سالگرہ اور اسلام سے محبت کا اصل تقاضا

حیدرآبادی نے 'دیس پردیس' میں ‏اگست 14, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ

    سب پاکستانی بھائی بہنوں کو ، حیدرآبادی (دکنی) کی جانب سے ان کے وطن کی ساٹھویں سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔
    ( 24 گھنٹوں بعد یہی موقع ہمارے ہاں بھی آنے والا ہے ، لہذا آپ بھی ہمارا قرض اتار دیں :00026: )

    گذشتہ چند دن پہلے ایک ہندوستانی فورم پر ہماری بحث ہو رہی تھی ، ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اسلام کو پسِ پشت ڈال کر وطن کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ وطن سے محبت ہر انسان کا فطری تقاضا ہے لیکن بحیثیت مسلمان ، ہمارے لیے اسلامی تعلیمات مقدم ہونی چاہئے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنی آبائی جگہ مکہ سے فطری لگاؤ تھا اور اس زمین سے ہجرت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزردہ ہو کر فرمایا تھا
    اے سرزمین مکہ ! مجھے تجھ سے محبت ہے ، اگر تیرے باشندے مجھے مجبور نہ کرتے تو میں تجھے چھوڑ کر نہ جاتا۔
    تو اس بات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے وطن سے محبت کا حکم دیا ہو۔ بلکہ اس کا الٹ ہی ثابت ہوتا ہے۔ یعنی اسلام پر عمل یا اس کی تبلیغ میں وطن اگر رکاوٹ بن جائے تو اس کو بھی چھوڑ دینے کا حکم ہے۔ ایک مسلمان کے نزدیک ، وطن سے محبت کا معیار وہ نہیں ہے جو کسی ملک کی حکومت یا اس کے حکمران اپنی طرف سے نافذ کریں بلکہ وہ ہے جو شریعت سے ثابت ہو۔
    یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں وندے ماترم کو گانے سے بیشمار مسلمانوں نے انکار کر دیا کہ یہ اسلامی شریعت کے خلاف ہے۔ اسی طرح ہمارے پڑوس کے بھائی بہنوں کو جشنِ آزادی کے نشے میں غیر مسلم اقوام کی مشابہت اختیار کرنے سے بچنے کی کوشش کرنا چاہئے۔

    درحقیقت دنیا بھر کے مسلمانوں کی وفاداری ڈائرکٹ اپنے ملک یا اپنے ملک کی حکومت سے نہیں ہے بلکہ شریعت سے ہے۔ چونکہ شریعت نے حکم دیا ہے کہ امیر کی اطاعت کرو معروف میں۔ لہذا ہم پر لازم ہے کہ شریعت کی بات مانیں اور اپنے ملک کے قوانین کی دل سے پاسداری کریں۔
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    جزاک اللہ خیر!
    حیدر آبادی بھائی یقینآ آپ کی تحریر کا ہر لفظ سچ ہے،ساٹھواں یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ ہے اور ہمیں اس موقع پر بجائے ناچ گانے اور خوشیاں منانے کے اپنی ساٹھ سالہ کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ لیکن افسوس کے ہمارے رہنماوں سے لے کر عوام تک سب رنگ و سرور کے محافل سجا کر بیٹھے ہیں۔
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    بسم اللہ!
    السلام علیکم!
    جزاک اللہ خیر
    دشمنان اِسلام کی سازش ھے کہ مسلمانوں کو قوم برستی میں لگا
    دیا جائے-اِس میں وہ کامیاب ھیں-اس لیے 14 اگست کو لاکھوں جشن آزادی پر خرچ کرنا جہاں کی عوام کے پاس کھانے کے لیے نہیں جشن آزادی منانا اچھا نہیں لگتا -اللہ سے دُعا ھے مسلمانوں کو قرآن و سنّت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے-آمین
     
  4. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    اسلام علیکم حیدرآبادی بھائی!
    مین آپ کی باتوں سے بلکل متفق ہوں۔
    اللہ ہم مسلمانوں کو دین پہ عمل ارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
    جزاک اللہ
     
  5. chaudry

    chaudry محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 6, 2007
    پیغامات:
    1,372
    اللہ ہم سب کو اسلام پر قائم رکھے
     
  6. المسافر

    المسافر --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 10, 2007
    پیغامات:
    6,261
    جزاک اللہ بھائی حیدر آبادی
     
  7. ARHAM

    ARHAM -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 7, 2007
    پیغامات:
    208
    وعلیکم السلام!
    بھائی۔۔۔۔
    یہ بتائیں کہ۔۔۔۔۔بھارت میں وندے ماترم کے سو سال پورے ہونے پر جو تقریب منائی گئی وہاں کے تعلیمی اداروں میں اور مسلمانوں نے اسے گانے کا بائیکاٹ کیا ،
    کیا اُس سے پہلے وہان کے تعلیمی اداروں مین یہ ترانہ مسلمان نہیں پڑھتے تھے؟
     
  8. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    اس کا سیدھا سا جواب ہے : نہیں !
    وجہ یہی کہ یہ ترانہ متنازعہ ہے اور کسی بھی اسکول میں پڑھایا نہیں جاتا سوائے ان اسکولوں کے ، جو آر۔ایس۔ایس یا جن سنگھی ذہنیت کے ہوں۔ اور ان اسکولوں میں تو مسلمان والدین اپنے بچوں کو شریک ہی نہیں کرواتے۔

    اس بات کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آج اسکولوں میں جو اسمبلی میں “جنا گنا منا“ والا قومی ترانہ پڑھایا جاتا ہے ۔۔۔ مسلم اداروں‌ کے قائم کردہ اسکولوں میں اس کی پابندی نہیں کی جاتی بلکہ اس کی جگہ اقبال کا ترانہء ہندی پڑھایا جاتا ہے۔ کم سے کم حیدرآباد اور ممبئی کے مسلم اسکولوں کے متعلق تو ہم یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں