مجروح سلطان پوری

حیدرآبادی نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اگست 20, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    مجروح سلطان پوری
    (پ: اکتوبر 1919 ، م: مئی 2000)
    مجروح سلطان پوری - الفاظ اور شاعرانہ اصطلاحات کا سلطان !
    اسرار الحسن خان ، ہندوستانی ریاست اتر پردیش کے ایک موضع سلطان پور میں پیدا ہوئے۔ اردو ، فارسی اور عربی میں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی ، پھر 1938ء میں آپ نے طبِ یونانی میں بیچلر ڈگری کے حصول کے ساتھ بطور یونانی حکیم ایک سال کام کیا۔

    مجروح کا شمار ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے شعراء میں ہوتا ہے۔ اُن کا ایقان تھا کہ کوئی بھی عظیم فن معاشرے سے کٹ کر تخلیق نہیں ہو سکتا۔ مجروح کی کتاب "Never Mind Your Chains" کے پیش لفظ میں معروف ترقی پسند شاعر علی سردار جعفری لکھتے ہیں : میری شاعری اور جدوجہد کا چھوٹا بھائی مجروح ہے۔

    جگر مرادآبادی کو مجروح اپنا استاد مانتے تھے۔ مجروح نے اپنا پہلا فلمی گیت ’غم دئے مستقل ۔۔۔‘ 1945ء میں فلم شاہجہاں کے لیے تحریر کیا تھا۔ اسی نغمے نے مجروح کو فلمی نغمہ نگاروں کی پہلی صف میں لا کھڑا کیا۔ پھر مجروح کا یہ فلمی سفر پانچ دہائیوں تک چلتا رہا۔ البتہ مجروح کو یہ پسند نہیں تھا کہ ان کی شاعری کو فلم یا فلمی دنیا کے حوالے سے جانا جائے۔ وہ اپنی شاعری کو معاشرے میں پھیلی منافقت کا ردّعمل باور کرتے تھے۔

    فلمی دنیا کی مقبول نغمہ نگاری اور اردو شاعری کی لازوال خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مجروح کو بھارت کے دو عظیم فنی ایوارڈوں سے نوازا گیا۔
    1993ء میں اقبال سمّان ایوارڈ
    1994ء میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ
     
  2. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    مجھے سہل ہو گئیں منزلیں

    مجھے سہل ہو گئیں منزلیں ، وہ ہوا کے رُخ بھی بدل گئے
    ترا ہاتھ ، ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئے

    وہ لجائے میرے سوال پر کہ اُٹھا سکے نہ جھکا کے سر
    اُڑی زلف چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے

    وہی بات جو وہ نہ کر سکے میرے شعر و نغمہ میں آ گئی
    وہی لب نہ میں جنہیں چھو سکا قدحِ شراب میں ڈھل گئے

    اُنھیں کب کے راس بھی آ چکے تیری بزمِ ناز کے حادثے
    اب اُٹھ کے تیری نظر پھرے جو گِرے تھے گِر کے سنبھل گئے

    میرے کام آ گئیں آخرش یہی کاوشیں یہی گردشیں
    بڑھیں اس قدر میری منزلیں کہ قدم کے خار نکل گئے ​
     
  3. حیدرآبادی

    حیدرآبادی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2007
    پیغامات:
    1,319
    چلتے چلتے ، یونہی کوئی مل گیا تھا

    چلتے چلتے ، یونہی کوئی مل گیا تھا
    سرِ راہ چلتے چلتے
    وہیں تھم کے رہ گئی ہے
    میری رات ڈھلتے ڈھلتے
    یونہی کوئی مل گیا تھا ۔۔۔

    جو کہی گئی نہ مجھ سے
    وہ زمانہ کہہ رہا ہے
    کہ فسانہ بن گئی ہے
    میری بات چلتے چلتے
    یونہی کوئی مل گیا تھا ۔۔۔

    شبِ انتظار آخر
    کبھی ہوگی مختصر بھی
    یہ چراغ بجھ رہے ہیں
    میرے ساتھ جلتے جلتے
    یونہی کوئی مل گیا تھا ۔۔۔
    سرِ راہ چلتے چلتے ۔۔۔​
     
  4. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,358
  5. bia786asrfamily

    bia786asrfamily -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 15, 2007
    پیغامات:
    1,951
    بہت عمدہ انتخاب ،،بھائی ،،جاری رکھیے گا :em:
     
  6. chaudry

    chaudry محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 6, 2007
    پیغامات:
    1,372
    واہ واہ
    کیا بات ہے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں