ابنِ تیمیہ

Jaamsadams نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏فروری 27, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,446
    استغفراللہ Jaamsadams بھائی کچھ تو اللہ کا خوف کریں
    آپ کے یہ جملے پڑھنا بھی مشکل ہے
    جزاکم اللہ باذوق بھائی اور عکاشہ بھائی
    میں مزید کے لئے انتظار کروں گی
     
  2. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    میں انتظامیہ سے گذارش کروں گا کہ ان صاحب کو رافضیوں کی سائیٹ سے مواد کاپی پیسٹ کرنے سے باز رکھا جائے۔

    Jaamsadams صاحب ، مجھے علم ہے کہ آپ کون سی سائیٹس سے یہ مواد کاپی پیسٹ کر رہے ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ اتنی محنت کر کے مجلس کے قیمتی صفحات ضائع کرنے کے بجائے ، صرف لنک دے دیا کریں تو ہم پر مہربانی ہوگی۔ ورنہ میں انتظامیہ سے شکایت کرنے میں حق بجانب رہوں گا۔

    جس کتاب کا حوالہ آپ دے رہے ہیں ، اس کی قدر و قیمت صرف اسی لنک سے معلوم کرلیں جہاں صاف لکھا ہے کہ یہ کتاب Library of al-Shia.Com پر موجود ہے۔ آپ کو تو غالباً اس کے مصنف کا بھی نام معلوم نہیں ہوگا جو کہ ہندوستانی ہے اور جس نے یہ کتاب امام ابن تیمیہ کے خلاف اپنا بغض ظاہر کرنے کے لیے اسی بیسویں صدی میں تحریر فرمائی ہے۔
    ابن تیمیہ ہوں یا کوئی اور امام/عالم ۔۔۔۔ ان کے کردار یا ان کے علم کو غلط ثابت کرنا ہو تو ان کے مخالف عقیدہ کے حامل ہمعصر نہیں بلکہ ان کے ہمخیال اور ہم عقیدہ ہمعصروں کی تنقید درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی امام/عالم کی تعریف ، اس کے مخالفین کے قلم سے کی جائے تو وہ معتبر مانی جاتی ہے۔

    لہذا آپ ان ائمہ و علماء سلف الصالحین کی تنقید لے آئیں جنہوں نے امام ابن تیمیہ کو گمراہ قرار دیا ہو۔
    شیعہ و روافض یا معتزلہ یا خوارج کی تنقید کو کاپی پیسٹ کرنے سے باز آئیں !!
     
  3. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    میں پچھلی پوسٹ میں ہی کہہ چکا ہوں کہ ۔۔۔۔ امام ابن تیمیہ علیہ الرحمۃ کے عقائد کو غلط ثابت کرنا ہو تو حوالے انہی کی کتب سے دئے جانے چاہئے۔ اور اصل عربی تحریر بھی دینا لازمی ہے۔
    ورنہ جھوٹے تو ہر دور میں پائے جاتے رہے ہیں۔
    شیعہ ، روافض ، خوارج ، معتزلہ ، صوفیاء وغیرہ کو امام صاحب نے جس طرح قرآن و سنت کے محکم دلائل سے ہرایا ہے ، وہ شکست برسوں گزرنے کے بعد آج بھی ان کی معنوی اولاد کے ذہنوں سے فراموش نہیں ہوئی ہے۔

    لہذا مخاصمت کے جوش میں آج سے کوئی 70، 80 برس قبل جامعہ ازھر کے کسی صوفی کی لکھی ہوئی کتاب [qh]تطهير الفؤاد من دنس الاعتقاد[/qh] کے جھوٹے حوالے ہمارے نزدیک ردی کی ٹوکری کی نذر کرنے کے قابل ہیں !!

    حوالہ دینا ہو تو امام ابن تیمیہ کی اصل کتب سے دیجئے ورنہ وقت کا ضیاع کر کے انتشار پھیلانے سے باز آ جائیں تو بڑی مہربانی ہوگی !!
     
  4. Jaamsadams

    Jaamsadams -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 12, 2009
    پیغامات:
    52
    تیمیہ کی خود اسکے ہم عصر علماء کی اکثریت نے مخالفت کی اور اسے خارج از اسلام قرار دیا۔

    آقا کریم روف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی میری امت (کی اکثریت) کو گمراہی پر جمع نہ فرمائے گا، اس تیمیہ کی گمراہی پر تمام آئمہ (بشمول موجودہ) نے ہمیشہ اجماع کیا اس سے زیادہ بدبختی اور کیا ہوگی اس کی-

    حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے تراویح کی بیس رکعت مقرر فرمائیں پوری امت بشمول صحابہ اکرام رصی اللہ تعالی عنہ نے اس پر اجماع کیا، لیکن 900 سال بعد اس بدبخت نے اجماع امت کی مخامفت کرتے ہوئے وھابیت و دیوبندیت (نجدیت) کی ابتداء کرتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی مخالفت کرکے اجماع امت سے انحراف کرنے کا ارتکاب کیا

    اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بیک وقت تیں طلاق کا اصول اجماع صحابہ و امت سے مرتب کیا لیکن اس بدبخت کی شامت اعمال کہ یہاں بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی مخالفت کا مرتکب ہوا اور بہت سے مسلمانوں کو گناہ زنا پر ڈالنے کا مرتکب ہوا۔

    آج اس کے دلدادہ ٹولے کو تیمیہ کے خود ساختہ عقائد (جن پر کبھی بھی امت کا اجماع نہ تھا نہ ہی آج ہے) سے انحراف گناہ نظر آتا ہے لیکن اس بدبخت کا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر اکابر صحابہ اکرام اور آئمہ امت سے انحراف شائد صحابہ اکرام کے بغض کی پٹی چڑھی ہونے کی وجہ سے نظر نھیں آتا

    تیمیہ کے حق میں کوٰئی ایک فرمان رسول ہے کہ اس کی زبان پر حق بولتا ہو؟

    بدبختو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ حق عمر (رضی اللہ تعالی عنہ) کی زبان پر بولتا ہے-

    حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں اللہ کے محبوب دانائے غیوب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔

    تم حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر اس تیمیے کے قول کو ترجیع دیتے ہو - انا للہ و انا علیہ راجعون
     
  5. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    جیمز اڈمز صاحب !

    کافی سے زیادہ احمق ہونے کے ساتھ ساتھ ، فہم و علم دونوں سے عاری ہیں بلکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا دماغ علمی و تحقیقی کام کا بوجھ بھی برداشت نہ کرسکتا ہو اسی لئے آپ کے لہجے و تحریر میں اس کا عکس اتنا نمایاں ہے کہ عقل حماقت کے اس درجے کو دیکھ کر بھی حیران ہوتی ہے

    حضرت عمر رض کے متعلق بہرحال آپ کی بات کافی درست ہے کہ آپ رض کا درجہ واقعی کافی بلند تھا، لیکن میرے دوست حضرت عمر رض بھی ایسے لوگوں کے سخت مخالف تھے جو اسلام کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں

    ذرا ایک بات کا جواب دیجیے کہ اگر احمد رضا بریلوی اس زمانے میں ہوتے اور ایسی کوئی حرکت فرماتے جس کے آپ پیرو کار ہیں تو ذرا غور فرمائیے کہ اس مرد مومن کا درا احمد رضا بریلوی کو ٹھیک کرتا یا وہ اس کی گردن مارنے کا حکم جاری کرتے کیونکہ بقول آپ کے حضرت عمر رض کے منسوب تمام حکایات درست ہیں
     
  6. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    او بھائی خوف خدا کرو

    کہاں کہاں سے یہ مواد اکٹھا کر کے اپنی علمی قابلیت کا سکہ جمانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔۔ بھائی اس قسم کی بحث سے بہتر ہے کہ کسی اچھی درسگاہ سے کچھ پڑھ بھی لو ۔ ۔ ۔ اور یہ ہری یا کتھئی پگڑی سے سر کو باہر نکالو تاکہ اس کو کچھ ہوا لگے اور دماغ کسی اور طرف بھی سوچنے کے قابل ہو

    بہرحال اللہ کا خوف کرو بھائی ۔ ۔۔ اللہ آپ کے حال پر رحم فرمائے
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,859
    السلام علیکم !
    سبحانک ھذا بہتان عظیم
    جیسا کہ مجھے پہلے دن سے ہی توقع تھی کہ جیمز ایڈم کاپی پیسٹ کر رہے ہیں ۔۔ اس لیے انھوں نے آیت اللہ جعفر سبحانی کے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر کیے گئے الزمات کو یہاں پیسٹ کیا ۔ گویا وہ اہل سنت کے لبادے میں ایک رافضی ہیں ۔۔ اسکے ساتھ ہی اندھے مقلد بھی ہیں ۔
    اور ایسی تقلید کے بارے میں ہی امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ '' اایسا شخص جاہل ، ظالم اور رافضیوں کی طرح ہے ''(مجموع فتاوی )۔۔۔

    تو دوستو ! رافضیوں کے اعتراضات اوربدزبانی اور تبرے پر پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔ کیونکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا نام ہی ان کے مخالفوں کے لیے ہلاکت کا باعث ہے ۔ اور ان کی اس تبرابازی سے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا، بلکہ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو کسی ہر بلاوجہ تبرا کرتا ہے تو فرشتے اس کی طرف سے جواب دیتے ہیں ۔۔ ویسے بھی انسان کے اندر جو ہوتا ہے وہی باہر آتا ہے ۔
     
  8. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,859
    اب جب کہ یہ واضح‌ ہو چکا کہ آپ کا تعلق کس جماعت سے ہے اور آپ کےکیا عقائد ہیں ۔۔۔ گویا آپ کا عقیدہ اہل سنت والجماعت کا نہیں‌۔۔۔ تو پھر کسی سبائی گروہ کی نسبت کافی ہی آپ کے لیے کافی ہے ۔۔۔ !!
    مکرر عرض ہے کہ کون سے علماء ہیں جنھوں نے اعتراض کیا ہے اور کس مسئلے پر کیا ہے ۔۔ شیخ الا سلام کی کوئی کتاب کا حوالہ تو ہو گا ؟
    کیسا انحراف کیا ؟ یہی کہ تراویح کی رکعت کی تعداد گیارہ ہے ؟ ۔۔۔ آپ کا یہ اعتراض امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر نہیں بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر ہے ۔۔ کیونکہ صحیح احادیث موجود ہیں جس سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔۔۔

    اس کی بھی دلیل چاہے کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح‌ قول موجود ہو تو کسی صحابی کا قول رد کر دینا گناہ کا باعث ہوتا ہے ،،کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے فضائل کی کسی حدیث سے یہ قطعا ثابت نہیں ہوتا کہ اس کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مقابل میں اہمیت کی حامل ہے ۔۔۔!!! کیا اس کی کوئی دلیل ہے ؟
     
  9. asim10

    asim10 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 3, 2009
    پیغامات:
    187
    اسلام علیکم
    پھر وہی تکرار برائے تنقید۔بھائیوں‌آپ دونوں‌سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا ابن تیمیہ ہمارے لیے حجت ہیںِ نہیں‌ہر گز نہیں‌،بلکہ اگر ابن تیمیہ سے بڑا بھی کوئی عالم ہو چاہے وہ امام ابو حنیفہ ہی ہوں‌ ہمارے لیے وہ بھی حجت نہیں۔حجت تو صرف قرآن اور صحیح‌حدیث ہی ہے۔
    جام صاحب آپ سے گزارش ہے کہ آپ نے جو حوالے بھی دیے ہیں‌ابن تیمیہ کے انکو قرآن و حدیث سے غلط ثابت کریں، کسی عالم کے فتوں سے نہیں‌۔کیونکہ مخالفین تو ہر شخص کے اور ہر دور میں ہوتے ہیں۔اس طرح‌کسی کو غلط ثابت نہیں‌کیا جا سکتا۔،‌،ورنہ اسطرح تو میں‌بھی آپکے احمد رضا پر وہ وہ اعتراض کر سکتا ہوں‌ کہ آپ انکا جواب نہیں‌دے سکیں گے۔اسلیے مہر بانی فرما کر اپنے اعتراضات ضرور کریں‌ پر معقول اور قرآن و سنت کے مطابق

    اور اسکے علاوہ میرے ناظم حضرات سے گزارش ہے کہ اس طرح جام صاحب کو کھلا نہ چھوڑیں بلکہ جب تک جام صاحب اپنے اعتراض‌کا جواب پیش‌نہیں‌کرتےانکو اگلہ پوسٹ سے روکیں۔
    جزاکاللہ
     
  10. ابوسفیان

    ابوسفیان -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2007
    پیغامات:
    624
    السلام علیکم
    Jaamsadams کی جانب سے اس موضوع پر پوسٹ ہونے والے مزید مراسلات کو اس وقت تک منتظر رکھا جائے گا تاوقتیکہ Jaamsadams صاحب دیگر اراکین کے اٹھائے گئے معقول سوالات کا جواب نہ دیں۔
     
  11. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    959
    السلام علیکم!

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ جیسی شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتی ہیں۔ ایک ہی شخص اپنے اندر لاتعداد خوبیاں سموئے ہوئے۔ حدیث رسول کا علم ہو کہ مزاہب کی تحقیق۔ قرآن کی متعدد تفاسیر ہوں کہ فقہ کی موشگافیاں۔ باطل فرقوں کا رد ہو کہ صوفیا اور رافضیوں کہ ساتھ مناظرہ اور مباہلہ۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا ہوں کہ میدان جہاد میں مسلمانوں کی تاتاریوں‌کے خلاف جہاد پر آمادہ کرنا۔ خلیفہ وقت پر مسلمانوں کی کافروں کے مقابلے میں اہمیت آشکار کرنا یہ سب شیخ الاسلام ابن تیمہ رحمتہ اللہ علیہ کے کارنامے تھے۔ قلم اور تلوار سے جہاد کرنے والے ان مجاہد سےاس دور میں‌بھی بدعتی خار کھاتے تھے اور آج بھی کھاتے ہیں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 3, 2009
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,859
    وعلیکم السلام
    اللہ آپ کو جزائے خیر دے عاصم بھائی ۔۔۔ بڑی اچھی بات کہی آپ نے کہ ہمارے لیے کوئی بھی حجت نہیں ۔۔۔ ہمارے لیے حجت صرف قرآن وحدیث ہے ۔۔۔ لیکن اس تھریڈ میں اس پر بات نہیں پو رہی کہ کون حجت ہے اور کون نہیں ۔۔۔
    اور اگر کسی کا علم قرآن وحدیث کے حوالوں کے ساتھ موجود ہو ۔۔۔ جیسا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ''' عقیدتہ الواسطیہ '' تو پھر ہمارا یہ حق بنتا ہے کہ ہم معترض سے پوچھیں کہ جو اعتراض آپ کر رہے ہیں ۔۔۔ ان کی کس کتاب میں موجود ہیں ۔۔۔ اور قرآن وحدیث کو سب مانتے ہیں ۔۔۔ لیکن قرآن وحدیث کی کوئی نہیں‌ مانتا ۔۔۔۔ جب قرآن وحدیث کی بات آتی ہے ۔۔۔ اور مسئلہ واضح‌ ہو تا ہے ۔۔ تو انسان یہ کہ کر جان چھوڑا لے کہ کوئی بھی عالم ہمارے لیے حجت نہیں ۔۔۔ یہ کوئی مناسب نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کو اللہ نے قرآن وحدیث کی حفاظت کی توفیق دی ۔۔۔ ہمارا یہ حق ہے کہ اسی قرآن اور حدیث کے حوالوں کےساتھ معترضین کی اصلاح کریں (میرا کہنے کا یہ بھی مقصد نہیں‌ کہ کوئی عالم معصوم عن الخطا ہے )‌

    اور یہی بات عکاشہ بھائی نے پوسٹ نمبر دو میں کہی تھی ۔۔۔ کہ جب تک جیم ایڈمز قرآن وحدیث کے ساتھ عقیدہ بیان نہ کریں ۔۔۔ اس کی کسی بات کا جواب نہیں‌ دیا جائے ۔۔۔ انھوں نے واقعی قرآن و حدیث کے حوالوں‌کے ساتھ عقیدہ بیان نہیں کیا تھا ۔۔۔ اس لیے ان کی پوسٹس منتظر میں رکھی جانی چاہیے تھیں ۔۔۔ بھلا ہو آپ کا کہ آپ کی بات پر فورا ایکشن لیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ جزیت خیرا ۔۔۔۔ اس طرح‌ کے بحثوں میں شامل رہا کیجئے کیونکہ اس سے علم میں اضافہ ہوتا ہے ۔
     
  13. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    جناب دنیال صاحب،

    کیا Jaamsadamsصاحب نے ابن تیمہ صاحب کے جو عقائد بیان کئے ھیں کیا Jaamsadamsصاحب نے غلط بیانی سے کام لیا ھیے یا ابن تیمہ صاحب کے عقائد یہی ھیں
    بھائی بہتر تو یہ تھا آپ ابن تیمہ صاحب کے عقائد بیان فرما دیتے جو ان عقائد کی ضد ھیں اور اگر ابن تیمہ صاحب کے یہ عقائد یہی ھیں تو ان کو قرآن و سنت سے ثابت کردیتے مسئلہ ختم ھوجاتا
    یہ میری ناقص رائے ھے کیونکہ میں ایک ادنٰی سا طالب علم ھوں
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    امام ابن تيمیہ رحمت اللہ علیہ کے عقائد جاننے كے ليے ان كى اس مختصر تصنيف كا مطالعہ كريں

    عقیدہ واسطیہ
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    كيا امام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے زيارت قبور كو گناہ اور ناجائز قرار ديا تھا؟


    امام ابن تيميہ رحمہ اللہ پر ان كے متعصب مخالفين كى جانب سے جو بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں ان ميں سے ايك يہ بھی ہے کہ : "امام ابن تيميہ رحمہ اللہ انبياء اور صالحين كى قبور كى زيارت كے ليے سفر كو ناجائز اور گناہ قرار ديتے ہیں۔"

    يہی بات Jaamsadams نے بايں الفاظ دہرائى ہے ۔

    حقيقت ميں یہ الزام قطعى بے بنياد ہے۔ امام ابن تيمیہ رحمہ كے شاگرد رشيد حافظ ابن كثير رحمہ اللہ نےاپنی شہرہ آفاق تصنیف البدايہ والنہایہ ميں اس الزام كى حقيقت يوں بيان فرمائى ہے :

    " انہوں نے زيارت قبور كے ليے رختِ سفر باندھنے كو ناجائز قرار ديا تھا، نہ كہ زيارتِ قبور كو ! اس كى فضيلت تو ان كى كتابوں ميں جا بجا ملتى ہے ۔ مگر ان پر جھوٹا الزام لگا كر ان كو سزا دلوائى گئی ۔"

    حافظ ابن كثير رحمہ اللہ کے الفاظ ملاحظہ فرمائيے :
    [QH]
    فانظر الآن هذا التحريف على شيخ الاسلام، فإن جوابه على هذه المسألة ليس فيه منع زيارة قبور الانبياء والصالحين، وإنما فيه ذكر قولين في شد الرحل والسفر إلى مجرد زيارة القبور، وزيارة القبور من غير شد رحل إليها مسألة، وشد الرحل لمجرد الزيارة مسألة أخرى، والشيخ لم يمنع الزيارة الخالية عن شد رحل، بل يستحبها ويندب إليها، وكتبه ومناسكه تشهد بذلك، ولم يتعرض إلى هذه الزيارة في هذه الوجه في الفتيا، ولا قال إنها معصية، ولا حكى الاجماع على المنع منها، ولا هو جاهل قول الرسول " زوروا القبور فإنها تذكركم الآخرة " (1) والله سبحانه لا يخفى عليه شئ، ولا يخفى عليه خافية، (وسيعلم الذين ظلموا أي منقلب ينقلبون) [ الشعراء: 227 ].[/QH]

    بحوالہ: البدايہ والنہایہ، ج 14، ص 143،

    مثل مشہور ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ۔ شيخ الاسلام امام ابن تيميہ رحمہ اللہ كے متعصب مخالفين اس الزام كو دہراتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ اب شيخ الاسلام رحمہ اللہ کا يہ فتوى ( فتوى زيارة القبور) مكمل حالت ميں آن لائن مطالعے اور ڈاؤن لوڈ کے ليے ميسر ہے ۔ انصاف پسند قارئين سے التماس ہے کہ درج ذيل ربط سے ڈاؤن لوڈ كرکےمطالعہ كريں اور سچائى جان ليں ۔
    بشکریہ :شبکہ مشکاہ الاسلامیہ
    ���� ����� ���������
     
  16. سلمان ملک

    سلمان ملک -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2009
    پیغامات:
    925
    امام ابن تيميہ رحمہ اللہ پے الزام لگانے والو ں کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا یہ عقیدہ بھی سامنے رکھ کر الزام لگانا چاہیے کہیں انگلی اپنی طرف نا جا رہی ہو

    اب زرا دیکھتے ہیں کہ کیا یہ عقیدہ امام ابو حنیفہ کا بھی ہے جن کی طرف احناف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں
    امام صاحب نے کہا ، کسی کیلئے درست نہیں کہ وہ اللہ سے دعا کرے مگر اسی کے واسطے سے ،اور جس دعا کی اجازت ہے اور جس دعا کا حکم ہے وہ وہی ہے جو اللہ تعالی کے اس قول سے مستفاد ہے ٭ سورة الاٴعرَاف آیت 180 ٭ اور اللہ کے سب نام اچھے ہی ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں الحاد اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے ،
    الدر المختار مع حاشیہ رد المختار 6/ 396 ، 397

    عقیدہ شرح الطحاویہ میں امام ابو حنیفہ کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے صفحہ نمبر 234 پے
    ابو حنیفہ نے کہا ، مکروہ ہے کہ دعا کرنے والا یوں کہے کہ میں بحق فلاں ، یا بحق انبیاء ورسل تیرے ، یا بحق بیت حرام و مشعر حرام تجھ سے سوال کرتا ہوں
    زرا نظر ڈال لیں اس پر بھی جناب
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں