دوسری بیعت عقبہ

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏مارچ 4, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    دوسری بیعت عقبہ​

    نبوت کے تیرھویں سال موسم حج (جون سن 622ء) میں یثرب کے ستّر سے زیادہ مسلمان فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے مکہ تشریف لائے۔ یہ اپنی قوم کے مشرک حاجیوں میں شامل ہو کر آئے تھے اور ابھی یثرب ہی میں تھے یا مکہ کے راستے ہی میں تھے کہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم کب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یونہی مکّے کے پہاڑوں میں چکر کاٹتے،ٹھوکریں کھاتے اور خوفزدہ کئے جاتے چھوڑے رکھیں گے؟
    پھر جب یہ مسلمان مکہ پہنچ گئے تو در پردہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سلسلہ اور رابطہ شروع کیا اور آخرکار اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ دونوں فریق ایام تشریق (1) کے درمیانی دن 12 ذی الحجہ کو منیٰ میں جمرۃ اولیٰ یعنی جمرۃ عقبہ کے پاس جو گھاٹی ہے اسی میں جمع ہونگے اور یہ اجتماعات رات کی تاریکی میں بالکل خفیہ طریقے پر ہو۔
    آئیے اب اس تاریخی اجتماع کے احوال، انصار کے ایک قائد کی زبانی سنیں کہ یہی وہ اجتماع ہے جس نے اسلام اور بت پرستی کی جنگ میں زمانہ کا رخ موڑ دیا۔
    حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    ہم لوگ حج کیلئے نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایّام تشریق کے درمیانی روز عقبہ میں ملاقات طے ہوئی۔اور بالآخر وہ رات آ گئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات طے تھی۔ہمارے ساتھ ہمارے ایک معزّز سردار عبداللہ بن حرام بھی تھے (جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے) ہم نے ان کو ساتھ لے لیا تھا-------- ورنہ ہمارے ساتھ ہماری قوم کے جو مشرکین تھے ہم ان سے اپنا سارا معاملہ خفیہ رکھتے تھے۔------- مگر ہم نے عبداللہ بن حرام سے بات چیت کی اور کہا کہ اے ابو جابر! آپ ہمارے ایک معزز اور شریف سربراہ ہیں اور ہم آپ کو آپ کی موجودہ حالت سے نکالنا چاہتے ہیں تاکہ کل کلاں کو آپ آگ کا ایندھن نہ بن جائیں۔ اسکے بعد ہم نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور بتلایا کہ آج عقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری ملاقات طے ہے۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ہمارے ساتھ عقبہ میں تشریف لیگئے اور نقیب بھی مقرر ہوئے۔
    حضرت کعب رضی اللہ عنہ واقعے کی تفصیلات بیاں کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہم لوگ حسب دستور اس رات اپنی قوم کے ہمراہ اپنے ڈیروں میں سوئے، لیکن جب تہائی شب گزر گئی تو اپنے ڈیروں سے نکل نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طے شدہ مقام پر جا پہنچے۔ ہم اسطرح چپکے چپکے دبک کر نکلتے تھے جیسے چڑیا گھونسلے سے سکڑ کر نکلتی ہے، یہاں تک کہ ہم سب عقبہ میں جمع ہو گئے۔ ہماری کل تعداد پچھتّر تھی۔ تہتّر مرد اور دو عورتیں۔ ایک امّ عمارہ نسیبہ بنت کعب رضی اللہ عنہا تھیں جو قبیلہ بنو مازن بن نجار سے تعلق رکھتی تھیں اور دوسری امّ منیع اسماء بنت عمرو تھیں جن کا تعلق قبیلہ بنو سلمہ سے تھا۔
    ہم سب گھاٹی میں جمع ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاانتظار کرنے لگے آخر وہ لمحہ بھی آ ہی گیا جب آپ تشریف لائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب بھی تھے۔ وہ اگرچہ ابھی تک اپنی قوم کے دین پر تھے مگر چاہتے تھے کہ اپنے بھتیجے کے معاملے میں موجود رہیں اور ان کیلئے پختہ اطمینان حاصل کر لیں۔سب سے پہلی بات بھی انہیں نے شروع کی۔(2)

    گفتگو کا آغاز اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف سے معاملے کی نزاکت کی تشریح:​

    مجلس مکمل ہو گئی تو دینی اور فوجی تعاون کے عہدو پیمان کو قطعی اور آخری شکل دینے کیلئے گفتگو کا آغاز ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ نے سب سے پہلے زبان کھولی۔ ان کا مقصود یہ تھا کہ وہ پوری صراحت کے ساتھ اس ذمہ داری کی نزاکت واضح کردیں جو اس عہدوپیمان کے نتیجے میں ان حضرات کے سر پڑنے والی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کہا:
    خزرج کے لوگو! عام اہل عرب انصار کے دونوں ہی قبیلے یعنی خزرج اور اوس کو خزرج ہی کہتے تھے۔ ہمارے اندر محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حیثیت ہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ ہماری قوم کے جو لوگ دینی نقطہ نظر سے ہمارے ہی جیسی رائے رکھتے ہیں، ہم نے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے محفوظ رکھا ہے۔ وہ اپنی قوم اور اپنے شہر میں قوت و عزّت اور طاقت و حفاظت کے اندر ہیں، مگر اب وہ تمہارے یہاں تمہارے جانے اور تمہارے ساتھ لاحق ہونے پر مصر ہیں؛ لہذا اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ تم انہیں جس چیز کی طرف بلا رہے ہو اسے نبھا لوگے اور انہیں ان کے مخالفین سے بچا لو گے تب تو ٹھیک ہے تم نے جو ذمے داری اٹھائی ہے اسے تم جانو۔ لیکن اگر تمہارا یہ اندازہ ہے کہ تم انہیں اپنے پاس لے جانے کے بعد ان کا ساتھ چھوڑ کر کنارہ کش ہو جاؤگے تو پھر ابھی سے انہیں چھوڑ دو کیونکہ وہ اپنی قوم اور اپنے شہر میں بہر حال عزت و حفاظت سے ہیں۔
    حجرت کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی بات ہم نے سن لی۔اب اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ گفتگو فرمائیے اور اپنے لئے اور اپنے رب کیلئے جو عہدوپیمان پسند کریں لیجئے۔(3)
    اس جواب سے پتہ چلتا ہے کہ اس عظیم ذمے داری کو اٹھانے اور اس کے پرخطر نتائج کو جھیلنے کے سلسلے میں انصار کے عزم محکم، شجاعت و ایمان اور جوش و اخلاص کا کیا حال تھا۔ اسکے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو فرمائی۔ آپ نے پہلے قران کی تلاوت کی، اللہ کی طرف دعوت دی اور اسلام کی ترغیب دی۔اسکے بعد بیعت ہوئی۔

    بیعت کی دفعات:​

    بیعت کا واقعہ امام احمد نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کریں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس بات پر کہ:
    (1) چستی اور سستی ہر حال میں بات سنو گے اور مانو گے۔
    (2) تنگی اور بدحالی ہر حآل میں مال خرچ کروگے۔
    (3) بھلائی کا حکم دوگے اور برائی سے روکو گے۔
    (4) اللہ کی راہ میں اٹھ کھڑے ہوگے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کروگے۔
    (5) اور جب میں تمہارے پاس آجاؤں گا تو میری مدد کروگے اور جس چیز سے اپنی جان اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو اس سے میری بھی حفاظت کروگے۔
    اور تمہارے لئے جنّت ہے"۔(4)
    حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ---- جسے ابن اسحٰق نے ذکر کیا ہے ---- صرف آخری دفعہ (5) کا ذکر ہے۔چنانچہ اس میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کی تلاوت ، اللہ کی طرف دعوت اور اسلام کی ترغیب دینے کے بعد فرمایا:
    " میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اس چیز سے میری حفاظت کرو گے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو۔" اس پر حضرت برار بن معرور رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا ہاں! اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے ہم یقینا" اس چیز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرینگے جس سے اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں ------- لہذا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہم سے بیعت لیجئے۔ ہم خدا کی قسم جنگ کے بیتے ہیں اور ہتھیار ہمارا کھلونا ہے۔ہماری یہی ریت باپ دادا سے چلی آ رہی ہے۔
    حضرت کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر ہی رہے تھے کہ ابو الہیثم رضی اللہ عنہ بن تیہان نے بات کاٹتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے اور کچھ لوگوں ----- یعنی یہود ---- کے درمیان --- عہدوپیمان کی ---- رسیاں ہیں۔ اور اب ہم ان رسیوں کو کاٹنے والے ہیں، تو کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ ہم ایسا کر ڈالیں پھر اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ و ظہور عطا فرمائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چھوڑ کر اپنی قوم کی طرف پلٹ آئیں۔"
    یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسّم فرمایا اور پھر فراما: (نہیں) بلکہ آپ لوگوں کا خون میرا خون اور آپ لوگوں کی بربادی میری بربادی ہے۔میں آپ سے ہوں اور آپ مجھ سے ہیں۔ جس سے آپ جنگ کرینگے اس سے میں جنگ کرونگا اور جس سے آپ صلح کرنگے اس سے میں صلح کرونگا۔(5)


    (1) ماہ ذی الحجہ کی گیارہ،بارہ، تیرہ تاریخوں کو ایّام تشریق کہا جاتا ہے۔
    (2) ابن ہشام 1/240-241
    (3) ابن ہشام 1/ 241-242
    (4) اسے امام احمد بن حنبل نے حسن سند سے روایت کیا ہے اور امام حاکم اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ دیکھئے مختصر السیرۃ شیخ عبداللہ نجدی ص 155۔
    ابن اسحاق نے قریب قریب یہی چیز حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے؛البتہ اس میں ایک دفعہ کا اضافہ ہے جو یہ ہے کہ ہم اہل حکومت کیلئے نزاع نہ کرینگے۔ دیکھئے ابن ہشام 1/454
    (5) ابن ہشام 1/442
     
  2. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    خطرناکئ بیعت کی مکرر یاد دہانی:​

    بیعت کی شرائط کے متعلق گفت و شنید مکمل ہو چکی اور لوگوں نے بیعت شروع کرنے کا ارادہ کیا تو صف اوّل کے دو مسلمان جو 11 سن نبوت اور 12 سن نبوت کے ایام حج میں مسلمان ہو ئے تھے۔یکے بعد دیگرے اٹھے تاکہ لوگوں کے سامنے انکی ذمہ داری اور کی نزاکت اور خطرناکی کو اچھی طرح واضح کر دیں اور یہ لوگ معاملے کے سارے پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد ہی بیعت کریں۔اس سے یہ بھی پتہ لگانا مقصود تھا کہ قوم کس حد تک قربانی دینے کیلئے تیار ہے۔
    ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب لوگ بیعت لینے کیلئے جمع ہو گئے تو حضرت عباس بن عبادہ بن نضلہ نے کہا: تم لوگ جانتے ہو کہ ان سے (اشارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف تھا کس بات پر بیعت کر رہے ہو؟ جی ہاں کی آوازوں پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ان لوگوں سے سرخ اور سیاہ رنگ کے لوگوں سے جنگ پر بیعت کر رہے ہو-- اگر تمہارا کہ جب تمہارے اموال کا صفایا کر دیا جائیگا اور تمہارے اشراف قتل کر دئیے جائینگے تو تم ان کا ساتھ چھوڑ دوگے تو ابھی سے چھوڑ دو، کیونکہ اگر تم نے انہیں لیجانے کے بعد چھوڑ دیا تو یہ دنیا اور آخرت کی رسوائی ہوگی۔اور اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ تم مال کی تباہی اور اشراف کے قتل کے باوجود وہ عہد نبھاؤ گے جس کی طرف تم نے انہیں بلایا ہے تو پھر بیشک تم انہیں لے لو۔ کیونکہ یہ خدا کی قسم دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔
    اس پر سب نے بیک آواز کہا! ہم مال کی تباہی اور اشراف کے قتل کا خطرہ مول لے کر انہیں قبول کرتے ہیں۔ ہاں ! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے یہ عہد پورا کیا تو ہمیں اسکے بدلے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنّت۔ لوگوں نے عرض کی: اپنا ہاتھ پھیلائیے! آپ نے ہاتھ پھیلایا اور لوگوں نے بیعت کی۔(6)
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس وقت ہم بیعت کرنے کیلئے اٹھے تو حضرت سعد بن زاراہ رضی اللہ عنہ نے ---- جو ان ستّر آدمیوں میں سب سے کم عمر تھے ----- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے: اہل ہثرب ذرا ٹہر جاؤ! ہم آپ کی خدمت میں اونٹوں کے کلیجے مار کر( یعنی لمبا چوڑا سفر کرکے) اس یقین کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آج آپ کو یہاں سے لیجانے کے معنی ہیں سارے عرب سے دشمنی، تمہارے چیدہ سرداروں کا قتل، اور تلواروں کی مار۔ لہذا اگر یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہو تب تو انہیں لے چلو، اور تمہارا اجر اللہ پر ہے۔ اور اگر تمہیں اپنی جان عزیز ہےتو انہیں ابھی سے چھوڑ دو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قابل قبول عذر ہوگا۔(7)

    بیعت کی تکمیل:-​

    بیعت کی دفعات پہلے ہی طے ہو چکی تھیں، ایک بار نزاکت کی وضاحت بھی ہو چکی تھی۔اب یہ تاکید مزید ہوئی تو لوگوں نے بیک آواز کہا: اسعد بن زراہ! اپنا ہاتھ ہٹاؤ، خدا کی قسم ، ہم اس بیعت کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ توڑ سکتے ہیں۔(8)
    اس جواب سے حضرت اسعد کو اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ قوم کس حد تک اس راہ میں جان دینے کیلئے تیار ہے------ درحقیقت حضرت اسعد بن زراہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر مدینے میں اسلام کے سب سے بڑے مبلّغ تھے، اس لئے طبعی طور پر وہی ان بیعت کنندگان کے دینی سربراہ بھی تھے اور اسی لئے سب سے پہلے انہیں نے بیعت کی۔ چنانچہ ابن اسحٰق کی روایت ہے کہ بنو النجار کہتے ہیں کہ ابو امامہ اسعد بن زراہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے آدمی ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ ملایا۔(9) اور اسکے بعد بیعت عامّہ ہوئی۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ ایک ایک کرکے اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور اسکے عوض جنت کی بشارت دی۔(10)
    باقی رہیں دو عورتیں جو اس موقعے پر حاضر تھیں تو انکی بیعت صرف زبانی ہوئی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی اجنبی عورت سے مصافحہ نہیں کیا۔(11)

    بارہ نقیب:​
    بیعت مکمل ہو چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تجویز رکھی کہ بارہ سربراہ منتخب کر لئے جائیں، جو اپنی اپنی قوم کے نقیب ہوں اور اس بیعت کی دفعات پر عملدرآمد کیلئے اپنی قوم کی طرف سے وہی ذمہ دار و مکلّف ہوں۔ آپ کا ارشاد تھا کہ آپ لوگ اپنے اندر سے بارہ نقیب پیش کیجئے تاکہ وہی لوگ اپنی اپنی قوم کے معاملات کے ذمے دار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر فورا" ہی نقیبوں کا انتخاب عمل میں آگیا۔ نو خزرج سے منخب کئے گئے اور تین اوس سے۔ نام یہ ہیں۔
    خزرج کے نقباء:1)
    1)- اسعد بن زراہ بن عدس رضی اللہ عنہ
    2)- سعد بن ربیع بن عمرو رضی اللہ عنہ
    3)- عبداللہ بن رواحہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ
    4)- رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ
    5)- براء بن معرور بن صخر رضی اللہ عنہ
    6)- عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ
    7)- عبادہ بن صامت بن قیس رضی اللہ عنہ
    8)- سعد بن عبادی بن دلیم رضی اللہ عنہ
    9) منذر بن عمرو بن خنیس رضی اللہ عنہ
    اوس کے نقباء:1)
    1)- عصیر بن حضیر بن سماک رضی اللہ عنہ
    2)- سعد بن خثیمہ بن حارث رضی اللہ عنہ
    3)- رفاعہ بن عبد المنذر بن زبیر رضی اللہ عنہ
    جب ان نقباء کا انتخاب ہو چکا تو ان سے سردار اور ذمے دار ہو نے کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور عہد لیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " آپ لوگ اپنی قوم کے جملہ معاملات کے کفیل ہیں جیسے حواری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب سے کفیل ہوئے تھے اور میں اپنی قوم یعنی مسلمانوں کا کفیل ہوں۔" ان سب نے کہا: جی ہاں۔(13)

    شیطان معاہدے کا انکشاف کرتا ہے:​

    معاہدہ مکمل ہو چکا تھا اور اب لوگ بکھرنے ہی والے تھے کہ ایک شیطان کو اسکا پتہ لگ گیا۔ چونکہ یہ انکشاف بالکل آخری لمحات میں ہوا تھا اور اتنا موقع نہ تھا کہ یہ خبر چپکے سے قریش کو پہنچادی جائے اور وہ اچانک اس اجتماع کے شرکاء پر ٹوٹ پریں اور انہیں گھاٹی ہی میں جا لیں اس لئے اس شیطان نے جھٹ ایک اونچی جگہ کھڑے ہو کر نہایت بلند آواز سے ، جو شاید ہی کبھی سنی گئی ہو یہ پکار لگائی: خیمے والو! محمّد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو دیکھو اس وقت بد دین اسکے ساتھ ہیں اور تم سے لڑنے کیلئے جمع ہیں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یہ اس گھاٹی کا شیطان ہے او! اللہ کے دشمن! سن! اب میں تیرے لئے جلد ہی فارغ ہو رہا ہوں" اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ وہ اپنے ڈیروں پر چلے جائیں۔(14)

    قریش پر ضرب لگانے کیلئے انصار کی مستعدی:​

    اس شیطان کی آواز سن کر حضرت عباس بن عبادہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو ہم کل اہل منیٰ پر اپنی تلواروں کے ساتھ ٹوٹ پڑیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہمیں اسکا حکم نہیں دیا گیا ہے بس آپ لوگ اپنے اپنے ڈیروں پر چلے جائیں۔" اسکے بعد لوگ واپس جا کر سو گئے ۔یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔(15)

    رؤساء یثرب سے قریش کا احتجاج:​

    یہ خبر قریش کے کانوں تک پہنچی تو غم و الم کی شدت سے ان کے اندر کہرام مچ گیا، کیونکہ اس جیسی بیعت کے جو نتائج ان کی جان و مال پر مرتب ہو سکتے تھے اس کا انہیں اچھی طرح اندازہ تھا؛ چنانچی صبح ہوتے ہی ان کے رؤساء اور اکابر مجرمین کے ایک بھاری بھرکم وفد نے اس معاہدے کے خلاف سخت احتجاج کیلئے اہل یثرب کے خیموں کا رخ کیا، اور یوں عرض پرداز ہوا:
    خزرج کے لوگو! ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ ہمارے اس صاحب کو ہمارے درمیان سے نکال لئے جانے آئے ہیں اور ہم سے جنگ کرنے کیلئے اس کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں حالانکہ کوئی عرب قبیلہ ایسا نہیں جس سے جنگ کرنا ہمارے لئے اتنا ناگوار ہو جتنا آپ حضرات سے ہے(16)
    لیکن چونکہ مشرکین خزرج اس بیعت کے بارے میں سرے سے کچھ جانتے ہی نہیں تھے، کیونکہ یہ مکمل رازداری کے ساتھ رات کی تاریکی میں زیر عمل آئی تھی اسلئے مشرکین نے اللہ کی قسم کھا کھا کر یقین دلایا کہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں ہے ہم اسطرح کی کوئی بات سرے سے جانتے ہی نہیں۔ بالآخر یہ وفد عبداللہ بن ابّی ابن سلول کے پاس پہنچا۔ وہ بھی کہنے لگا! یہ باطل ہے ایسا نہیں ہوا ہے،اور یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ میری قوم مجھے چھوڑ کر اس طرح‌کا کام کر ڈالے۔ اگر میں یثرب میں ہوتا تو بھی مجھ سے مشورہ کئے بغیر میری قوم ایسا نہ کرتی۔
    باقی رہے مسلمان تو انہوں نے کنکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور چپ سادھ لی۔ ان میں سے کسی نے ہاں یا نہیں کے ساتھ زبان ہی نہیں کھولی۔ آخر رؤساء قریش کا رجحان یہ رہا کہ مشرکین کی بات سچ ہے اسلئے وہ نامراد واپس چلے گئے۔

    خبر کا یقین اور بیعت کرنے والوں کا تعاقب:​

    رؤساء مکہ تقریبا" اس یقین کے ساتھ پلٹے تھے کہ یہ خبر غلط ہے لیکن اسکی کرید میں وہ برابر لگے رہے۔بالآخر انہیں یقینی طور پر یہ معلوم ہو گیا کہ خبر صحیح ہے اور بیعت ہو چکی ہے۔لیکن یہ پتہ اس وقت چلا جب حجاج اپنے اپنے وطن روانہ ہو چکے تھے، اسلئے انکے سواروں نے تیز رفتاری سے اہل یثرب کا پیچھا کیا لیکن موقع نکل چکا تھا، البتہ انہوں نے سعد بن عبادہ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہما کو دیکھ لیا اور انہیں جا کھدیڑا لیکن منذر زیادی تیز رفتار ثابت ہوئے اور نکل بھاگے البتہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ پکڑ لئے گئے اور انکا ہاتھ گردن کے پیچھے انہیں کے کجاوے سے باندھ دیا گیا پھر انہیں مارتے پیٹتے اور بال نوچتے ہوئے مکہ لایا گیا، لیکن وہاں مطعم بن عدی اور حارث بن حرب بن امیہ نے آکر چھڑا دیا کیونکہ ان دونوں کے جو قافلے مدینے سے گزرتے تھے وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہی کی پناہ میں گزرتے تھے۔ ادھر انصار انکی گرفتاری کے بعد باہم مشورہ کر رہے تھے کہ کیوں نہ دھاوہ بول دیا جائے مگر اتنے میں وہ دکھائی پڑ گئے۔ اسکے بعد تمام لوگ بخیریت مدینہ پہنچ گئے۔(17)
    یہی عقبہ کی دوسری بیعت ہے جسے بیعت عقبہ کبریٰ کہا جاتا ہے۔ یہ بیعت ایک ایسی فضا میں عمل میں آئی جس پر محبت اور وفاداری، منتشر اہل ایمان کے درمیان تعاون و تناصر، باہمی اعتماد، اور جان سپاری و شجاعت کے جذبات چھائے ہوئے تھے۔چنانچہ اہل یثربی اہل ایمان کے دل اپنےکمزور مکّی بھائیوں کی شفقت سے لبریز تھے ان کے اندر ان بھائیوں کی حمایت کا جوش تھا اور ان پر ظلم کرنے والوں کے خلاف غم و غصّہ تھا۔انکے سینے اپنے اس بھائی کی محبت سے سرشار تھے جسے دیکھے بغیر للہ فی اللہ اپنا بھائی قرار دے دیا تھا۔
    اور یہ جذبات و احساسات محض کسی عارضی کشش کا نتیجہ نہ تھے جو دن گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہے بلکہ اس کا منبع ایمان باللہ، ایمان بالرسول اور ایمان بالکتاب تھا۔ یعنی وہ ایمان جو ظلم و عدوان کی کسی بڑی سے بڑی قوت کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتا، وہ ایمان کہ جب اسکی باد بہاری چلتی ہے تو عقیدہ و عمل میں عجائبات کا ظہور ہوتا ہے۔اسی ایمان کی بدولت مسلمانوں نے صفحات زمانہ پر ایسے ایسے کارنامے ثبت کئے اور ایسے ایسے آثار و نشانات چھوڑے کے انکی نظیر سے ماضی و حاضر خالی ہیں۔اور غالباٌ مستقبل بھی خالی ہی رہے گا۔

    (6) ایضا" 1/446
    (7) مسند احمد
    (8) ایضا"
    (9) ابن اسحاق کا یہ بیان بھی ہے کہ بنو عبدالاشہل کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ابو الہیثم تیہان نے بیعت کی اور حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء بن معرور نے کی۔(ابن ہشام 1/447) راقم کا خیال ہے کہ ممکن ہے بیعت سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابو الہیثم اور براء کی جو گفتگو ہوئی تھی لوگوں نے اسی کو بیعت شمار کر لیا ہو ورنہ اس وقت آگے بڑھائے جانے کے سب سے زیادی حقدار حجرت اسعد بن زراہ رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ واللہ اعلم۔
    (10) مسند احمد
    (11) دیکھئے صحیح مسلم باب کیفیت بیعۃ النساء 2/131
    (12) زبیر، حرف ب سے۔بعض لوگوں نے ب کی جگہ ن کہا ہے یعنی زنیر۔ بعض اہل سیر نے رفاء کے بدلے ابو الہیثم بن تیہان کا نام درج کیا ہے۔
    (13) ابن ہشام 1/ 443،444،446
    (14) زاد المعاد 2/51
    (15) ابن ہشام 1/448
    (16) ایضا" 1/448
    (17) زاد المعاد 2/ 51-52، ابن ہشام 1/448-450
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں