اقبال کے "بال جبریل" سے ایک انتخاب

باذوق نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏مئی 15, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    بالِ جبریل : علامہ اقبال


    گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
    ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر
    باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
    کارِ جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر


    خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
    کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیا ہے
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے


    تُو اپنی خودی کو کھو چکا ہے
    کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر
    بےذوق نہیں ہے اگرچہ فطرت
    جو اس سے نہ ہو سکا ، وہ تُو کر !


    تُو شاہیں ہے ، پرواز ہے کام تیرا
    ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
    اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
    کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں


    اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
    شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
    یا وسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسل
    یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات


    ترے سینے میں دم ہے ، دل نہیں ہے
    ترا دم گرمی محفل نہیں ہے
    گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
    چراغِ راہ ہے ، منزل نہیں ہے


    محبت کا جنوں باقی نہیں ہے
    مسلمانوں میں خوں باقی نہیں ہے
    صفیں کج ، دل پریشاں ، سجدہ بےذوق
    کہ جذبِ اندروں باقی نہیں ہے


    جوانوں کو مری آہِ سحر دے
    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
    خدایا! آرزو میری یہی ہے
    مرا نورِ بصیرت عام کر دے


    رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
    وہ دل ، وہ آرزو باقی نہیں ہے
    نماز و روزہ و قربانی و حج
    یہ سب باقی ہیں ، تُو باقی نہیں ہے


    اس کی امیدیں قلیل ، اس کے مقاصد جلیل
    اس کی ادا دل فریب ، اس کی نگہ دل نواز
    نرم دمِ گفتگو ، گرم دمِ جستجو
    رزم ہو یا بزم ہو ، پاک دل و پاک باز


    یہ غازی ، یہ تیرے پراسرار بندے
    جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
    شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
    نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی


    ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالیں ہیں ایرانی
    لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
    عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
    نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں


    نہ ہو نومید ، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے
    امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
    تو شاہیں ہے ، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں


     
  2. بنت واحد

    بنت واحد محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2008
    پیغامات:
    11,962
    ہمم بھت خوب
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
  4. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    محو حیرت ہوں کہ اتنا گھمبیر کلام بھی آپ نے سمجھ لیا بھائی
     
  5. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    :00003: :00026:
    :00005:
     
  6. فرخ

    فرخ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 12, 2008
    پیغامات:
    369
    ماشاءاللہ باذوق بھائی
    بہت اچھا انتخاب ہے۔۔۔۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    "نہ ہو نومید ، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے
    امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں"
    واہ. كيا بات ہے!!!
    نوميدى زوال علم وعرفاں ہے!!!
    سوچنے كى بات ہے۔
     
  8. بشیراحمد

    بشیراحمد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 1, 2009
    پیغامات:
    1,568
    اللہ تعالی کا فرمان ہے

    اے حبیب اگر مجھے، تیری امت کو دوزخ میں جلانا ہوتا تو انہیں رمضان جیسی نعمت عطا نہ کرتا۔

    سویٹی بہن، آپ نے یہ جملہ ذات باری تعالی کی طرف منسوب کیا ہے اس کے حوالہ کا بھی ذکر کردیں
     
  9. راجپوت

    راجپوت -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 28, 2009
    پیغامات:
    116
    گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
    ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر
    باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
    کارِ جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر

    خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
    کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیا ہے
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے

    تُو اپنی خودی کو کھو چکا ہے
    کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر
    بےذوق نہیں ہے اگرچہ فطرت
    جو اس سے نہ ہو سکا ، وہ تُو کر !

    تُو شاہیں ہے ، پرواز ہے کام تیرا
    ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
    اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
    کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

    اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
    شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
    یا وسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسل
    یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات

    ترے سینے میں دم ہے ، دل نہیں ہے
    ترا دم گرمی محفل نہیں ہے
    گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
    چراغِ راہ ہے ، منزل نہیں ہے

    محبت کا جنوں باقی نہیں ہے
    مسلمانوں میں خوں باقی نہیں ہے
    صفیں کج ، دل پریشاں ، سجدہ بےذوق
    کہ جذبِ اندروں باقی نہیں ہے

    جوانوں کو مری آہِ سحر دے
    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
    خدایا! آرزو میری یہی ہے
    مرا نورِ بصیرت عام کر دے

    رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
    وہ دل ، وہ آرزو باقی نہیں ہے
    نماز و روزہ و قربانی و حج
    یہ سب باقی ہیں ، تُو باقی نہیں ہے

    اس کی امیدیں قلیل ، اس کے مقاصد جلیل
    اس کی ادا دل فریب ، اس کی نگہ دل نواز
    نرم دمِ گفتگو ، گرم دمِ جستجو
    رزم ہو یا بزم ہو ، پاک دل و پاک باز

    یہ غازی ، یہ تیرے پراسرار بندے
    جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
    شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
    نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

    ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالیں ہیں ایرانی
    لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
    عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
    نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

    نہ ہو نومید ، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے
    امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
    تو شاہیں ہے ، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

    علامہ محمد اقبال
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں