پہلی بیعت عقبہ

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏مارچ 6, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    پہلی بیعت عقبہ(1):

    ہم بتا چکے ہیں کہ گیارھویں سال موسم حج میں یثرب کے چھ آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا تھا کہ اپنی قوم میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تبلیغ کرینگے۔اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے سال جب موسم حج آیا(یعنی ذی الحج12 سن نبوی) مطابق جولائی سن 621ء) تو بارہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں حضرت جابر بن عبداللہ بن رئاب کو چھوڑ کر باقی پانچ وہی تھے جو پچھلے سال بھی آ چکے تھے اور انکے علاوہ سات آدمی نئے تھے۔ جن کے نام یہ ہیں۔

    (1) معاذ بن الحارث رضی اللہ عنہ (قبیلہ بنی النجار) (خزرج)
    (2) ذکوان بن عبدالقیس رضی اللہ عنہ بنی زریق(خزرج)
    (3) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ( قبیلہ بنی غنم) ( خزرج)
    (4) یزید بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ (قبیلہ بنی غنم کے حلیف) (خزرج)
    (5) عباس بن عبادہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ (قبیلہ بنی سالم) (خزرج)
    (6) ابوالہیثم بن التیہان (قبیلہ بنی عبدالاشہل) (اوس)
    (7) عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ (قبیلہ بنی عمرو بن عوف) (اوس)

    ان میں صرف اخیر کے دو آدمی قبیلہ اوس کے تھے،بقیہ سب کے سب قبیلہ خزرج سے تھے۔(2)
    ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ میں عقبہ کے پاس ملاقات کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند باتون پر بیعت کی۔ یہ باتیں وہی تھیں جن پر آئندہ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ کے وقت عورتوں سے بیعت لی گئی۔
    وقبہ کی اس بیعت کی تفصیل صحیح بخاری میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" آؤ! مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کروگے،چوری نہ کروگے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کروگے، اپنے ہاتھ پاؤں کے درمیان سے گھڑ کر کوئی بہتان نہ لاؤگے اور کسی بھلی بات میں میری نافرمانی نہ کروگے۔جو شخص یہ ساری باتیں پوری کرے گا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو شخص ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کر بیٹھے گا پھر اللہ اس پر پردہ ڈال دے گا تو اسکا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، چاہے گا تو سزا دے گا اور چاہے گا تو معاف کردے گا۔" حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔(3)

    مدینہ میں اسلام کا سفیر:

    بیعت پوری ہو گئی اور حج ختم ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے ہمراہ یثرب میں اپنا پہلا سفیر بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کو اسلامی احکام کی تعلیم دے اور انہیں دین کے دروبست سکھلائے۔اور جو لوگ اب تک شرک پر چلے آ رہے ہیں ان میں اسلام کی اشاعت کرے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفارت کیلئے سابقین اولین میں سے ایک جوان کا انتخاب فرمایا جس کا نام نامی اور اسم گرامی مصعب بن عمیر عبدری رضی اللہ عنہ ہے۔

    قابل رشک کامیابی:

    حضرت مصعب بن عمیر عبدری رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے تو حضرت سعد بن زراہ رضی اللہ عنہ کے گھر نزول فرما ہوئے، پھر دونوں نے مل کر اہل یثرب میں جوش و خروش سے اسلام کی تبلیغ شروع کر دی۔حضرت مصعب رضی اللہ عنہ مقری کے لقب سے مشہور ہوئے۔( مقری کے معنی ہیں پڑھانے والا۔اس وقت معلم اور استاد کو مقری کہتے تھے)
    تبلیغ کے سلسلے میں ان کی کامیابی کا ایک شاندار واقعہ یہ ہے کہ ایک روز حضرت اسعد بن زراہ رضی اللہ عنہ انہیں ہمراہ لے کر بنی عبدالاشہل اور بنی ظفر کے محلے میں تشریف لی گئے اور وہاں بنی ظفر کے ایک باغ کے اندر مرق نام کے ایک کنویں پر بیٹھ گئے۔ان کے پاس چند نسلمان بھی جمع ہوگئے۔ اس وقت تک بنی عبدالاشہل کے دونوں سردار یعنی سعد بن معاذ اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما مسلمان نہیں ہوئے تھے بلکہ شرک پر تھے۔ انہیں جب خبر ہوئی تو حضرت سعد نے حضرت اسید سے کہا جاؤ ذرا ان دونوں کو جو ہمارے کمزوروں کو بیوقوف بنانے آئے ہیں ڈانٹ دو اور ہمارے محلے میں آنے سے منع کردو۔ چنانچہ اسعد بن زراہ میری خالہ کا لڑکا ہے ( اس لئے تمہیں بھیج رہا ہوں) ورنہ یہ کام میں خؤد انجام دیتا۔
    اسید نے اپنا حربہ اٹھایا اور ان دونوں کے پاس جا پہنچے۔ حضرت اسعد نے انہیں آتا دیکھ کر حضرت مصعب سے کہا: یہ اپنی قوم کا سردار تمہارے پاس آ رہا ہے اس کے بارے میں اللہ سے سچائی اختیار کرنا۔ حضرت مصعب نے کہا: اگر یہ بیٹھا تو اس سے بات کروں گا۔ اسید پہنچے تو ان کے پاس کھڑے ہو کر سخت سست کہنے لگے بولے: تم دونوں ہمارے ہاں کیوں آئے ہو؟ ہمارے کمزوروں کو بیوقوف بناتے ہو؟ یاد رکھو! اگر تمہیں اپنی جان کی ضرورت ہے تو ہم سے الگ ہی رہو۔ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہ آپ بیٹھیں اور کچھ سنیں۔ اگر کوئی بات پسند آ جائے تو قبول کرلیں پسند نہ آئے تو چھوڑ دیں۔ حضرت اسید نے کہا: بات منصفانہ کہہ رہے ہو۔ اس کے بعد اپنا حربہ گاڑ کر بیٹھ گئے۔ اب حضرت مصعب نے اسلام کی بات شروع کی اور قران کی تلاوت فرمائی۔ان کا بیان ہے کہ بخدا ہم نے حضرت اسید کے بولنے سے پہلے ہی ان کے چہرے کی چمک دمک سے ان کے اسلام کا پتہ لگا لیا۔ اسکے بعد انہوں نے زبان کھولی تو فرمایا: یہ تو بڑا ہی عمدہ اور بہت ہی خوب تر ہے۔ تم لوگ کسی کو اس دین میں داخل کرنا چاہتے ہو تو کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ غسل کر لیں، کپرے پاک کرلیں پھر حق کی شہادت دیں، پھر دو رکعت نماز پڑھیں۔ انہوں نے اٹھ کر غسل کیا،کپڑے پاک کئے، کلمہ شہادت ادا کیا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر بولے! میرے پیچھے ایک اور شخص ہے اگر وہ تمہارا پیروکار بن جائے تو اسکی قوم کا کوئی آدمی پیچھے نہ رہے گا، میں اس کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں۔(اشارہ حضرت معاذ کی طرف تھا)
    اس کے بعد حضرت اسید نے اپنا حربہ اٹھایا اور پلٹ کر حضرت سعد کے پاس پہنچے،وہ اپنی قوم کے ساتھ محفل میں تشریف فرما تھے (حضرت اسید رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ) بولے: میں بخدا کہہ رہا ہوں کہ یہ شخص تمہارے پاس جو چہرہ لیکر آ رہا ہے یہ وہ چہرہ نہیں جسے لے کر گیا تھا۔پھر جب حضرت اسید محفل کے پاس آن کھڑے ہوئے تو حضرت سعد نے ان سے دریافت کیا کہ تم نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: میں نے ان دونوں سے بات کی تو واللہ مجھے کوئی حرج تو نظر نہیں آیا، ویسے میں نے انہیں منع کر دیا ہے اور انہوں نے کہا ہے ہم وہی کرینگے جو آپ چاہیں گے۔
    اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ بنی حارثہ کے لوگ اسعد بن زراہ کو قتل کرنے لے گئے ہیں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ اسعد آپ کی خالہ کا لڑکا ہے لہذا وہ چاہتے ہیں کہ آپ کا عہد توڑ دیں۔یہ سن کر سعد غصے سے بھڑک اٹھے اور اپنا نیزہ لے کر سیدھے ان دونوں کے پا س پہنچے۔ دیکھا تو دونوں اطمینان سے بیٹھے ہیں۔ سمجھ گئے کہ اسید کا منشاء یہ تھا کہ آپ بھی ان کی باتیں سنیں۔ لیکن یہ ان کے پاس پہنچے تو کھڑے ہو کر سخت سست کہنے لگے۔ پھر اسعد بن زراہ کو مخاطب کرکے بولے: خدا کی قسم اے ابو امامہ! اگر میرے اور تیرے درمیان قرابت کا رشتہ نہ ہوتا تو تم مجھ سے اسکی امید نہ رکھ سکتے تھے۔ ہمارے محلے میں آکر ایسی حرکتیں کرتے ہو جو ہمیں گوارا نہیں۔
    ادھر حضرت اسعد نے حضرت مصعب سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ بخدا تمہارے پاس ایک ایسا سردار آ رہا ہے جس کے پیچھے اسکی پوری قوم ہے۔اگر اس نے تمہاری بات مان لی تو پھر ان میں سے کوئی بھی نہ پچھڑے گا۔ اسلئے حضرت مصعب نے حضرت سعد سے کہا: کیوں نہ آپ تشریف رکھیں اور سنیں۔اگر کوئی بات پسند آ گئی تو قبول کرلیں اور اگر پسند نہ آئی تو ہم آپ کی ناپسندیدہ بات کو آپ سے دور ہی رکھیں گے۔ حضرت سعد نے کہا: انصاف کی بات کہتے ہو۔ اسکے بعد اپنا نیزہ گاڑ کر بیٹھ گئے۔ حضرت مصعب نے ان پر اسلام پیژ کیا اور قران کی تلاوت کی۔ ان کا بیان ہے کہ ہمیں حضرت سعد کے بولنے سے پہلے ہی ان کے چہرے کی چمک دمک سے ان کے اسلام کا پتہ لگ گیا۔ اسکے بعد انہوں نے زبان کھولی اور فرمایا: تم لوگ اسلام لاتے ہو تو کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ غسل کر لیں، کپڑے پاک کر لیں، پھر حق کی شہادت دیں، پھر دو رکعت نماز پڑھیں۔ حضرت سعد نے ایسا ہی کیا۔اسکے بعد اپنا نیزہ اٹھایا اور اپنی قوم کی محفل میں تشریف لائے، لوگوں نے دیکھتے ہی کہا: ہم بخدا کہہ رہے ہیں کہ حضرت سعد جو چہرہ لے کر گئے تھے اس کے بجائے دوسرا ہی چہرہ لے کر پلٹے ہیں پھر جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ اہل مجلس کے پاس آکر رکے تو بولے: اے بنی عبدالاشہل! تم لوگ اپنے اندر میرا معاملہ کیسا جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ ہمارے سردار ہیں، سب سے اچھی سوجھ بوجھ کے مالک ہیں اور ہمارے سب سے بابرکت پاسباں ہیں۔ انہوں نے کہا: اچھا تو سنو! اب تمہارے مردوں اور عورتوں سے میری بات چیت حرام ہے جب تک کہ تم لوگ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاؤ۔ ان کی اس بات کا اثر یہ ہوا کہ شام ہوتے ہوتے اس قبیلے کا کوئی بھی مرد عورت ایسی نہ بچی جو مسلمان نہ ہو گئی ہو،صرف ایک آدمی جس کا نام اصیرم تھا اسکا اسلام جنگ احد تک مؤخر ہوا۔ پھر احد کے دن اس نے اسلام قبقل کیا اور جنگ میں لڑتا ہوا کام آگیا۔ اس نے ابھی اللہ کیلئے ایک سجدہ بھی نہ کیا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے تھوڑا ومل کیا اور زیادی اجر پایا۔
    حضرت مصعب رضی اللہ عنہ، حضرت اسعد بن زراہ ہی کے گھر مقیم رہ کر اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ انصار کا کوئی گھرانہ نہ بچا جس میں چند مرد اور عورتیں مسلمان نہ ہو چکی ہوں۔صرف بنی امیّہ بن زید اور خطمہ اور وائل کے مکانات باقی رہ گئے تھے۔ مشھور شاعر قیس بن اسلت انہیں کا آدمی تھا اور یہ لوگ اسی کی بات مانتے تھے۔ اس شاعر نے انہیں جنگ خندق
    (5 سن ہجری) تک اسلام سے روکے رکھا، بہر حال اگلے موسم حج یعنی تیرھویں سال نبوت کا موسم حج آنے سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کامیابی کی بشارت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکہ تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبائل یثرب کے حالات، انکی جنگی اور دفاعی صلاحیتوں اور خیر کی لیاقتوں کی تفصیلات سنائیں۔(4)

    (1) عقبہ ( ع ق ب تینوں کو زبر) پہاڑ کی گھاٹی یعنی تنگ پہاڑی گزرگاہ کو کہتے ہیں۔ مکہ سے منیٰ آتے جاتے ہوئے منیٰ کے مغربی کنارے پر ایک تنگ پہاڑی راستے سے گزرنا پڑتا تھا یہی گزرگاہ عقبہ کے نام سے مشہور ہے۔ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو جس ایک جمرہ کو کنکری ماری جاتی ہے وہ اسی گزرگاہ کے سرے پر واقع ہےاسلئے اسے جمرہ عقبہ کہتے ہیں۔ اس جمرۃ کا دوسرا نام جمرۃ کبریٰ بھی ہے۔ باقی دو جمرے اس سے مشرق میں تھوڑے فاصلے پر واقع ہیں۔ چونکہ منیٰ کا پورا میدان جہاں حجاج قیام کرتے ہیں، ان تینوں جمرات کے مشرق میں ہے اسلئے ساری چہل پہل ادھر ہی رہتی تھی اور کنکریاں مارنے کے بعد اس طرف لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ ختم ہو جاتا تھا۔ اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لینے کیلئے اس گھاٹی کومنتخب کیا اور اسی مناسبت سے اس کو بیعت عقبہ کہتے ہیں۔ اب پہاڑ کاٹ کر یہاں کشادہ سڑکیں نکال لی گئی ہیں۔

    (2) رحمتہ للعالمین 1/85، ابن ہشام 1/ 431 تا 433
    (3) صحیح بخاری باب بعد باب حلاوۃ الایمان 1/7، باب وفود الانصار 1/550-551،(لفظ اسی باب کا ہے)۔ باب قولہ تعالیٰ اذا جاءک المؤمنات 2/727، باب الحدود کفارۃ 2/1003
    (4) ابن ہشام 1/ 435-438، 2/ 90، زاد المعاد 2/51
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں