے۔
    1- سوید بن صامت رضی اللہ عنہ:- یہ شاعر تھے، گہری سوجھ بوجھ کے حامل اور یثرب کے باشندے۔ انکی پختگی، شعر گوئی اور شرف و نسب کی وجہ سے انکی قوم نے انہیں کامل کا خطاب دے رکھا تھا۔ یہ حج یا عمرے کے لئے مکہ تشریف لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ کہنے لگے: " غالبا" آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ویسا ہی ہے جیسا میرے پاس ہے"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تمہارے پاس کیا ہے؟" سوید نے کہا:" حکمت لقمان"۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" پیش کرو"۔ انہوں نے پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" یہ کلام یقینا" اچھا ہے لیکن میرے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے بھی اچھا ہے،وہ قران ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے۔وہ ہدایت اور نور ہے"۔ اسکے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قران پڑھ کر سنایا اور اسلام کی دعوت دی۔انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور بولے: " یہ تو بہت ہی اچھا کلام ہے"۔ اسکے بعد مدینہ پلٹ کر آئے ہی تھے کہ جنگ بعاث چھڑ گئی اور اسی میں قتل کر دئیے گئے۔(4) انہوں نے 11 سن نبوی کے آغاز میں اسلام قبول کیا تھا۔(5)
    2- ایاس بن معاذ:- یہ بھی یثرب کے باشندے تھے اور نوخیز جوان۔ سن نبوّت 11 میں جنگ بعاث سے کچھ پہلے اوس کا ایک وفد خزرج کے خلاف قریش سے حلف و تعاون کی تلاش میں مکہ آیا تھا، آپ بھی اسی کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ اس وقت یثرب میں ان دونوں قبیلوں کے درمیان عداوت کی آگ بھڑک رہی تھی اور اوس کی تعداد خزرج سے سے کم تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفد کی آمد کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے درمیان بیٹھ کر یوں خطاب فرمایا:
    " آپ لوگ جس مقصد کیلئے تشریف لائے ہیں کیا اس سے پہتر چیز قبول کر سکتے ہیں؟" ان سب نے کہا وہ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں اللہ کا رسول ہوں۔اللہ نے مجھے اپنے بندوں کے پاس اس بات کی دعوت دینے کے لئے بھیجا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔ اللہ نے مجھ پر کتاب بھی اتاری ہے۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا ذکر کیا اور قران کی تلاوت فرمائی۔
    ایاس بن معاذ بولے: اے قوم یہ خدا کی قسم! اس سے بہتر ہے جس کیلئے آپ لوگ یہاں تشریف لائے ہیں۔لیکن وفد کے ایک رکن ابو الحسیر انس بن رافع نے ایک مٹھی مٹی اٹھا کر ایاس کے منہ پر دے ماری اور بولا: یہ بات چھوڑو! میری عمر کی قسم! یہاں ہم اسکے بجائے دوسرے ہی مقصد سے آئے ہیں۔ ایاس نے خاموشی اختیار کرلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اٹھ گئے۔ وفد قریش کے ساتھ حلف و تعاون کا معاہدہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اور یوں ہی ناکام مدینہ واپس ہو گیا۔ مدینہ پلٹنے کے تھوڑے ہی دن بعد ایاس انتقال کر گئے۔وہ اپنی وفات کے وقت تہلیل و تسبیح و تکبیر اور حمد و تسبیح کر رہے تھے۔اس لئے لوگوں کو یقین ہے کہ ان کی وفات اسلام پر ہوئی۔(6)
    3- ابو ذر غفّاری رضی اللہ عنہ:- یہ یثرب کے اطراف میں سکونت پذیر تھے۔ جب سوید بن صامت اور ایاس بن نعاذ کے ذریعے یثرب میں رسول اللہ صبی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر پہنچی تو یہ خبر ابو ذر رضی اللہ عنہ کے کان سے بھی ٹکرائی اور یہی ان کے اسلام لانے کا سبب بنی۔(7)
    ان کے اسلام لانے کا واقعہ صحیح بخاری میں تفصیل سے مروی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں غفّار کا ایک آدمی تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ مکے میں ایک آدمی نمودار ہوا ہے جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا: تم اس آدمی کے پاس جاؤ، اس سے بات کرو اور میرے پاس اسکی خبر لاؤ۔ وہ گیا، ملاقات کی اور واپس آیا۔میں نے پوچھا: کیا خبر لائے ہو؟ بولا: خدا کی قسم میں نے ایک ایسا آدمی دیکھا ہے جو بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ میں نے کہا: تم نے تشفّی بخش خبر نہیں دی۔آخر میں نے خود توشہ دان اور ڈنڈا اٹھایا اور مکہ کیلئے چل پڑا۔ ( وہاں پہنچ تو گیا) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتا نہیں تھا اور یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ آپ کے متعلق کسی سے پوچھوں۔چنانچہ میں زمزم کا پانی پیتا اور مسجد حرام میں پڑا رہتا۔آخر میرے پاس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا۔ کہنے لگے: اجنبی آدمی معلوم ہوتے ہو: میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اچھا تو گھر چلو۔ میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ نہ وہ جھ سے کچھ پوچھ رہے تھے نہ میں ان سے کچھ پوچھ رہا تھا اور نہ ہی انہیں کچھ بتا ہی رہا تھا۔ صبح ہوئی تو میں پھر اس ارادے سے مسجد حرام گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دریافت کروں۔ لیکن کوئی نہ تھا جو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ بتاتا۔ آخر میرے پاس سے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ گزرے۔ دیکھ کر بولے: اس آدمی کو ابھی اپنا ٹھکانہ معلوم نہ ہو سکا؟ میں نے کہا: نہیں۔انہوں نے کہا: اچھا تو میرے ساتھ چلو۔ اسکے بعد انہوں نے کہا: اچھا تمہارا معاملہ کیاہے؟ اور تم کیوں اس شہر میں آئے ہو؟ میں نے کہا: آپ رازداری سے کام لیں تو بتاؤں۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، میں ایسا ہی کرونگا۔ میں نے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہاں ایک آدمی نمودار ہوا ہے جو اپنے آپ کو اللہ کا نبی بتاتا ہے۔میں نے اپنے بھائی کو بھیجا کہ وہ بات کرکے آئے، مگر اس نے پلٹ کر کوئی تشفّی بخش بات نہ بتلائی۔ اسلئے میں نے سوچا خود ہی ملاقات کرلوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بھئی تم صحیح جگہ پہنچے۔ دیکھو میرا رخ ان ہی کی طرف ہے۔ جہاں میں گھسوں وہاں تم بھی گھس جانا۔اور ہاں اگر میں کسی ایسے شخص کو دیکھوں جس سے تمہارے لئے خطرہ ہے تو دیوار کے اس طرف جا رہوں گا گویا اپنا جوتا ٹھیک کر رہا ہوں لیکن تم راستہ چلتے جانا۔ اسکے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ روانی ہوئے اور میں بھی ساتھ ساتھ چل پڑا۔یہاں تک کہ وہ اندر داخل ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا داخل ہوا، اور عرض پردازہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اسلام پیش کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام پیش فرمایا اور میں وہیں مسلمان ہو گیا۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! اس معاملے کو پس پردہ رکھو، اور اپنے علاقے میں واپس جاؤ۔جب ہمارے ظہور کی خبر ملے تو آجانا۔میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آُ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں تو انکے درمیان ببانگ دہل اس کا اعلان کرونگا۔ اسکے بعد میں مسجد حرام آیا۔ قریش موجود تھے۔ میں نے کہا قریش کے لوگو!
    اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمّدا عبدہ ورسولہ۔
    میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمّد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
    لوگوں نے کہا: اٹھو اور اس بے دین کی خبر لو۔ لوگ اٹھ پڑے اور مجھے اسقدر مارا گیا کہ مر جاؤں لیکن حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے آ بچایا۔ انہوں نے جھک کر مجھے دیکھا، پھر قریش کی طرف پلٹ کر بولے: تمہاری بربادی ہو۔تم لوگ غفّار کے ایک آدمی کو مارے دے رہے ہو؟ حالانکہ تمہاری تجارت گاہ اور گزرگاہ غفّار ہی سے ہو کر جاتی ہے۔اس پر لوگ مجھے چھوڑ کر ہٹ گئے۔ دوسرے دن صبح ہوئی تو میں پھر وہیں گیا اور جو کچھ کل کہا تھا آج پھر کہا۔ اور لوگوں نے پھر کہا کہ اٹھو اس بے دین کی خبر لو۔ اس کے بعد پھر میرے ساتھ وہی ہوا جو کل ہو چکا تھا اور آج بھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ ہی نے مجھے آ بچایا۔ وہ مجھ پر جھکے اور پھر ویسی ہی بات کہی جیسی کل کہی تھی۔(8)


    (1) ترمذی، مختصر السیرۃ للشیخ عبداللہ ص 149
    (2) دیکھئے رحمتہ للعالمین
    (3) ابن ہشام 1/425-424
    (4) ابن ہشام 1/425-427، رحمتہ للعالمین 1/74
    (5) تاریخ اسلام اکبر شاہ نجیب آبادی 1/125
    (6)ابن ہشام 1/ 427-428
    (7) یہ بات اکبر شاہ نجیب آبادی نے تحریر کی ہے۔ دیکھئے انکی تاریخ اسلام 1/128
    (8) صحیح بخاری باب قصّہ زمزم 1/ 499-500، باب اسلام ابی ذر 1/544-545
     
  2. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    4- طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ:- یہ شریف انسان شاعر، سوجھ بوجھ کے مالک اور قبیلہ دوس کے سردار تھے۔انکے قبیلے کو بعض نواحی یمن میں امارت یا تقریبا" امارت حاصل تھی۔ وہ نبوّت کے گیارہویں سال مکہ تشریف لائے تو وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اہل مکہ نے انکا استقبال کیا اور نہایت عزت و احترام سے پیش آئے۔ پھر ان سے عرض پرداز ہوئے۔ اے طفیل: آپ ہمارے شہر تشریف لائے ہیں اور یہ شخص جو ہمارے درمیان ہے اس نے ہمیں سخت پیچیدگی میں پھنسا رکھا ہے، ہماری جعیت بکھیر دی ہے اور ہمارا شیرازہ منتشر کر دیا ہے۔ اسکی بات جادو کا سا اثر رکھتی ہےکہ ایک آدمی اور اس کے باپ کے درمیان، آدمی اور اسکے بھائی کے درمیان اور آدمی اور اسکی بیوی کے درمیان تفرقہ ڈال دیتی ہے۔ہمیں ڈر لگتا ہے کہ جس افتاد سے ہم دوچار ہیں وہ آپ اور آپ کی قوم پر بھی نہ آن پڑے، لہذا آپ اس سے ہرگز گفتگو نہ کریں اور اس کی کوئی چیز نہ سنیں۔
    حضرت طفیل رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ مجھے برابر اسی طرح کی باتیں سمجھاتے رہے یہاں تک کہ میں نے تہیّہ کر لیا کہ نہ آپ کی کوئی چیز سنوں گا نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کرونگا۔ حتّیٰ کہ جب میں صبح کو مسجد حرام گیا تو کان میں روئی ٹھونس رکھی تھی کہ مبادا آپ کی کوئی بات میرے کان میں پڑ جائے۔ لیکن اللہ کو منظور تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتیں مجھے سنا ہی دے۔ چنانچہ میں نے بڑا عمدہ کلام سنا۔ پھر میں نے اپنے جی میں کہا": ہائے مجھ پر میری ماں کی آہ و فغآں! میں تو بخدا ایک سوجھ بوجھ رجھنے والا شاعر آدمی ہوں مجھ پر بھلا برا چھپا نہیں رہ سکتا، پھر کیوں نہ میں اس شخص کی بات سنوں؟ اگر اچھی ہوئی تو قبول کر لوں گا۔بری ہوئی تو چھوڑ دوں گا۔ یہ سوچ کر میں رک گیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پلٹے تو میں بھی پیچھے ہو لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے تو میں بھی داخل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آمد کا واقعہ اور لوگوں کے خوف دلانے کی کیفیت، پھر کان میں روئی ٹھونسنے کی اور اسکے باوجود آپ کی بعض باتیں سن لینے کی تفصیلات بتائیں، پھر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات پیش کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر اسلام پیش کیا اور قران کی تلاوت فرمائی۔خدا گواہ ہے: میں نے اس سے عمدہ قول اور اس سے زیادی انصاف کی بات کبھی سنی نہ تھی، چنانچہ میں نے وہیں اسلام قبول کر لیا اور حق کی شہادت دی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری قوم میں میری بات مانی جاتی ہے۔میں ان کے پاس پلٹ کر جاؤں گا اور انہیں اسلام کی دعوت دونگا۔لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے کوئی نشانی دے دے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔
    حضرت طفیل کو جو نشانی عطا ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ جب وہ اپنی قوم کے پاس پہنچے تو اللہ نے ان کے چہرے پر چراغ جیسی روشنی پیدا کردی۔ انہوں نے کہا: " یا اللہ چہرے کے بجائے کسی اور جگہ۔مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اسے مثلہ کہیں گے"۔ چاننچہ یہ روشنی انکے ڈنڈے میں پلٹ گئی۔پھر انہوں نے اپنے والد اور اپنی بیوی کو اسلام کی دعوت دی۔ اور وہ دونوں مسلمان ہو گئے لیکن قوم نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی۔ مگر حضرت طفیل بھی کوشاں رہے۔حتّیٰ کے غزوۃ خندق کے بعد(9) جب انہوں نے ہجرت فرمائی تو انکے ساتھ انکی قوم کے 70 یا 80 خاندان تھے۔ حضرت طفیل رضی اللہ عنہ نے اسلام میں بڑے اہم کارنامے انجام دے کر یمامہ کی جنگ میں جام شہادت نوش فرمایا۔(10)
    5- ضماد ازدی:- یہ یمن کے باشندے اور قبیلہ ازوشنوہ کے ایک فرد تھے۔ جھاڑ پھونک کرنا آسیب اتارنا ان کا کام تھا۔ مکہ آئے تو وہاں کے احمقوں سے سنا کہ محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پاگل ہیں۔ سوچا کیون نہ اس شخص کے پاس چلوں ہو سکتا ہے اللہ میرے ہی ہاتھوں اسے شفا دے دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ اور کہا: اے محمّد ! میں آسیب اتارنے کیلئے جھاڑ پھونک کیا کرتا ہوں کیا آپ کو بھی اسکی ضرورت ہے؟
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ان الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ، واشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمّدا عبدہ ورسولہ، اما بعد:
    یقینا" ساری تعریف اللہ کے لئے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اور اسی سے مدد چاہتے ہیں۔جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے اللہ بھٹکا دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،وہ تنہا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمّد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔"
    ضماد نے کہا: ذرا اپنے یہ کلمات مجھے پھر سنا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا۔اس کے بعد ضماد نے کہا: میں کاہنوں، جادوگروں اور شاعروں کی بات سن چکا ہوں لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان جیسےکلمات کہیں نہیں سنے۔یہ تو سمندر کی اتھاہ گہرائی کو پہنچے ہوئے ہیں۔ لائیے اپنا ہاتھ بڑھایئے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کروں، اس کے بعد انہوں نے بیعت کر لی۔(11)

    (9) بلکہ صلح حدیبیہ کے بعد کیونکہ جب وہ مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے۔دیکھئے ابن ہشام 1/385

    (10) ابن ہشام 1/182-185، رحمتہ للعالمین 1/81-82، مختصر السیرۃ للشیخ عبداللہ ص 144
    (11) صحیح مسلم۔ مشکواۃ المصابیح باب علامات النبوّۃ 2/525
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں