اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان

ہیر نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اگست 21, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ہیر

    ہیر -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2007
    پیغامات:
    432
    پیکر علم وعمل
    اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ​


    تیرہویں صدی ہجری کے آخر میں افق سند پر ایک ایسی شخصیت اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ نظر آتی ہے جس کی ہمہ گیر اسلامی خدمات اسے تمام معاصرین میں امتیازی حیثیت عطا کرتی ہے۔ شخص واحد جو عظمت الوہیت، ناموس رسالت، مقام صحابہ و اہلبیت اور حرمت ولایت کا پہرہ دیتا ہوا نظر آیا۔ عرب و عجم کے ارباب علم جسے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی 10 شوال المکرم 1272ھ بمطابق 14 جون 1856ء کو بریلی (یو۔ پی بھارت) میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد مولانا شاہ نقی علی خان اور جد امجد مولانا رضا علی خاں اپنے دور کے اکابر علماء و اہلسنت اور اولیاء اللہ میں سے ہیں۔

    فطری طور پر آپ علم وعمل کی طرف مائل تھے۔ حیرت انگیز ذہانت کے سبب آپ بہت جلد علم کی اعلیٰ منازل طے کرنے لگے چنانچہ آپ نے چار سال کی ننھی عمر میں پورا کلام پاک ناظرہ پڑھ لیا۔ 6 سال کی عمر میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر مجمع عام میں سیرت پاک پر طویل تقریر کی۔ آٹھ سال کی عمر میں ہدایہ کی عربی زبان میں شرح کی چودہ برس کی عمر میں آپ پورے عالم بن گئے اور بحیثیت مفتی فتوے جاری کر دیئے، کلام پاک یاد کرنے پر آئے تو رمضان شریف میں روزانہ ایک پارہ حفظ کرکے تراویح میں سنا دیا۔ اس طرح پورا کلام پاک ایک ماہ میں حفظ کرلیا، خدادا حافظے ہی کے سبب چودہ برس تک کی کتب پر آپ کی گہری نظر تھی۔ وہ جامع علوم و فنون شخصیت کے مالک تھے۔ علماء عرب و عجم آپ کو چودھویں صدی کا مجدد قرار دیتے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق آپ کی کتابوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی زائد ہے بعض علوم تو آپ نے خود ایجاد کئے جن کے نام تک سے لوگ ناواقف ہیں مندرجہ ذیل علوم میں مہارت آپ کے علمی مرتبے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    ترجمہ قرآن کنزالایمان
    1911ء میں آپ نے شاندار ترجمہ قرآن کنزالایمان کے نام سے کیا جو تراجم قرآن کے ذخیرے میں ایک خوشگوار اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔

    تفسیر قران
    تفسیر میں امام اہلسنت کی یہ شان ہے کہ صرف سورہ الضحٰی کی علمی تفسیر کی چند آیات کی تفسیر چھ سو صفحات سے تجاوز کرگئیں۔

    علم فقہ
    فتویٰ نویسی میں آپ کا کوئی جواب نہ تھا دنیا بھر سے ایک دن میں پانچ پانچ سو نویس آتے جس زبان میں فتویٰ آتا جواب بھی اسی زبان میں دیتے۔ انگریزی فتوؤں کا جواب انگریزی اور منظوم کا جواب منظوم ہی دیتے۔ فتاویٰ عالمگیری کے بعد فقہ اسلامی کی دوسری عظیم کتاب فتاویٰ رضویہ ہے جسے علامہ اقبال یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کے فتاویٰ ان کی ذہانت و فطانت فقاہت اور علوم دینیہ میں تبحر علمی کے شاہد عادل ہیں ان کے فتاویٰ سے ظاہر ہے کہ وہ کس قدر اعلیٰ اجتہادی صلاحیتوں سے بہرہ ور تھے۔

    علم رجال
    اپنی بے پناہ قوت حافظہ کے سبب آپ کو علم رجال میں وہ دسترس حاصل تھی کہ ایک ایک راوی کے حالات نوک زبان پر تھے اسی سبب سے آپ ایک ہزار سے زائد کتب لکھ سکے جنکا عمر بھر میں پڑھ لینا ہی مشکل ہے۔

    تاریخ گوئی
    فن تاریخ گوئی میں آپ امام تھے جتنی دیر میں کوئی مفہوم لفظوں میں ادا کرتا آپ اتنی دیر میں بلا تکلف تاریخی مادے فرما دیا کرتے تھے۔

    خوش نویسی
    خطاطی میں بھی آپ اپنا جواب نہ رکھتے تھے مختلف قسم کے رسم الخط بڑی روانی سے لکھے چلے جاتے تھے۔ آج بھی آپ کے نورانی مخطوطات اس فن میں آپ کی مہارت کاملہ کا آئینہ دار ہیں۔

    علم مناظرہ
    علم مناظرہ میں آپ کی ہر چہار طرف وہ دھاک بیٹھی ہوئی تھی کہ ساری زندگی کوئی مخالف آپ کے مدمقابل آنے کی جرات نہ کرسکا آپ نے جو تحریری مواد چھوڑا اس مواد کے رد میں آج تک ایک لفظ نہ لکھا جاسکا۔

    شعرو شاعری
    آپ ایک فطری شاعر تھے انتہا یہ کہ فصیح الملک داغ دہلوی نے بھی آپ کو خراج تحسین پیش کیا ہے کہتے ہیں علمی تحقیقات اور شاعرانہ نازک خیالی بیک وقت شخص واحد میں جمع نہیں ہوسکتی مگر حضرت رضا بریلوی ایک ہی وقت میں بہترین نازک خیال شاعر بھی تھے اور ساتھ ہی جید عالم وفاضل و محقق کامل بھی تھے اگر آپ ایک بھی شعر اور نا لکھتے تو بھی سلام رضا کے سبب ہمیشہ زندہ رہتے ’’حدائق بخشش‘‘ آپ کی نعتیہ شاعری کا شاہکار ہے۔

    علم توقیت
    آپ نے علم توقیت میں اس قدر مہارت بہم پہنچائی تھی کہ دن کو سورج اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی ملا لیا کرتے تھے۔

    حساب، جیومیٹری اور الجبرا
    ریاضی، جیومیٹری اور الجبرا میں ایسی حیرت انگیز مہارت رکھتے تھے کہ دنیا کے چوٹی کے ماہر حسابیات ڈاکٹر ضیاء الدین وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے آپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے وہ خود اعتراف کرتے ہیں۔ صحیح معنوں میں یہ ہستی نوبل پرائز کی مستحق ہے۔

    اردو میں سائنس
    پاکستان میں عرصہ دراز تک یہی بحث چلتی رہی کہ آیا اردو زبان جدید سائنسی علوم کے بیان پر قادر ہے یا نہیں مگر پچھتر سال پہلے آپ نے حرکت زمین کے سلسلے میں ایک ایسا محققانہ مقالہ فوزمبین بامحاورہ اور رواں اردو میں لکھا کہ آج پڑھ کر حیرت ہوتی ہے۔

    فونو گرافی اور فوٹو گرافی
    آپ نے اپنی کتاب البیان شافیا یفونو غرافیا 1908ء میں فوٹو گرافی اور فونو گرافی کے فرق کو واضح کیا ہے فوٹو گرافی پر بحث کرتے ہوئے دو تحقیقی مقدمے لکھے ہیں اس کے علاوہ بھی آپ نے بیسیوں سائنسی مسائل پر تحقیق کی۔ آپ نے پوری شدت و قوت کے ساتھ بدعات کا رد کیا اور احیاء سنت کا فریضہ ادا کیا۔ علماء عرب و عجم آپ کو مدبر اعظم امام اہلسنت اور مجدد اسلام کا لقب دیتے ہیں۔ آپ ہندو اور انگریز دونوں سے نفرت کرتے تھے بقول مشہور صحافی شوکت صدیقی وہ انگریزوں اور انکی حکومت کے اس قدر کٹر دشمن تھے کہ لفافہ پر ہمیشہ الٹا ٹکٹ لگاتے تھے اور برملا کہتے تھے کہ میں نے چارج پنجم کا سر نیچا کر دیا احمد رضا خان بریلوی نے اس دور پرفتن میں بھی وحدت ملی کا چراغ بہر حال روشن رکھا۔ آپ برق رفتاری سے لکھتے تھے۔ 1856ء سے 1921ء تک آپ نے پچاس سے زائد علوم و فنون پر ایک ہزار سے زائد کتابیں لکھیں اگر آپ کی پینسٹھ سالہ زندگی کے حساب سے جوڑیں تو ہر پانچ گھنٹے میں آپ ایک کتاب ہمیں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گویا جو کام ایک کمپیوٹرائزڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا تھا وہ آپ نے تن تنہا انجام دیا۔

    غرضیکہ آپ کی لامحدود وسعتوں کو دیکھ کر ماہرین فن کو اعتراف کرنا پڑا کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی کی شخصیت ایسی پہلو دار اور جامع العلوم ہے کہ آپ کے کسی ایک پہلو پر بحث کرنے کے لئے اس فن کا ماہر ہی اس سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے۔ (ڈاکٹر وحید قریشی، بڑودہ یونیورسٹی بھارت)

    ڈاکٹر محمد مسعود احمد لکھتے ہیں کہ راقم کو امام رضا پر تحقیق کرتے 24 سال گزر چکے ہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی ساحل سمندر تک بھی رسائی حاصل نہ ہوسکی۔ شناسائی تو دور کی بات ہے۔

    محبت و عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا طرہ امتیاز ہے فرماتے ہیں میرے دل کے دو ٹکڑے کریں تو ایک پر لا الہ الا اللہ اور دوسرے پر محمد رسول اللہ لکھا ہوگا۔ آپ نے اپنے وصال کی پیشین گوئی قرآن پاک کی اس آیت سے کی۔

    وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِآنِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ.
    خدام چاندی کے کٹورے اور گلاس لئے ان کو گھیرے ہیں۔

    چنانچہ 25 صفر 1340ھ بمطابق 1921ء کو بروز جمعہ بوقت 2 بجکر 38 منٹ اذان جمعہ کے وقت ادھر حی علی الفلاح کی آواز بلند ہوئی ادھر آپ کی روح پاک مالک حقیقی سے واصل ہوگئی۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَO


    خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طنیت را
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. سگ مدینہ

    سگ مدینہ -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 5, 2007
    پیغامات:
    144
    [​IMG]

    آل حضرت احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے مزار کا اندر کا حصہ۔

    اسلام ولیکم۔
    کیا آپ کے پاس دلیل ہے جو آپ نے احمد رضا خان کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ کا لفظ استعمال کیا برائے مہربانی ذرا تفصیل سے اس موضوع پر روشنی ڈالیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. کارتوس خان

    کارتوس خان محسن

    شمولیت:
    ‏جون 2, 2007
    پیغامات:
    933
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔
    کوئی بات نہیں ڈاکٹر صاحب کچھ گھنٹے رُک جائیں ہم آپ کو اس پورے سمندر کی سیر کروائیں‌گے اور دوسرا کنارہ بغداد شریف تک پہنچائیں‌گے ان شاء اللہ بس ہیر بہن سے یہ درخواست ہے کہ وہ صبر اور تحمل کا دامن اپنے ہاتھوں‌ سے نہ جانیں‌ دیں۔

    وسلام۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    کیا اس طرح کی قبر اسلام میں جائز ہے۔۔ ایسی قبر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بھی نہیں۔۔۔امت کو ایسے ہی لوگوں نے قبرپرستی میں مبتلا کیا۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. رحیق

    رحیق -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    1,592
    اسلام علیکم ورحمۃ وبرکۃ
    اسلام میں تو پختہ قبریں بنانا بھی حرام ہے۔۔۔اور اس طرح کے مزار کی کیا حثیت ہے۔انشاء اللہ اس پر تفصیلی بات ہو گی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ابوسفیان

    ابوسفیان -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 30, 2007
    پیغامات:
    624
    السلام علیکم ،
    تبلیغِ دین سے وابستہ شخصیات کے تعارف کے لیے علیحدہ شعبہ جلد تخلیق کیا جائے گا ، ان شاءاللہ ۔
    فی الحال اس لڑی کو ’متفرقات‘ کے زمرے میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    غلو ؟؟

    مسلکِ بریلویت کے ایک قلمکار اور خلیفہ ظفر الدین بہاری نے اپنے اعلیٰ حضرت کا ایک خط اپنی کتاب میں نقل کیا ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ بریلویت کے بانی جناب احمد رضا خان کا علمِ مبلغ کتنا تھا ؟

    جناب احمد رضا خان ، اپنے ایک معاصر کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں ‫:
    تفسیر روح المعانی کون سی کتاب ہے، اور یہ آلوسی بغدادی کون ہیں؟ اگر ان کے حالات زندگی آپ کے پاس ہوں تو مجھے ارسال کر دیں۔
    (بحوالہ : حیاتِ اعلیٰ حضرت ، ص:266)

    جو محترم ’اعلیٰ حضرت‘ ایک معروف مفسرِ قرآن محمود آلوسی کے نام سے تک ناواقفیت کا اعلان کرتے ہوں ، علمِ رجال پر آپ جناب کی کیسی دسترس ہوگی ، کیا یہ بتانے کی کوئی ضرورت بھی ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    مبالغہ ؟؟

    یہ کہہ دینا کہ فلاں شخص نے ایک ہزار ، دوہزار یا اس سے بھی زیادہ کتابیں تصنیف کی ہیں ، سہل ہے ۔۔۔مگر اسے ثابت کرنا آسان نہیں ۔ محترم بریلوی حضرات بھی اسی مخمصے کا شکار نظر آتے ہیں۔

    خود اعلٰی حضرت فرمارہے ہیں کہ ان کی کتابوں کی تعداد 200 کے قریب ہے۔
    (بحوالہ : الدولۃ المکیۃ ، ص:10)

    ان کے ایک صاحبزادے کہہ رہے ہیں کہ 400 کے لگ بھگ ہیں۔
    (بحوالہ : الدولۃ المکیۃ ، ص:11)

    ان کے ایک خلیفہ ظفر الدین بہاری رضوی جب ان تصنیفات کو شمار کرنے بیٹھے، تو350 رسالوں سے زیادہ نہ گنواسکے۔
    (بحوالہ : المجمل المعدد لتالیفات المجدد ، از : ظفر بہاری)

    ایک روایت ہے، 350 کے قریب تھیں۔
    (بحوالہ : مقدمہ الدولۃ المکیۃ ، تصنیف : احمد رضا بریلوی ، مطبوعہ لاہور )

    ایک روایت ہے، 440 کے لگ بھگ تھیں۔
    (بحوالہ : المجمل المعدد لتالیفات المجدد ، از : ظفر بہاری)

    ایک اور صاحب کہتے ہیں، 500 سے بھی متجاوز تھیں۔
    (بحوالہ : المجمل المعدد لتالیفات المجدد ، از : ظفر بہاری)

    بعض کا کہنا ہے، 600 سے بھی زائد تھیں۔
    (بحوالہ : حیات البریلوی ، ص:13)

    ایک اور صاحب ان تمام سے آگے بڑھ گئے اورکہا کہ ایک ہزار سے بھی تجاوز کرگئی تھیں۔
    (بحوالہ : من ھو احمد رضا ، ص:25)

    کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا ؟؟ :00023:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. chaudry

    chaudry محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 6, 2007
    پیغامات:
    1,372
    واہ کیا بات ہے آپ کی
    بہت ہی اچھا لکھا ہے۔کوئی جو بھی کہے میں‌آپ کے ساتھ ہوں۔اسی طرح لکھتی رہیں۔اور ھمارے دلوں کو منور کرتی رہیں۔
    بہت خوشی ہوئی
     
  10. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    غلو ؟؟

    ہمارے علم کے مطابق ، جناب فاضل بریلوی کا صرف اردو ترجمۂ قرآن دستیاب ہے۔ آپ نے قرآن کی کوئی تفسیر لکھی نہیں ہے۔
    سورہ الضحٰی کی جس علمی تفسیر کی بات کی جا رہی ہے ، اس کا حوالہ دیں کہ چھ سو صفحات سے زائد کی متذکرہ تفسیر جناب بریلوی کی کس کتاب میں شامل ہے؟

    محترم فاضل بریلوی کی مشہور تصنیف ، جسے کسی حد تک ’کتاب‘ کا نام دیا جا سکتا ہے ، وہ ’فتاویٰ رضویہ‘ ہے ۔ فتاویٰ رضویہ کی جملہ آٹھ جلدیں ہیں اور ہر ایک جلد چند سو صفحات پر مشتمل مختلف فتاویٰ پر مبنی چھوٹے چھوٹے رسائل کی شکل میں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. chaudry

    chaudry محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 6, 2007
    پیغامات:
    1,372
    ہیر جاری رکھو
     
  12. ہیر

    ہیر -: Banned :-

    شمولیت:
    ‏اگست 20, 2007
    پیغامات:
    432
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. chaudry

    chaudry محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 6, 2007
    پیغامات:
    1,372
    سہی کہا آپ نے ہیر بہن
     
  14. عقرب

    عقرب Guest

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    یار کوئی دلیل لے کر بات کریں۔۔۔ ویسے ہی کسی کو صحیح یا غلط کہنے سے حقیقت نہیں چھپتی۔۔ اگر صحیح ہے تو ثبوت دیں۔۔۔
     
  17. محمد عویدص

    محمد عویدص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 18, 2007
    پیغامات:
    200
    لیکن آقا علیہ الصوۃ والسلام کی قبر انور تو چار اطراف سے بند ہے

    اس پر آپ سب کیا کہے گے۔

    اعجاز بھائی آپ کے کیے خاص الخاص
    http://www.alahazratnetwork.org/fatawa/
    (فتویٰ رضویہ)
    یہ سارے حصے پڑھنے کے بعد کسی کی شان میں بات کی جائے تو بہتر ہے ورنہ موت تو سب کچھ سیکھا ہی دے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔(انشاء اللہ عزوجل)
     
  18. محمد عویدص

    محمد عویدص -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 18, 2007
    پیغامات:
    200
    اور رہا سوال دلیل کا تو وہ بھی ضرور دیے جائے گے (انشاء اللہ عزوجل)
     
  19. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324


    آپ بھی وہ ساری احادیث پڑھیں جو میں نے اوپر بیان کی ہے۔۔۔ ورنہ قیامت والے دن اللہ کو کیا جواب دو گے۔۔۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو قبروں پر عمارت سے منع کریں اور آپ اس کے مقابلے میں فتاوی رضویہ کو پیش کرتے ہیں۔۔ اللہ سے ڈریں۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  20. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ہیر بہن آپ مجھے بہت ہی معصوم معلوم ہوتی ہیں۔ اللہ آپ کو ہر شر سے دور رکھے۔۔ فتاوی رضویہ میں احمد رضا خان کے فتووں پر ابھی تک آپ کی نظر نہیں پڑھی ہوگی لیکن خیر ہے میں کچھ نمونے اس میں سے نکال دیتا ہوں۔۔ کیا ایسے شخص کو امام اہلسنت کا لقب انصاف کا تقاضا ہے یہ فیصلہ میں آپ پر چھوڑ دیتا ہوں۔ مجھے تو صرف آئنہ دکھانا ہے۔اللہ کے لئے اس کو غور سے پڑھیں اور دل سے فیصلہ کریں کیا ایسی زبان ایک عام مسلمان کی بھی ہو سکتی ہے۔کفر کے فتوے لگانے میں احمد رضا خان کا کوئی ثانی نہیں۔۔
    احمد رضا خان کا پتہ نہیں وہابیوں‌نےکیا بگاڑا تھا حالانکہ وہابی کا لفظ کبھی یہ لوگ اپنی کتابوں میں نہیں لکھتے۔آج تک میں‌نے کوئی ایسی کتاب نہیں دیکھی جس پر مصنف نے وہابی لکھا گیا ہو نہ آپ لوگ دھونڈ سکتے ہیں۔
    ذرا ان کے فتووں پر بھی نظر کرم فرمائیں:

    1- وہابیوں کے سلام کا جواب دینا حرام ہے ۔ (فتاوی افریقہ ، احمد رضا خان بریلوی، ص170)
    2- وہابیوں سے مصافحہ کرنا ناجائز و گناہ ہے۔ (بریق المنار،فتاوی رضویہ ، جلد4 ،ص 218)
    3- ان سے میل جول قطعی حرام، انھیں پاس بٹھاناحرام، ان کے پاس بیٹھنا حرام، بیمار پڑیں تو عیادت حرام، مرجائیں تو مسلمانوں کا سا انہیں غسل و کفن دینا حرام، ان کا جنازہ اٹھانا حرام، ان پر نماز پڑھنا حرام، ان کو مقابر مسلمیں میں‌دفن کرنا حرام، ان کی قبر پر جانا حرام۔ (فتاوی رضویہ، جلد6،ص90)
    4- انہیں مسلمان سمجھنے والے کے پیچھے نماز جائز نہیں (فتاوی رضویہ، جلد6،ص81)
    5- دیوبندی عقیدہ والوں کی کتابیں ہندؤں کی پوتھیوں سے بدتر ہیں۔ ان کتابوں کا دیکھنا حرام ہے۔ البتہ ان کے ورقوں پر استنجا نہ کیا جائے حروف کی تعظیم کی وجہ سے نہ کہ ان کی کتابوں کی۔ نیز اشرف علی کے عذاب و کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد2،ص136)
    6- وہابی ہر کافر اصلی، یہودی، نصرانی، بت پرست اور مجوسی سب سے بھی بدتر ہیں اور ان کا کفر ان سے بھی زیادہ ہے۔ (بالغ النور ، درج فتاوی رضویہ، جلد6،ص13)
    7- یہ کتے سے بھی بدتر ہیں کہ کتے پر عذاب نہیں اور یہ عذاب شدید کے مستحق ہیں۔ (ازالہ العار، درج فتاوی رضویہ، جلد5،ص138)
    8- وہابیوں کے پیچھے نماز ادا کرنا باطل محض ہے۔ (بالغ النور ،درج فتاوی رضویہ، جلد6،ص43)
    9- وہابی نے نماز جنازہ پڑھائی تو گویا مسلمان بغیر جنازے کے دفن ہوگیا۔ (فتاوی رضویہ، جلد4،ص12)
    10- وہابی سے نکاح پڑھوایا تو نہ صرف یہ کہ نکاح نہیں ہوابلکہ اسلام بھی گیا۔ تجدید اسلام و تجدید نکاح لازم۔ (ماھی الضلالہ ،درج فتاوی رضویہ، جلد5،ص50،89)
    11- غیر مقلدین جہنم کے کتے ہیں۔ رافضیوں کو ان سے بدتر کہنا رافضیوں پر ظلم اور ان کی شان خباثت میں تنقیص ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد6،ص121)
    12- کفر میں یہود، نصاری سے بدترہیں۔ ہنود ، مجوسی سے بدتر ہیں اور وہابیہ ہندؤں سے بھی بدتر ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد6،ص13)

    اللہ ایسے تکفیری ذہن سے ہر کسی کو بچائے۔۔ آمین

    کیا خیال ہے؟ کچھ دل منور ہوا ان فتووں کو پڑھ کر یا کچھ اور بھی پوسٹ کردوں۔



    بالکل صحیح کہا آپ نے۔۔۔یہ سارے فتوے پڑھنے کے بعد آپ کو کچھ بھی ہوش آجائے تو بہتر ہے ورنہ موت تو سب کچھ سیکھا ہی دے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ان شاء اللہ عزوجل)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں