یثرب کی چھہ سعادت مند روحیں

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏فروری 27, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    یثرب کی چھہ سعادت مند روحیں:​

    گیارھویں سن نبوت کے موسم حج (جولائی 630ء) میں اسلامی دعوت کو چند کارآند بیج دستیاب ہوئے جو دیکھتے دیکھتے سروقامت درختوں یں تبدیل ہو گئے، اور انکی لطیف اور گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر مسلمانوں نے برسوں کے ظلم و ستم کی تپش سے راحت و نجات پائی۔ اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا جو بیڑا اٹھارکھا تھا اس کے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی یہ تھی کہ آپ رات کی تاریکی میں قبائل کے پاس تشریف لیجاتے تاکہ مکّے کا کوئی مشرک رکاوٹ نی ڈال سکے۔
    اس حکمت عملی کے مطابق ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق رضٰ اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہمراہ لے کر باہر نکلے۔ بنو ذبل اور بنو شیبان بن ثعلبہ کے ڈیروں سے گزرے تو ان سے اسلام کے بارے میں بات چیت کی۔انہوں نے جواب تو بڑا حوصلہ افزا دیا لیکن اسلا قبول کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا۔ اس موقع پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور بنو ذبل کے ایک آدمی کے درمیان سلسلہ نسب کے متعلق بڑے دلچسپ سوال و جواب بھی ہوئے۔ دونوں ہی ماہر انساب تھے۔ (12)
    اسکے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ کی گھاٹی سے گزرے تو کچھ لوگوں کو باہم گفتگو کرتے سنا۔(13) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھے انکا رخ کیااور انکے پاس جا پہنچے۔یہ یثرب کے چھہ جوان تھے اور سب کے سب قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ انکے نام یہ ہیں:

    (1) سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ ، (2) عوف بن حارث بن رفاعہ رضی اللہ عنہ (ابن عفراء) (قبیلہ بنی النجّار)
    (3) رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ (قبیلہ بنی زریق)
    (4) قطبہ بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ ( قبیلہ بنی سلمہ)رضی اللہ عنہ
    (5) عقبہ بن عامر بن نابی رضی اللہ عنہ ( قبیلہ بنی حرام بن کعب)
    (6) حارث بن عبداللہ بن رباب رضی اللہ عنہ (قبیلہ بنی عبید بن غنم)

    یہ اہل یثرب کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اپنے ھلیف یہود مدینہ سے سنا کرتے تھے کہ اس زمانے میں ایک نبی بھیجا جانے والا ہے اور اب جلد ہی نمودار ہوگا۔ ہم اسکی پیروی کرکے اسکی معیت میں تمہیں عاد ارم کی طرح قتل کر ڈالیں گے۔(14)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس پہنچ کر دریافت کیا کہ آپ کون لوگ ہیں؟
    انہوں نے کہا: ہم قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" یعنی یہود کے حلیف؟"۔ بولے: ہاں۔ فرمایا: " پھر کیوں نہ آپ حضرات بیٹھیں،کچھ بات چیت کی جائے"۔ وہ لوگ بیٹھ گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام کی حقیقت بیان فرمائی۔انہیں اللہ عزّوجل کی طرف دعوت دی اور قران کی تلاوت فرمائی۔انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: بھئی دیکھو! یہ تو وہی نبی معلوم ہوتے ہیں جن کا حوالہ دے کر یہود تمہیں دھمکیاں دیا کرتے ہیں۔لہذا یہود تم پر سبقت نہ لیجانے پائیں۔اسکے بعد انہوں نے فورا" آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرلی اور مسلمان ہو گئے۔
    یہ یثرب کے عقلاء الرجال تھے۔حال ہی میں جو جنگ گزر چکی تھی اور جسکے دھویں اب تک فضا کو تاریک کئے ہوئے تھے،اس جنگ نے انہیں چور چور کر دیا تھا، اسلئے انہوں نے بجا طور پر یہ توقع قائم کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت جنگ کے خاتمے کا ذریعہ ثابت ہوگی۔چنانچہ انہوں نے کہا: "ہم اپنی قوم کو اس حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ کسی اور قوم میں ان کے جیسی عداوت اور دشمنی نہی پائی جاتی۔امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے انہیں یکجا کر دے گا۔ ہم وہاں جا کر لوگوں کو آپ کے مقصد کی طرف بلائیں گے اور جو دین ہم نے خود قبول کر لیا ہے ان پر بھی پیش کریں گے۔اگر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کو یکجا کر دیا تو پھر آپ سے بڑھ کر کوئی اور معزّز نہیں‌ہوگا"۔
    اس کے بعد جب یہ لوگ مدینہ واپس ہوئے تو اپنے ساتھ اسلام کا پیغام بھی لے گئے ۔چنانچہ وہاں گھر گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا پھیل گیا۔(15)
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح:​

    اسی سال شوّال 11 سن نبوّت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رجی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چھہ برس تھی۔ پھر ہجرت کے پہلے سال شوّال ہی کے مہینہ میں مدینہ کے اندر انکی رخصتی ہوئی۔اس وقت انکی عمر نو برس تھی۔(16)


    (12) دیکھئے مختصر السیرۃ للشیخ عبداللہ ص 150-152
    (13) رحمتہ للعالمین 1/84
    (14) زاد المعاد 3/50، ابن ہشام 1/ 439-441
    (15) ابن ہشام 1/430-438
    (16) تلقیح الفہوم ص 10، صحیح البخاری 1/550
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں