وہ اپنے ہونٹوں پہ کھلتے ** گلاب ** رکھتے ہیں

حیدرآبادی نے 'شعری مجلس' میں ‏اپریل 5, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    [​IMG]

    بدن میں آگ سی چہرا گلاب جیسا ہے
    کہ زہرِ غم کا نشہ بھی شراب جیسا ہے
    - احمد فراز

    بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص
    ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص
    - عبیداللہ علیم

    وہ پاس بیٹھے تو آتی ہے دلربا خوشبو
    وہ اپنے ہونٹوں پہ کھلتے گلاب رکھتے ہیں
    - حسرت جے پوری

    وہ گُل فروش کہاں اب گلاب کس سے لوں
    نہیں رہا میرا ساقی شراب کس سے لوں
    - انور شعور

    نہ غبار میں نہ گلاب میں مجھے دیکھنا
    میرے درد کی آب و تاب میں مجھے دیکھنا
    - ادا جعفری

    عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اُڑتی ہے
    وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں
    - افتخار عارف

    تھما کے اک بکھرتا گلاب میرے ہاتھ
    تماشا دیکھ رہا ہے وہ میرے ڈرنے کا
    - ہری منچندا بنی

    اب عطر بھی ملو تو محبت کی بو نہیں
    وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا
    - مدھورام جوہر

    سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
    سو ہم بہار پر الزام دھر کے دیکھتے ہیں
    - احمد فراز

    وہ فراق ہو یا وصال ہو ، تری یاد مہکے گی ایک دن
    وہ گلاب بن کے کھلے گا کیا ، جو چراغ بن کے جلا نہ ہو
    - بشیر بدر
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,396
    چمن کو ناز تھا کلی پہ کتنا؟
    گلاب بنی تو پتی پتی بکھر گئی

    (بقلم خود)
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    کیا خوب کہا آپ نے رفی بھائی
    چھوٹے سے شعر میں‌بہت بڑی بات ہے بھائی
     
  4. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    واہ ماشا اللہ رفی بھائی
     
  5. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    مجھے بڑی مدت سے تلاش تھی اس شعر کی
    اب عطر بھی ملو تو محبت کی بو نہیں
    وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا
    - مدھورام جوہر
    اور دلاور فگار کی ایک پرانی نظم جو شہر بمبئی پر انہوں نے کہی تھی آج بھی مطلوب ہے
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں