متعصب غیر مسلم طبقات - - یہ کس کی ناکامی ہے ؟

دانیال ابیر نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اگست 1, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. دانیال ابیر

    دانیال ابیر محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 10, 2008
    پیغامات:
    8,415
    آج دنیا بھر کے لوگوں کے ذہنوں اور معاشروں کو متاثر کرنے والے دنیا کے ممتاز ترین افراد ﴿جن میں سیاستدان، دانشور، شاعر، فنکار،مختلف فنون کے ماہرین،سماجی شعبوں کے نمایاں افراد، مذہبی لیڈران کرام و دانشور وغیرہ شامل ہیں﴾کی ایک عمومی لسٹ کا مطالعہ کریںتو اس میں کسی نامور مسلمان کا نام شاید ہی ڈھونڈنے سے ملے۔ چنانچہ یہ افسوسناک صورتحال ہمارے سامنے آتی ہے کہ آج عالمی سطح پر علوم و فنون یا سماجی و مذہبی شعبوں میں کوئی معروف مسلم شخصیت موجود نہیں ہے۔ سیاسی یا سماجی لحاظ سے صرف مشہور ہو جانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اصل بات یہ ہے کہ علمی لحاظ سے کس شخصیت کا کتنا کنٹری بیوشن ہے یا علمی سطح پر سماجی طور پر کوئی شخصیت کس قدر موثر حیثیت رکھتی ہے۔

    مسلمان چند ایک مستثنیات کے علاوہ دنیا کے تقریبا ہر شعبہ میں مغرب کے مقلد بنے ہوئے ہیں۔ ایک ستم ہم نے اپنے آپ پر یہ ڈھایا ہے کہ ہم ایک طرف مغرب کے سامنے انتہائی شدید مرعوبیت کا شکار ہیں تو دوسری طرف ہادی برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ سنہری اصولوں اور راہ عمل سے سرتا پا انحراف کی روش پر گامزن ہیں۔ اس طرح ہم آج کی دنیا میں اپنا ایک اعتبار اور بھرم قائم کرنے کامیاب نہیں ہوئے۔ مغرب میں اسلام کے خلاف متعصبانہ رویہ رکھنے والا طبقہ ، اپنے عوام کو اسلام کے خلاف ورغلانے کے لئے موجودہ دور کے مسلمانوں کے طرز فکر و عمل کو ہی بنیاد بناتا ہے۔ ایسے کئی رسوم و رواج جن کا دین اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں، بلکہ جن رسومات اور بے بنیاد اعتقادات سے نوع انسانی کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نجات دلائی، آج کے دور میں مسلم معاشرے میں پورے زور و شور سے رائج ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کے حقوق کی پامالی، لڑکیوں کی تعلیم کو برا سمجھنا یا کم تعلیم دلوانا، عقیدہ و مسلک کی بناء پر قتل و غارت گری، امتیاز پر مبنی قوانین کا نفاذ، قول و فعل کا تضاد وغیرہ۔

    مندرجہ بالا چند وجوہات کی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ترقی یافتہ غیر مسلم معاشروں کے عوام کو اسلام کے قریب لانے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ آج کے مسلمانوں کا طرز فکر و عمل بھی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی انسانی تاریخ میں سب سے منفرد اور موثر ترین مقام کی حامل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچایا اور اس طرح پہنچایا کہ اس کا پورا پورا حق ادا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ نظام اور اصولوں کو اختیار کر کے ایک فرد اپنی زندگی میں سہولت، سکون اور طمانیت حاصل کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ نظام معاشرت اختیار کرکے انسانی معاشرہ امن و حوشحالی، تحفظ اور توازن و ہم آہنگی سے بہرہ ور ہو سکتا ہے۔ توازن اور ہم آہنگی کا مطلب ہے کہ انسانی معاشرہ کو تشکیل دینے والے تمام طبقات کے درمیان اعتدال و توازن کے ساتھ ہم آہنگی ہے۔

    اس بات کی مزید وضاحت س طرح کی جاسکتی ہے کہ معاشرہ تشکیل دینے والے تمام ارکان یعنی مرد و عورت، خاندان، مختلف پیشہ ورانہ گروہ، مختلف سماجی گروہ مثلا نوجوان طالبعلم، تخلیق کار وغیرہ۔ ان میں سے ہر ایک کے حقوق کا تحفظ اور فرائض کا تعین اس طرح کردینا کہ یہ عمل ایک خوبصورت اعتدال و توازن کو جنم دے اور جس طرح کائنات کے ارکان یعنی سورج، چاند، زمین اور زمین پر مختلف مخلوقات نظام فطرت میں اعتدال سے ساتھ اپنا اپنا کردار ادا کر کے ایک خوبصورت ہم آہنگی کا سبب بنے ہوئے ہیں، اسی طرح انسانی معاشرہ کے تمام ارکان و طبقات مل کر اعتدال و توازن کے ساتھ اپنی اپنی ضروریات و خواہشات کی تکمیل کرتے ہوئے ایک خوبصورت امتزاج اور ہم آہنگی کو جنم دیں۔ معاشرہ کوئی شخص یا طبقہ دوسرے کو نقصان پہنچا کر اپنا فائدہ حاصل نہ کرےبلکہ دوسرے کو تعاون اور فائدہ پہنچا کر اپنے لئے فائدہ حاصل کرے۔ مندرجہ بالا خصوصیات اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ نظام معاشرت کا انتہائی درجہ قابل قدر اور منفرد حصہ ہیں۔ جو نظام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا اور فکر و عمل کے جو در آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وا کئے ان کی مثال نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نوع انسانی کے پاس تھی نہ اس کے بعد اب تک اس سے بہتر کوئی نظام پیش کر سکا۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کردہ نظام آج دنیا کو درپیش پیچیدہ اور سنگین مسائل کا ﴿جن میں نوع انسانی کی بقا کا مسئلہ بھی شامل ہے﴾ واحد حل ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ دنیا ایک عظیم نعمت میسر ہونے کے باوجود بھی اس فائدہ نہیں اٹھا رہی۔ اس کا جواب میری نظر میں یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری خود مسلمانوں کے سرکردہ افراد و طبقات پر عائد ہوتی ہے۔

    موجودہ دور کے مسلمان، اقوام عالم کے لئے خیر سگالی و خیر خواہی پر منبی افکار کی وسیع پیمانے پر اشاعت اور اپنے طرز عمل کے بنیاد پر دین اسلام کو عالمی امن و سلامتی اور انسانوں کی ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس متعصب غیر مسلم طبقات نے مسلمانوں کو ایک پر تشدد، ترقی اور بنیادی انسانی حقوق کی مخالف قوم کے طور پر بروجیکٹ کیا، لیکن مسلمانوں کی جانب سے اس مہم کا مقابلہ حکمت و تدبر سے کرنے کے بجائے کچھ اس انداز سے کیا گیا کہ اسلام مخالف طبقات نے اسلام کو مغرب کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دے کر اپنے عوام کے ذہنوں کو مسموم کرنا شروع کر دیا۔

    مسلمان معاشروں میں پچھلے سو دو سو سالوں میں یقینا ایسی کئی ہستیاں پیدا ہوئیں جنہوں نے معاشرہ پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے لیکن یہ بات بلا خوف و تردید کہی جا سکتی ہے کہ ان شخصیات میں سے کسی کو اسلام یا مسلمانوں کے مفاد میں عالمی سطح پر نمایاں کرنے کی خود مسلمانوں کی جانب سے کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس یہودیوں نے آج سے سو سال قبل اپنی بقاء اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ کے حصول کے لئے ایک پلان ترتیب دیا اور یکسوئی اور اتحاد سے اس پلان پر عمل کر کے نتیجہ میں عالمی آبادی میں انتہائی کم تعداد میں ہونے کے باوجود اپنےمقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔جبکہ مسلمان ، دنیا کی آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ ہونے کے باوجود علمی لحاظ سے، ٹیکنالوچی کے لحاظ سے اور معاشی لحاظ سے غیر مسلموں کے محتاج اور دست نگر بنے ہوئے ہیں۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم قوم پچھلے تقریبا ڈیڑھ سو سال سے ایک طرح کے احساس شکست و ریخت میں مبتلا ہے۔ اس احساس نے مسلم قوم کو شدید درجہ مرعوب کردیا ہے۔ مسلم معاشرہ میں کئی قد آور شخصیات منظر عام پر آتی رہیں۔ لیکن توحید کا پیغام موثر انداز میں نہیں دیا گیا۔ اسلام کے پیروکار قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں کر سکے بلکہ وہ خود مسلک کے نام پر انتشار کا شکار ہوتے گئے۔ زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات پر اجتماعی غور و فکر نہیں ہوا، اسلام پر عمل کرنے کے لئے چند ظاہری رسومات کو اہمیت اور اولیت دی گئی۔ قرآن پاک اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں پہناں حکمتوں تک رسائی حاصل کرنے لئے منظم اور اداراتی کوششیں نہیں کی گئی۔ اس طرح مسلم امہ فروعات کے جنگل میں گم ہو گئی۔ غیر مسلم اقوام میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کا ابلاغ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ توحید و رسالت کا پیغام ہمارے پاس امانت ہے۔ اسلام کے اصولوں پر چلنا فطرت کے اصولوں پر چلنا ہے۔ انسان کی تخلیق جس فطرت پر ہوئی ہے اسلام اس اس کے تقاضوں سے پوری طرح واقف ہے لیکن مقام افسوس و حسرت ہےکہ آج مسلمان کا اسلام صرف زبان و کلام تک محدود ہو گیا ہے۔ آج کا مسلمان نور الہی اور نور نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے تہی دست نظر آتا ہے۔ مسلمان عملی اور فطری تعلیمات سے دور ہوگیا ہے۔چنانچہ وہ سمجھ نہیں پا رہا ہے کہ موجودہ دور ابتلا سے باہر نکلنے کے لئے کس طرح کی تدابیر اختیار کی جائیں اور اسلام کے فروغ کے لئے کس طرح حکمت عملی کی ترتیب دی جائے۔

    سوال یہ ہے کہ یہ ناکامی کس کی ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ مسلمانوں کی ناکامی ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا یہ اسلام کی ناکامی ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ناکامی اسلام کی ناکامی تو ہرگز نہیں ہے لیکن یہ حقیقی مسلمانوں کی ناکامی بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر یہ ناکامی کس کی ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔ بات کافی تلخ ہے لیکن کہے بغیر چارہ بھی نہیں ۔۔۔۔ یہ ان لوگوں کی ناکامی ہے جو نسلی، خاندانی، اور ثقافتی طور پرصرف نام کے مسلمان ہیں اور جن کی اکثریت اسلام کے ٹھیکیداروں اور فرقہ پرست ملاوں کے زیر اثر تفرقوں میں بٹ گئی ہے۔ آج کا مسلمان قرون اولی کے مسلمانوں سے کتنی نسبت رکھتا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محض زبان سے کلمہ پڑھ لینے سے اسلام کے تمام تقاضے پورے نہیں ہو جاتے۔ اسلام کا اقرار اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہے۔ اللہ کے سوا دوسرے تمام جھوٹے خداوں کے وجود سے عملی انکار یا اعلان ہے۔ خواہ یہ خدا بت کی شکل میں کسی بت خانے میں ہوں یا دولت پرستی، جاہ پرستی اور تکبر و غرور کی شکل میں دل کے صنم خانے میں سجائے گئے ہوں۔

    آج بھی مسلمان دنیا کے لئے ہدایت، امن و سلامتی اور تہذیبی ترقی کا سبب بن سکتے ہیں بشرطیکہ و دین اسلام کو اپنے اوپر اور اپنی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے مطابق نافذ کریں۔ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اسوہ پر عمل پیرا ہوں۔ ان کا وجود دنیا کے لئے سود مند ہو ، وہ اپنے اندر خودی اور خود داری پیدا کریں، ہر لحاظ سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں۔ یہ ایک محنت طلب کام ہے۔ سہل پسند اقوام اس میدان میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔

    اسلام کی دعوت سچائی اور سلامتی پر مبنی ہےیہ رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے اللہ کا عطا کردہ نظام اور راہ عمل ہے۔ یہ ایسی راہ عمل ہے جو دنیا میں بھی ترقی و خوشحالی اور کامیابی عطا کرتی ہے اور آخرت ﴿جو انسان کی حقیقی منزل ہے﴾ کی کامیابی کے راستے پر بھی لے جاتی ہے۔

    اسلام ہمیشہ باقی رہنے کے لئے اس دنیا میں آیا ہے۔ چنانچہ موجودہ دور کے مسلمانوں کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ اسلام کے حوالے سے اپنے اور اپنے اوپر عائد فرائض کی تکمیل کے لئے خود کو مکمل طور پر تیار کریں۔ اگر آج کے موروثی مسلمان اس فرض کی انجام دہی میں ناکام رہے تو کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالی غیر مسلم اقوام میں سے کچھ لوگوں کو ہدایت عطا فرما دے اور وہ لوگ دنیا کو اسلام کی سچائیوں سے آگاہ کرنے کی سعادت سے بہرہ مند ہوں۔ اللہ تعالی کی رحمت آواز دے دے کر لوگوں کو اپنی طرف بلا رہی ہے۔ بڑی بدبختی ہوگی اگر مسلم قوم نسلی مسلمان ہونے کے غرور میں مبتلا رہتے ہوئے سماعت رکھنے کے باوجود اس آواز کو نہ سنے

    ایک نامور مسلم دانشور سید سلیمان ندوی نے ایک بار لکھا تھا

    اگر آج کلمہ گو مسلمان میں اس ادائے فرض کے سپاہی بننے کا ولولہ نہیں تو کیا عجب کہ اللہ تعالی کسی اور قوم کو زندگی کے میدان میں لائے اور اس سے اسلام کا یہ فرض ادا کرائے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں