ہجرت کے ہراول دستے

mahajawad1 نے 'سیرت النبی (ص) : الرحیق المختوم' میں ‏اپریل 5, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahajawad1

    mahajawad1 محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2008
    پیغامات:
    473
    ہجرت کے ہراول دستے​

    جب دوسرے بیعت عقبہ مکمل ہو گئی، اسلام کفرو جہالت کے لق و دق صحرا میں اپنے ایک وطن کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہو گیا ---- اور یہ سب سے اہم کامیابی تھی جو اسلام نے اپنی دعوت کے آغاز سے اب تک حاصل کی تھی ---- تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اجازت مرحمت فرمائی کہ وہ اپنے نئے وطن کی طرف ہجرت کر جائیں۔
    ہجرت کے معنی یہ تھے کہ سارے مفادات تج کر اور مال کی قربانی دے کر محض جان بچالی جائے اور وہ بھی یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ جان بھی خطرے کی زد میں ہے۔ ابتدائے راہ سے انتہائے راہ تک کہیں بھی
    ہلاک کی جا سکتی ہے۔ پھر سفر بھی ایک مبہم مستقبل کی طرف ہے معلوم نہیں آگے چل کر ابھی کون کون سے مصائب اور غم و الم رونما ہونگے۔
    مسلمانوں نے یہ سب کچھ جانتے ہوئے ہجرت کی ابتداء کردی۔ ادھر مشرکین نے بھی انکی روانگی میں رکاوٹیں کھڑی کرنی شروع کر دیں کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ اس میں خطرات مضمر ہیں۔ ہجرت کے چند نمونے پیش خدمت ہیں۔
    1- سب سے پہلے مہاجر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ تھے۔ انہوں نے ابو اسحاق کے بقول بیعت عقبہ کبریٰ سے ایک سال پہلے ہجرت کی تھی، انکے ہمراہ انکے بیوی بچے بھی تھے۔ جب انہوں نے روانہ ہونا چاہا تو انکے سسرال والوں نے کہا یہ رہی آپ کی بیگم! اسکے متعلق تو آپ ہم پر غالب آ گئے، لیکن یہ بتائیے کہ یہ ہمارے گھر کی لڑکی آخر کس بنا پر ہم آپ کو طھوڑ دیں کہ آپ اسے شہر شہر گھماتے پھریں؟ چنانچہ انہوں نے ان سے ان کی بیوی چھین لی۔ اس پر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کو تاؤ آگیا اور انہوں نے کہاکہ جب تم لوگوں نے اس عورت کو ہمارے آدمی سے چھین لیا تو ہم اپنا بیٹا اس اس عورت کے پاس نہیں رہنے دے سکتے۔ چنانچہ دونوں فریق نے اس بچے کو اپنی اپنی طرف کھینچا جس سے اسکا ہاتھ اکھڑ گیا۔اور ابو سلمہ کے گھر والے اس کو اپنے پاس لے گئے۔ خلاصہ یہ کہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے تنہا مدینہ کا سفر کیا۔ اسکے بعد حضرت امّ سلمہ کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے شوہر کی روانگی اور اپنے بچّے سے محرومی کے بعد روزانہ صبح صبح ابطح پہنچ جاتیں جہاں یہ ماجرا پیش آیا تھا۔ اور شام تک روتی رہتیں۔ اسی حالت میں ایک سال گزر گیا۔ بالا آخر انکے گھرانے کے کسی آدمی کو ترس آگیا اور اس نے کہا کہ اس بیچاری کو جانے کیوں نہیں دیتے؟ اسے خوامخواہ اسکے بیٹے اور شوہر سے جدا کر رکھا ہے۔ اس پر امّ سلمہ سے ان کے گھر والوں نے کہا اگر تم چاہو تو اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیٹے کو اسکے ددھیال والوں سے واپس لیا اور مدینہ چل پڑیں۔ اللہ اکبر! کوئی پانچ سو کلو میٹر کی مسافت کا سفر اور ساتھ میں اللہ کی کوئی مخلوق نہیں، جب تنعیم پر پہنچیں تو عثمان بن ابی طلحہ مل گیا، اسے حالات کی تفصیل معلوم ہوئی تو بولا: " تمہارا شوہر اسی بستی میں ہے اسی میں چلی جاؤ اللہ برکت دے"۔ اسکے بعد وہ مکہ پلٹ آیا۔(1)
    2- حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے جب ہجرت کا ارادہ کیا تو ان سے کفّافر قریش نے کہا:" تم ہمارے پاس آئے تھے تو حقیر و فقیر تھے لیکن یہاں آکر تمہارا مال بہت زیادہ ہو گیا اور تم بہت آگے پہنچ گئے۔ اب تم چاہتے ہو کہ اپنی جان اور مال دونوں لے کر چل دو تو بخدا ایسا نہیں ہو سکتا"۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: " اچھا اگر میں اپنا مال چھوڑ دوں تو تم میری راہ چھوڑ دوگے ؟" انہوں نے کہا ہاں حضرت صہیب نے کہا: اچھا تو پھر ٹھیک ہے، چلو میرا مال تمہارے حوالے ------ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا:"صہیب نے نفع اٹھایا۔ صہیب نے نفع اٹھایا۔"(2)
    3- حضرت عمر بن خطّاب رضی اللہ عنہ ، عیاژ بن ابی ربیعہ اور ہشام بن عاص بن وائل نے آپس میں طے کیا کہ فلاں جگہ صبح‌صبح اکٹھے ہو کر وہیں سے ہجرت کی جائیگی۔ حضرت عمر اور عیاش تو وقت مقررہ پر آگئے لیکن ہشام رضی اللہ عنی کو قید کر لیا گیا۔ پھر جب یہ دونوں حضرات مدینہ پہنچ کر قبا میں اتر چکے تو عیاش کے پاس ابو جہل اور اسکا بھائی حارث پہنچے۔ تینوں کی ماں ایک تھی۔ ان دونوں سے عیاش رضی اللہ عنہ سے کہا: " تمہاری ماں نے نذر مانی ہے کہ جب تک وہ تمہیں دیکھ نہ لے گی سر میں کنگھی نہ کریگی اور دھوپ چھوڑ کر سائے میں نہ آئیگی"۔ یہ سن کر عیاش رضی اللہ عنہ کو اپنی ماں پر ترس آگیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کیفیت دیکھ کر عیاش سے کہا: " عیاش! دیکھو خدا کی قسم یہ لوگ تم کو محض تمہارے دین سے فتنے میں ڈالنا چاہتے ہیں؛ لہٰذا ان سے ہوشیار رہو۔ خدا کی قسم اگر تمہاری ماں کو جوؤں نے اذیت پہنچائی تو وہ کنگھی کرنے لگے گی اور اسے مکہ کی ذرا کڑی دھوپ لگی تو وہ سائے میں چلی جائیگی"۔ مگر عیاش نہ مانے اور انہوں نے اپنی ماں کی قسم پوری کرنے کیلئے ان دونوں کے ہمراہ نکلنے کا فیصلہ کر کرلیا۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: " اچھا جب یہی کرنے پر آمادہ ہو تو میری یہ اونٹنی لے لو۔ یہ بڑی عمدہ اور تیز رو ہے۔ اسکی پیٹھ نہ چھوڑنا اور ان لوگوں کی طرف سے کوئی مشکوک حرکت ہو تو نکل بھاگنا"۔
    عیاش رضی اللہ عنہ اونٹنی پر سوار ہو کر ان دونوں کے ہمراہ نکل پڑے۔ راستے میں ایک جگہ ابو جہل نے کہا: بھئی یہ میرا اونٹ تو بڑا ست نکلا؛ کیوں نہ تم مجھے اپنی اونٹنی پر پیچھے بٹھا لو"۔ عیاش نے کہا؛ ٹھیک ہے اور اسکے بعد اونٹنی بٹھا دی۔ ان دونوں نے بھی اپنی اپنی سواریاں بٹھائیں کہ ابو جہل عیاش کی اونٹنی پر پلٹ آئے۔ لیکن جب تینوں زمین پر آگئے تو یہ دونوں اچانک عیاش رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے اور انہیں رسی سے باندھ کر جکڑ لیااور اسی بندھی ہوئی حالت میں دن کے وقت مکہ لائے اور کہا، اے اہل مکہ! اپنے بیوقوفوں کے ساتھ ایسا ہی کرو جیسا ہم نے اپنے اس بیوقوف کے ساتھ کیا ہے۔(3)
    عازمین ہجرت کا علم ہو جانے کی صورت میں ان کے ساتھ مشرکین جو سلوک کرتے تھے اسکے یہ تین نمونے ہیں؛ لیکن ان سب کے باوجود لوگ آگے ہیچھے پے درپے نکلتے ہی رہے چنانچہ بیعت عقبہ کبریٰ کے صرف دو ماہ چند دن بعد مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کچھ ایسے مسلمان ضرور رہ گئے تھے جنہیں مشرکین نے زبردستی روک رکھا تھا۔ ان دونوں حضرات (حضرت ابو بکر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ) کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا سازوسامان تیار کرکے روانگی کیلئے حکم خداوندی کا انتظار کر رہے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رخت سفر بھی بندھا ہوا تھا۔(4)
    صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا:
    مجھے تمہارا مقام ہجرت دکھا دیا گیا ہے۔ یہ لاوے کے دو پہاڑوں کے درمیان واقع نخلستانی علاقہ ہے"
    اسکے بعد لوگوں نے مدینے کی جانب ہجرت کی۔ عام مہاجرین حبشہ بھی مدینے ہی آگئے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی سفر مدینہ کیلئے سازوسامان تیار کر لیا۔( لیکن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: " ذرا رکے رہو، کیونکہ مجھے توقع ہے کہ مجھے بھی اجازت دے دی جائیگی"۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: " میرے ماں باپ آپ پر فدا! کیا آپ کو اسکی امید ہے"۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" ہاں" اسکے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ رکے رہے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کریں۔ ان کے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ انہیں بھی چار ماہ تک ببول کے پتوں کا خوب چارہ کھلایا۔(5)
    (1) ابن ہشام 1/468، 469،470
    (2) ایضا" 1/ 477
    (3) ہشام اور عیاش رضی اللہ عنہما کفار کی قید میں پڑے رہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما چکے تو آپ نے ایک روز کہا: کون ہے جو میرے لئے ہشام اور عیاش کو چھڑا لائے۔ولید بن ولید نے کہا: میں آپ کیلئے انکو لانے کا ذمہ دار ہوں۔ پھرولید خفیہ طور پر مکہ گئے اور ایک عورت جو ان دونوں کے پاس کھانا لیکر جا رہی تھی اسکے پیچھے پیچھے جا کر ان کا ٹھکانہ معلوم کیا ۔ یہ دونوں ایک بغیر چھت کے مکان میں قید تھے۔ رات ہوئی تو حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ دیوار پھلانگ کر ان دونوں کے پاس پہنچے اور بیڑیاں کاٹ کر اپنے اونٹ پر بٹھایا اور مدینہ بھاگ آئے۔
    ابن ہشام 1/474-476۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیس صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ صحیح بخاری 1/558
    (4) زاد المعاد 2/52
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں