اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان

ہیر نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏اگست 21, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    ۳۔ شجرہ رضویہ میں ہر بزرگ کے نام کے ساتھ جو درود شریف کے الفاظ ملتے ہیں ، تو ان لفظوں میں پہلے نبی کریم ﷺ پر پھر باقی بزرگان سلسلہ اور پھر اُس نام والے بزرگ پر درود پڑھا جاتا ہے ، یہ اس طرح تبعاً درود شریف پڑھنا ہے جو جائز ہے، اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دُرود صدقہ کے الفاظ یوں سکھائے ہیں ”اللھم صل علی محمد عبدک ورسولک وصل علی المئومنین والمئومنات والمسلمین والمسلمات “
    (صحیح ابن حبان، ج۳، ص۶۷۔ الادب المفرد، حدیث ۰۴۶۔ مسند ابویعلیٰ، ج۲، حدیث۷۹۲۱۔ مجمع الزوائد، ج۰۱، ص۷۶۱ ، احسن الکلام ، ص۶۶،مطبوعہ سیالکوٹ، از مولوی عبدالغفور اثری غیر مقلد)
    جب مسلمین ومسلمات اور مومنین ومومنات پر تبعاً دُرود بھیجنا جائز ہے تو سلسلہ قادریہ کے اولیاءکرام نے کیا قصور کیا ہے؟ جب کہ اس شجرہ میں بھی پہلی سطر میں نبی کریم ﷺ پر ہی درود بھیجا گیا ہے، اگر یہاں اعتراض جائز ہے تو پھر کیا دُرود صدقہ پربھی معاذاﷲ جائز ہوگا ؟
     
  2. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    ۴۔اس تھریڈ میں وہابیوں نے اعلی حضرت مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ الرحمن کے نام کے ساتھ رضی اﷲ عنہ کہنے پر بھی اعتراض کیا گیا ہے، حالانکہ قرآن پاک میں رضی اﷲ عنہم کے الفاظ صرف مہاجرین وانصار کے ساتھ خاص نہیں ہیں بلکہ مہاجرین وانصار کی اتباع کرنے والے تمام افراد کے لئے یہ الفاظ ہیں، اسی لئے مولوی ثناءاﷲ امرتسری غیر مقلد نے ترجمہ کیا ”مہاجرین وانصار اور جو اُن کی نیک روش کے تابع ہوئے (آج سے قیامت تک) خدا اُن سب سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی“ (ترجمہ ثنائی، ص۳۴۲، سورة توبہ، آیت نمبر ۰۰۱، مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان) ، لیجئے اب تو قیامت تک کے تمام نیک روش والے لوگ رضی اﷲ عنہم قرار پائے ہیں ۔ سورة البینة میں ایمان، اعمال صالحہ اور خشیت الٰہی کے جامع افراد کو رضی اﷲ عنہم کے الفاظ سے یاد کیاگیا اور سورة توبہ میں اتباع صحابہ اور حالت احسان کو اپنانے والوں کو رضی اﷲ عنہم کی خبر سے نوازا گیا، (سورة فاطر، آیت ۸۲ میں خشیت الٰہیہ والوں کو علماءحق مانا گیا)، ان آیات کی روشنی میں ایمان، اعمال صالحہ، اتباع صحابہ ، خشیت الٰہی اور حالت احسان کے ساتھ عبادت کرنے والوں کو رضی اﷲ عنہم کے الفاظ کا حق دار ماننا پڑتا ہے۔ اگر مخالفین میں ان صفات کے جامع افراد موجود نہ ہوں تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تو رضی اﷲ عنہم کے الفاظ بطور خبر بولے، کیا اُن الفاظ کو ہم بطور دُعا کسی کے لئے بھی نہیں بول سکتے؟ اور دریافت طلب یہ امر ہے کہ ہمارے مخالف جب کسی صحابی کا نام لے کر رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں تو وہ رضی اﷲ عنہ کے الفاظ بطور خبر بولتے ہیں یا بطور دُعا؟ اگر بطور دعا بولتے ہیں تو کس آیت یا حدیث میں آیا ہے کہ جب صحابی کا نام لو تو رضی اﷲ عنہ کے لفظوں سے اُسے دعا دیا کرو اور بعد والوں کے لئے کسی کو بھی یوں نہ کہو کہ” اﷲ تجھ سے راضی ہو“۔
     
  3. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    مزید جوابات بہت جلد انشاء اللہ عزوجل۔۔۔۔

    اصول ہے۔۔ پہلے مناظرہ پھر مباہلہ۔۔۔
    اس لئے اعتراضات مکمل ہو جائیں۔۔ انشاء اللہ عزوجل پھر مباہلہ کی طرف آئیں گے۔
     
  4. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    سگ مدینہ کا چرچہ قادری عطاری صاحب نے بہت کیا ہے۔
    [​IMG]
     
  5. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    اللہ ہم کو ہر قسم کی شرکیات وبدعات سے محفوظ فرما. آمین ثم آمین
     
  6. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    وقعات السنان کی زبان پر اعتراض کا جواب

    مصروفیات کی وجہ سے کافی دن نہیں آسکا۔۔۔

    وقعات السنان کی زبان پر اعتراض کا جواب
    میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ وہابیہ نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی کتب کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی ہیں۔ بس اپنے مولوی کی اندھی تقلید میں مکھی پر مکھی مارتے ہیں۔
    اس لئے تمام وہابیت کو چیلنج ہے۔ اس کتاب کے اسکین پیجز پوسٹ کئے جائیں۔ اور دکھایا جائے یہ کتاب کیا اعلیٰ حضرت کی ہے؟
    مگر مجھے پتہ ہے وہابی اس کا جواب کبھی نہیں دے سکتے۔۔ اس کتاب کے مصنف اعلیٰ حضرت نہیں بلکہ شہزادہ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضا خاں صاحب علیہ الرحمہ ہیں۔

    اب عبارت کا جواب​


    نبی کریم ﷺ کے مخالفین کی توہین کرنے کے لئے صریح یا پہلودار کلمات کا استعمال ہرگز گناہ نہیں، قرآن وحدیث میں اُن کے لئے ملعون، خبیث، کتا، گدھا، جانور، جانوروں سے بدتر، شرّ البریہ وغیرہ کے کلمات ملتے ہیں ، گستاخ رسول کے لئے سورة القلم میں زنیم (بد اصل،حرام زادہ) کا لفظ ملتا ہے ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے عروہ بن مسعود کو ایک ایسے ہی موقع پر فرمایا تھا اُمصص بظر اللات،یعنی لات کی بظرکو چوس(suck the clitoris of Laat.) ( بخاری ، کتاب الشروط، باب الجہادو المصالحہ.... حدیث نمبر۲۳۔۱۳۷۲)۔( لغات الحدیث، جلد۱، ص۵۷، از نواب وحید الزماں)
    (ظلم وظالم کے خلاف) مظلوم کی زبان سے نکلے ہوئے سخت الفاظ (جھر بالسوءمن القول) بھی اﷲ کو محبوب ہیں۔ (سورة نساء، آیت ۸۴۱)
    وقعات السنان میں توہین کا پہلو رکھنے والی عبارات اس لئے لائی گئیں کیونکہ مخالف اپنی گستاخانہ عبارات کے بزعم خویش غیر توہینی پہلو پیش کرتے تھے تو جواب میں ایسی زبان اُن کے اکابر کے بارے میں بولی گئی، جس میں ایک پہلو گستاخی کا بھی تھا، پہلودار گستاخانہ زبان سے اُنہیں یہ جتلانا مقصود تھا کہ درست معنی ملنے کے باوجود بھی گستاخانہ پہلو غالب رہتا ہے، اور آج تک وقعات السنان کی زبان کے اس پہلو کو دکھا کر وہ چیخ رہے ہیں اور یہی وقعات السنان کا مقصود تھا کہ واضح ہوجائے کہ پہلو دار زبان اور احتمال دار عبارت کے عرف میں گستاخانہ مفہوم کو غالب مانا جائے گا اور دوسرے پہلو مسترد کردئیے جائیں گے۔
     
  7. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    سبحان السبوح پر اعتراض کا جواب
    اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کی کتاب ”سبحان السبوح “ کی عبارات پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے، اس کا پر پہلا سوال تو یہ ہے کہ تم اصل اسکین پیجز یہاں پوسٹ کرو۔۔۔ اور دکھائو اصل الفاظ کیا ہیں۔۔۔ مگر مجھے پتہ ہے کہ یہاں اپنے مولوی کی اندھی تقلید ہو رہی ہے۔ وہابیوں نے بیچ کی عبارت نقل کر کے ہمیشہ کی طرح اپنی دوغلی پالیسی کا ثبوت دیا ہے۔۔ روح اعلیٰ حضرت سے فریاد کتاب کا جواب ابھی دیتا ہوں۔۔ پہلے اُس میں لکھے سبحان السبوح و فتاویٰ رضویہ شریف کی عبارات کا جواب پڑھ لو۔۔
    سبحان السبوح اور فتاویٰ رضویہ میں وہابیہ کے اُس معروف قاعدے کی حقیقت کھولی گئی ہے کہ جب تم کہتے ہو کہ”اگر خدا جھوٹ نہ بول سکے تو بندے کی قدرت خدا سے بڑھ جائے گی اور جیسی برائی بندہ کرسکتا ہے ویسی خدا بھی کرسکتا ہے “ (مفہوم رسالہ ”یک روزی“ وغیرہ) ۔
    وہابیہ کے اس عقیدہ کی رو سے دنیا جہان میں جو بھی بندہ جس قسم کی بھی برائی کررہا ہے وہ خدا بھی کرسکتا ہے،ان برائیوں کو خدا کے لئے ممکن ومقدور ماننا خدا کی گستاخی ہے ، اس موقف کی قباحتوں کو اعلی حضرت اس قدر کھول کر بیان فرماتے ہیں کہ تمام مخالفین کو بھی اعتراف کرنا پڑا کہ یہ نظریات تو اﷲ تعالیٰ کی توھین ہیں، اور یہی کچھ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ ذریتِ وہابیت سےمنوانا چاہتے تھے، جو آج آپ مان رہے ہیں۔ اور ان الفاظ سے پہلے یہی لکھا ہوا ہے کہ وہابیہ کا خدا۔۔ اور یہ الفاظ وہابیوں نے حذف کر لئے۔۔ مگر ان عبارات سے جو مقصود تھا۔ الحمد للہ عزوجل وہ اہلسنت کو مل گیا۔۔۔ اور وہابیہ کا باطل عقیدہ اللہ جھوٹ بول سکتا ہے (معاذاللہ) ان الفاظ کی وجہ سے غلط ثابت ہو گیا۔۔۔
     
  8. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    لفظ وہابی پر مزید بحث


    وہابی کا لفظ ، کبھی تو آپ لوگ گالی سمجھ کر انگریز حکومت کو درخواست دیتے ہو کہ ہمیں وہابی نہ کہا جائے اور ہمیں اہلحدیث کہا جائے، اور جب موڈ بدلتا ہے اور طبیعت ہشاش بشاش ہوتی ہے تو کہتے ہو کہ وہابی کا معنی ہے وہاب والا، اﷲ والا اور ساتھ ہی یہ شعر گنگناتے ہو
    وہابی کا مطلب ہے رحمان والا
    کچھ اور ہی سمجھا ہے شیطان وا
    ل
    ا​
    (کتاب ”ہم اہلحدیث کیوں ہیں؟ “ از عبدالغفور اثری ، ص۹۷)

    گویا ع حضرت شیخ کا قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
    سادہ الفاظ میں دوغلی پالیسی
     
  9. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    مزارات پر اعتراضات کا جواب

    آپ کو مزارات پر ہونے والی نظارہ بازی، فحاشی اور اختلاط اور سجدہ ہائے تعظیمی پر اعتراض ہے، اس سلسلے میں اس تھریڈ میں طاہر القادری کا نام بھی لیا گیا ہے۔
    اسکا جواب ہے کہ طاہر القادری تمام اکابر علمائے اہل سنت کے نزدیک سنی نہیں ہے، اسی طرح وہ لوگ جو مزارات پر سجدے کرتے ہیں یا نظارہ بازی اور فحاشی کا ارتکاب کرتے ہیں وہ علمائے اہل سنت کے فتوے اور مسئلے کے تارک ہیں، اور ان مسائل میں وہ غیر مقلد ہیں، ہاں اگر ہمارا کوئی عالم ان باتوں کے جواز کا فتویٰ دیتا ہے تو وہ آپ پیش کریں اور ہم سے جواب مانگیں،

    مزارات پر نظارہ بازی اور فحاشی کرنے والے لوگ ہمارے نزدیک گناہ گار اور فاسق ہیں اور ان باتوں میں وہ فقہ حنفی کو نہیں مانتے اور غیر مقلد ہیں، اور یہ محض کہنے کی بات نہیں بلکہ نظارہ بازی کو جائز کرنے کے لئے اہل حدیث حضرات کا فتویٰ موجود ہے،
    ” بڑے آدمی کو اگرچہ داڑھی والا ہو عورت کا دودھ چوسنا اس لئے جائز ہے کہ نظارہ کرنا جائز ہوسکے “ (عرف الجادی، از نواب صدیق حسن خاں بھوپالی غیر مقلد ، مطبوعہ بھوپال ۱۰۳۱ھ، ص۰۳۱۔ الدررالبھیة ، از قاضی شوکانی، مطبوعہ اسلامک پبلشنگ ہاﺅس قذافی سٹریٹ ۷۱ اُردو بازار لاہور، ص۶۲)
    جب نظارہ بازی جائز کرنے کے لئے داڑھی والا مرد کسی عورت کا دودھ چوسے گا تو شہوت بھی اجاگر ہوگی ، پھر وہ دوسرے غیر مقلد کے مسئلے پر عمل کرے گا ، جس کے بارے میں وحید الزماں نے لکھا ہے کہ ہمارے ہی بعض اصحاب متعہ کے نکاح کو جائز کہتے ہیں (نزل الابرار)،
    یہ نظارہ بازی اور متعہ بازی مزارات پر ہویا کہیں اور ہو تو ہمارے نزدیک نافرمانوں کا اور غیر مقلدوں کے نزدیک اُن کے ساتھ والے غیر مقلدوں کا فعل ہوگا۔ یہ نظارہ بازی اور فحاشی مزارات پر ، بازاروں میں ، سکولوں اور کالجوں میں ، غیر مقلدوں کی عید گاہوں میں اور اُن کے جمعہ کے اجتماﺅں میں بھی تو دیکھی ہی گئی تھی، اُن کے ٹیوشن سنٹروں اور گھروں میں بھی صائمہ روپڑی جیسے مشہور زمانہ واقعات کسی مزار پر حاضری کا شاخسانہ نہیں ہیں۔
     
  10. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    قبروں پر عمارت بنانے پر کارتوس خان نے کافی بحث کی ہے اقتباس میں۔۔۔ بحث کیا ہے ۔۔ ٹائم پاسنگ ہی سمجھ لیں۔ اور جواباً کسی اور وہابی نے بھی رپلائی نہیں کیا۔۔ یعنی کارتوس کے رپلائی پر اجماع وہابیہ ہے۔۔۔
    اور نبی اور وارث نبی کی قبروں پر بناء اجماع صحابہ ہے اور اس اجماع میں آپ کی پیش کردہ روایات کے راوی صحابہ کرام بھی شامل ہیں، آپ نے ہم اہل سنت کی طرف سے پیش کردہ مدلل مضمون (بناءعلی القبر) کو دیکھ کر بوکھلاہٹ میں جو کچھ لکھا ، تو اُس کا جواب بھی اُسی مضمون کے اندر موجود ہے ، ذرا سا تفکر وتدبر فرمانے کی ضرورت ہے ، اسی تھریڈ میں کہا گیا کہ حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ وغیرہ کی قبروں کو بناءکے اندر کیوں نہ بنایا گیا یا اُن پر قبہ کیوں نہ بنا؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کے کسی کام کے نہ کرنے کی وجہ ممانعت ہی نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات دیگر مصروفیات یا عدم توجہ یا عدم ضرورت یا کسر نفسی اور تواضع یا غلط فہمی نومسلماں، یا خدشہ فرضیت بر اُمت یا عدم عادت وغیرہ کی وجہ سے بھی آپ ایک کام نہیں فرماتے، لہذا کسی کام کا نہ کرنا اُس کے ممنوع ہونے کی قطعی دلیل نہیں اور ہمارے نزدیک روضہ بنانا فرض ، واجب یا لازمی ہر گز نہیں کہ ہم پر یہ سوال ہوسکے۔
     
  11. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    فکر نہ کر بھائی۔ میرے امتحانات ہورہے ہیں۔ انگریز کا ایجنٹ کون ؟ اس بارے میں میں تفصیل سے لکھوں گا بس آج کل امتحانات ہورہے ہیں۔ اس لئے میں نے تحقیق چھوڑ دی ہیں۔
    ماشاء اللہ اعلی حضرت نیٹ ورک سے میں نے بہت کچھ ڈاؤن لوڈ کرلیا ہے۔ سب کچھ یہاں‌پر پیش کیا جائے گا۔ بس ذرا صبر کیجئے محترم۔
    اللہ حافظ
     
  12. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    وہ حبیب پیارا (صلی اللہ علیہ وسلم) تو عمر بھرکرے خیر جود ہی سر بسر
    ارے تجھ کو کھائے تب سقر تیرے دل میں کس سے بخار ہے
    وہ رضا کے نیزے کی مار ہے کہ اعدو کے سینے میں غار ہے
    کسے چارہ جوئی کا وار ہے کہ یہ وار آر سے
    پار
    ہے​

    اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ پر شیعہ ہونے کا بہتان عظیم​

    اعلیٰ حضر ت امام اہلسنت امام شاہ احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کے شیعہ ہونے کا ثبوت یہ پیش کیا گیا کہ ان کا نسب نامہ یہ ہے: ”احمد رضا ولد نقی علی ولد رضا علی ولد کاظم علی“

    آنکھ والا تیرے جلووں کا تماشہ دیکھے
    دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھ​
    ے


    اس جواب کا جواب یہ ہے کہ
    حضرت مولانا احمد رضا خاں قادری بریلوی علیہ الرحمہ کا خاندانی نسب نامہ اس طرح ہے :
    احمد رضا خاں ابن حضرت مولانا نقی علی خاں بن حضرت مولانا رضا علی خاں بن حضرت مولانا حافظ محمدکاظم علی خاں بن حضرت مولانا شاہ محمد اعظم خاں بن حضرت محمد سعادت یار خاں بن حضرت محمد سعید اﷲ خاں رحمة اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین “
    (حیات اعلیٰ حضرت، جلد اوّل، مطبوعہ مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی، ص۲)
    کیا امام زین العابدین، امام، جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم، امام علی رضا، امام نقی رحمہم اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین شیعہ تھے؟ ، لاحول ولا قوة الا باﷲ

    خود ان وہابیوں کے اکابرعلماءکے نام ملاحظہ ہوں ،شیخ الکل مولوی نذیر حسین محدث دہلوی (غیر مقلد)، مولوی نواب صدیق حسن بھوپالی(غیر مقلد)، مولوی محمد حسین بٹالوی(غیر مقلد) ، مولوی سید شریف حسین ،مولوی ڈپٹی سید احمد حسن، مولوی سید امیر حسن سہسوانی، مولوی سبط احمد، مولوی حکیم مظہر علی، مولوی محمد تقی، مولوی سید علی، مولوی سید اولاد حسن، مولوی نواب سید علی حسن بھوپالی، مولوی سید حیدر علی، مولوی خرم علی بلہوری ، مولوی مرزا حسن علی لکھنوی۔
    (تراجم علمائے حدیث ہند، از ابو یحیٰ امام خاں نوشہروی، مطبوعہ مکتبہ اہل حدیث ٹرسٹ، کراچی، ص۳ تا ۳۱)
    کیا یہ غیر مقلد مولوی شیعہ تھے؟اگر نہیں تھے تو کیوں؟ ​

    ” سنن ابن ماجہ “کے مقدمہ میں حدیث نمبر ۵۶ کے تحت درج ہے : ”حدثنا علی بن موسیٰ الرضا عن ابیہ عن جعفر ابن محمد عن ابیہ عن علی ابن الحسین عن ابیہ عن ابی طالب “
    ابن ماجہ کے دادا استاد ابو صلت نے کہا : لوقریءھذا الاسناد علی مجنون لبراً یعنی اس سند کو اگرکسی مجنون پر پڑھا جائے تو اس کا جنون دور ہوجائے۔ (سبحان اﷲ)
    لیکن کیا کیجئے ، ان جہلائے وھابیت کی بد بختی کا کہ وہ ان بابرکت ناموں کو دیکھیں تو ان کا پاگل پن اور زیادہ ہوجاتا ہے اور وہ ان اسماءمبارکہ کو یکجا لکھا دیکھ کر شیعہ شیعہ کا نعرہ لگانا شروع کردیتے ہیں ۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون
     
  13. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    علمائے اہل سنت سے روح اعلیٰ حضرت کی فریاد صفحات کا جواب​

    ”علمائے اہل سنت سے روح اعلیٰ حضرت کی فریاد“ نامی کتابچہ دیوبندیوں نے تقیہ کے طور پر لکھا ہے ، یہ ایسے ہی ہے جیسے کئی شیعہ ماضی میں بظاہر سنی بن کر کتابیں لکھتے رہے ، (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب ”میزان الکتب“ از مولانا محمد علی ، جامعہ رسولیہ شیرازیہ ، بلال گنج لاہور)، اسی طرح وہابیوں نے شاہ ولی اﷲ محدّث دہلوی علیہ الرحمہ کے نام سے ”البلاغ المبین“ اور ”تحفة الموحدین“ جیسی کتابیں لکھیں، یہ بدمذہبوں کا ایک پرانا حربہ ہے اور یہ منافقانہ حرکتیں منافقانہ مذاہب کو ہی زیب دیتی ہیں ، ایسی کتابوں پر اُن کو فخر کرنا بھی سجتا ہے اور اس کتابچہ میں تقریباً وہی مواد ہے جو کتاب ”رضا خانی مذہب“ میں مولانا احمد سعید قادری نے لکھا اور یہ سب کچھ اور بہت کچھ لکھنے کے بعد کتاب رضا خانی مذہب کا مصنف اپنی باطل حرکتوں سے توبہ تائب ہوا اور حق قبول کرکے مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی کے مسلک پر آگیا ہے، اور اُس نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ میں نے اپنی کتاب میں سب جھوٹ لکھا تھا۔۔ اُن کی تقریر میں وہابی سے سنی کیوں ہوا؟ یہاں سے سنی جا سکتی ہے۔۔۔ جس میں اُنھوں نے کہا ہے کہ میری ان کتب کو جو بطور دلیل پیش کرے وہ جھو ٹا ہے۔۔
    یہ چھوٹے موٹے پمفلٹ اُسی کتاب کے بغل بچے ہیں ، ان کی کوئی حیثیت نہیں۔
     
  14. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    ” تجانب اہل سنت “ ایک غیر معتبر عالم محمد طیب دانا پوری کی غیر محققانہ کتاب ہے ، ہمارے اکابر علماءاس سے بارہا اظہار براءت کرچکے ہیں، کیونکہ اس کتاب میں مختلف افراد پر جن عبارات یا اقوال کی بنیادوں پر تکفیر کی گئی ہے ، تو بعض عبارات یا اقوال تو اخباری تراشوں کی حیثیت رکھتے ہیں، اور بعض کفریہ عبارات واقعی ثابت ہیں، مگر وہاں بے خبرئ فتویٰ کی وجہ سے صاحب قول کا التزام کفر ثابت نہیں اور بعض لوگوں کا لزوم کفر کا فتویٰ دیکھ کر توبہ کرلینا منقول ہے،

    علامہ اقبال کی توبہ مشہور ہے، واضح رہے کہ علامہ صاحب نے وہابیت کو دیوبندیت اور مرزائیت کی بنیاد قرار دیاہے۔ (اقبال کے حضور، از سید نذیر نیازی، مطبوعہ اقبال اکادمی کراچی ۱۷۹۱ئ، ص۱۶۲)، اسی طرح الطاف حسین حالی سے آپ کو ہمدردی ہے ، مگر حالی نبی پاک ﷺ کے حضور یوں استغاثہ کرتا ہے !
    اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
    اُمت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے
    (مسدس حالی)
    )​
    کہئے حالی مشرک تو نہیں ہوا؟ یا سلطنت وہابیہ کی طرف سے حالی کو یہ شرک معاف ہے؟
    یوں ہی آپ کو ابوالکلام آزاد سے بھی ہمدردی ہے جس کو قائد اعظم نے کانگریس کا شو بوائے( بچہ جمہورا) قرار دیا تھا اور جس نے مرزا قادیانی کے جنازے کو کندھا دیا تھا۔( یاران کہن، از عبدالمجید سالک ، مطبوعہ چٹان پریس لاہور ۵۵۹۱ء، ص۲۴)،لہذا آپ کو یہ بھی اپنا ساتھی ہی نظر آتا ہے ، اس کی آپ لوگوں کے بارے میں کیا رائے تھی، وہ پروفیسر ابو بکر غزنوی کی زبانی سنئے!
    ” اُس آواز سے درشتی ٹپک رہی تھی، مجھے معاً مولانا آزاد کا اہل حدیثوں کے بارے میں وہ فقرہ یاد آگیا ”ان پتھروں کو اگر میں ہزار برس بھی تراشتا رہوں تو ان سے انسان کا بچہ تو میں پیدا نہیں کرسکتا ہوں“ ۔ (فاران ، کراچی ، سلور جوبلی نمبر ۶۸۹۱ء، ص۹۱۲، بحوالہ تعارف علمائے اہل حدیث ، ص۵۷۱)
    ہ
    ائے وہابیوں کو اپنے گھر کی خبر نہیں۔۔۔ باقی پوری دنیاں کے ٹھیکے دار ہیں۔۔۔​
     
  15. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    سگ مدینہ کہنے کا جواب

    سگ مدینہ کہنے کا جواب
    اس کیلئے پہلے میں نے لنک پوسٹ کیا تھا آرٹیکل کا جواباً کہا گیا قرآن و حدیث سے دلیل دو۔۔۔
    ان شاء اللہ قرآن سے بھی دلیل دوں گا۔۔ مگر پہلے میں کچھ دین کے ٹھیکیداران کا جواب تو دیکھ لوں۔۔جو دوسروں کے اکابرین کے متعلق تو جواب لینے پہنچ جاتے ہیں۔۔ اپنے گھر کی خبر نہیں۔۔ اور جب جواب مانگا جائے تو خاموش۔۔۔ جس کام پر اعتراض آپ لوگ ہم پر کرتے ہیں تو اصولاً ہر کسی پر کرنا چاہیے۔۔ جو بھی وہ کام کرے۔۔۔ مگر کیا کیا جائے۔۔۔ دوغلی پالیسی کا۔۔۔ خیر میرا پہلے ایک سوال ہے آپ لوگوں سے ۔۔۔ پھر اعتراض کا جواب۔۔
    (سوال) جو اپنے آپ کو سگ کہے۔ اُس پر کیا حکم ہے۔
     
  16. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
  17. کلک رضا

    کلک رضا محسن

    شمولیت:
    ‏دسمبر 16, 2007
    پیغامات:
    82
    آج کا آخری جواب۔۔ پھر زندگی رہی تو ان شاء اللہ ضرور آنا ہوگا۔۔۔ ایک بار میں پھر کہہ دوں (چونکہ اعجاز علی آپ نے مباہلے کا چیلنج دیا ہے۔ جس کے جواب پر میں اپنی پوسٹس کا اختتام کر رہا ہوں) کہ مزید اعتراضات کے بجائے جن کا جواب دیا گیا ہے اُن پر بات کی جائے۔ تاکہ مسئلہ کسی حل جانب گامزن ہو۔۔ کہ کون جھوٹا اور کون سچا۔۔ اگر وہابی اعتراض کرتے جائیں۔ میں آکر جواب لکھتا رہا اور اُن جوابات پر کوئی صحیح رپلائی نہیں ملا۔۔ تو یہ وہابیہ کی ٹائم پاسنگ ہے۔۔ اور میرے پاس ٹائم کی بڑی قلت ہے۔۔۔ اُمید کرتا ہوں۔۔ ابھی جو بھی مجھے رپلائی کرے گا۔۔ وہ پہلے میرے پوسٹس میں دیے گئے جوابات پر رپلائی کرے گا۔۔

    مسلک وہابیہ کی خلاف ورزی ۔ مباہلہ چیلنج کا جواب​

    اعجاز علی آپ نے مباہلے کی دعوت دی ہے۔۔ میں نے لکھاتھا کہ اصول ہے۔ پہلے مناظرہ پھر مباہلہ۔۔۔ اس لئے میں ابھی تک اعتراضات کا جواب پوسٹ کر رہے ہوں۔
    اور جہاں تک مباہلہ کی دعوت کا تعلق ہے ، اس سلسلے میں بھی آپ کے مسلک کے قواعد کو دیکھیں توآپ کو مباہلہ کا اختیار ہی حاصل نہیں ہے، کیونکہ آپ لوگوں کے نزدیک تو دعائے لعنت وعذاب کا اختیار نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس بھی نہیں تھا، بیر معونہ کے واقعہ کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ظالموں کے خلاف ایک ماہ تک دعائے لعنت وعذاب فرمائی مگر اﷲ تعالیٰ نے فرمایا لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذَّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ (سورة آل عمران، آیت ۸۲۱) جس کے بعد آپ لوگ نبی پاک ﷺ کے لئے ہی یہ اختیار نہیں مانتے کہ وہ ظالموں کے لئے دعائے لعنت وعذاب فرماسکتے ہوں، تو آپ کو دعائے مباہلہ (دعائے لعنت وعذاب) کا اختیار کیسے حاصل ہوگیا؟ مباہلہ تو ہمارے مسلک کے مطابق درست بنتا ہے ، پھر آپ کو یہ بھی پتہ نہیں کہ قرآن کے اسلوب کے مطابق پہلے اتمام حجت دلائل سے کیا جاتا ہے (جسے آپ مناظرہ کانام دے سکتے ہیں) ، دلائل سے لاجواب ہوکر بھی اگر کوئی حجت بازی سے باز نہ آئے تو پھر مباہلہ کی دعوت ہوتی ہے (سورة آل عمران، آیت ۹۵تا ۱۶) ، پہلے مناظرہ کے دلائل تو پورے ہو لینے دیں پھر مباہلہ کا وقت آئے گا ، جس میں مخالف کے لئے لعنت وعذاب کی دعا کرنا پڑتی ہے، ہم آپ کے لئے ہدایت ہی کی دعا کریں گے ، ہمیں ”سیّد“ اور ”شاہ “کے لفظوں کا لحاظ ہے ، آپ یک طرفہ طور پر میرے خلاف دعائے مباہلہ کرنا چاہیں تو روزانہ کریں اور مدت مقرر کرکے مجھے آگاہ کردیں۔
     
  18. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی آپ کو پتہ ہے یہ کیوں کیا گیا۔ کیوں کہ جناب اعلی حضرت جیسے لوگوں نے انگریزوں کی کل کر مدد کی تھی اور پھر وہابی وہابی کرکے انگریزوں کو مزید اہلحدیث کے خلاف بھڑکایا گیا۔ بھائی بات انگریز حکومت کی ہورہی ہے۔ احمد رضا خان کے بارے میں تاریخ کیا کہتی ہے۔ کیا ایک دن بھی جہاد کیلئے گیا ہے۔ مجھے ذرا ان کی ایک کتاب دکھائیے جو جہاد کے حق میں ہو۔ عجیب بات ہے وہابی انگریز کے ایجنٹ ہو کر انگزیزوں کے خلاف لڑتے رہیں اور جیل کاٹتے رہیں۔ ان کے خلاف انگریزحکومت عدالت میں ہمیشہ کیس بناتے رہی۔ لیکن جناب اعلی حضرت کے بارے میں کبھی نہیں آیا کہ وہ انگزیز حکومت کے خلاف لڑنے کیلئے نکلے ہو اور جہاد کے حق میں آواز لگائی ہو۔کوئی ایک کیس بھی ان کے خلاف عدالت میں نہیں بنا کیوں کہ جہاد سے فرارکیلئے وہ جہاد حرام کے فتوے دیتے رہیں ذرا یہ ویڈیو دیکھئے :

    [YOUTUBE]http://www.youtube.com/watch?v=4zMUvokGFMg&feature=related[/YOUTUBE]

    اس علاوہ یہ دیکھیے:
    [YOUTUBE]http://www.youtube.com/watch?v=E8aVJ2fPVYo&feature=related[/YOUTUBE]

    اور ویکی پیڈیا میں دیکھئے:
    اسی ویکی پیڈیا میں ذرا وہابیوں کے بارے میں دیکھئے کہ انگریز ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں:


    اس کے علاوہ اعلام العلام بان الھندوستان دارالاسلام کتاب بھی لکھی ہے۔اس کے علاوہ اپنی کتاب دوام العیش من ائمۃ القریش میں بھی یہ لکھا ہے کہ مسلمانان ھند پر جہاد و قتال کا حکم نہیں (کیوں کہ برطانیہ کی حکم ختم ہوجائے گی جس سے نقصان اعلی حضرت کو ہوگا)

    [​IMG]
    http://www.alahazratnetwork.org/dlibrary/alahazrat_books/quraish_aiimah/index.htm
    یاد رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی یہی نظریہ تھا جہاد کے بارے میں کہ ہندہستان دارالحرب نہیں ہے اور جہاد بھی فرض نہیں۔ ملاحظہ ہو اس کی کتاب سے صفحہ: گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

    [​IMG]
    http://www.alislam.org/urdu/govt/index.php?page=6

    یہی طریقہ اعلی حضرت نے بھی اپنایا۔ اور کیوں نہ اپنایا ہو کہ ان کے اہم اساتذہ میں ایک مرزا غلام قادر بیگ بھی تھے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے بھائی تھے۔اس کا ثبوت بریلیوں کی کتاب میں موجود ہے۔ بلکہ ویکیپیڈیا میں بھی ذکر ہے۔ ملاحظہ ہو:
    Code:
    حضرت مولانا ملک العلماء سید ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ نے 1327ھ مطابق 1909ء میں مولانا کی تصنیفات کی ایک فہرست بنام المجمل المعدعتالیفات المجدد مرتب فرمائی اور آخر میں ایک جدول پیش کی جس میں ان سبھی علوم و فنون کا نام ہے جن میں 1327ء تک مولانا کتابیں تصنیف کیں۔
    
    [SIZE="4"]م[URL="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%B1%D8%B6%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D9%84%D9%88%DB%8C"]رزا غلام قادر بیگ بریلوی م 1301ھ 1883ء [/SIZE]
    والد ماجد مولانا محمد نقی علی خان بریلوی م 1297ھ 1880ء 
    مولانا عبد العلی خان رامپوری م 1303ھ 1885ء تلمیذ علامہ فضل حق خیرآبادی م 1278ھ 1861ع 
    شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی م 1324 ھ 1906ء مولانا نور احمد بدایونی م 1301ھ 
    شاہ آل رسول مارہروی م 1297ھ 1879ء تلمیذ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی م 1239ھ. 
    امام شافعیہ شیخ حسین صالح م1306ھ 1884ء 
    مفتی حنفیہ شیخ عبد الرحمٰن سراج م 1301ھ 1883ء 
    مفتی شافعیہ شیخ احمد بن زین دحلان م 1299ھ 1881ء قاضی القضاۃ حرم محترم[/URL]
    
    

    اور بھی بہت زیادہ ثبوت ہیں بھائی۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ آج بھی بریلیوں میں کوئی جہاد سے محبت کرنے والا نہیں۔

    اگر مذکورہ بالا کتاب(اعلام الاعلام بان ھندوستان دارالاسلام) کی روشنی میں دیکھا جائے تو آج دنیا میں کسی خطے میں بھی جہاد نہیں ہورہا ہے کیوں کہ عراق اور افغانستان میں بھی تو اسلامی قوانین کسی حد تک چلتے ہیں۔
    بھائی اللہ کیلئے شخصیت پرستی کو چھوڑئیں۔ جو چیز حقیقت ہے اس کو تسلیم کیجئے۔
    ان شاء اللہ مزید باتیں بعد میں لکھوں گا۔ابھی امتحانات شروع ہیں۔
    والسلام
     
  19. Abu Abdullah

    Abu Abdullah -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    934
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    بھائی اعجاز علی شاہ

    جزاک اللہ خیر آپ کی تحریریں بڑی مُدلّل ہوتی ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

    ابو عبداللہ
     
  20. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ابھی تمہارے اعلی حضرت کی باری نہیں آئی

    سبحان السبوح کی نسبت:
    تو کیا وہابیوں کا خدا کوئی اور ہے ؟ اگر ایسی ہی باتیں تمھاری کتابوں سے پوسٹ کردوں تو کیا کفر کا فتوی لگادوگے۔ مجھے پتہ ہے وہی الٹی سیدھی تاویلیں کرکے حق سے انحراف کرجاؤگے۔ میرا یہ عقیدہ ہےکہ جو کوئی بھی اللہ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے جو آپ نے ذکر کیا ہے وہ کافر و ملحد ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ پھر اتنی گندی زبان استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اللہ تعالی نے قرآن میں اس چیز سے منع کیا ہے کہ ہم دوسروں کے جھوٹے معبودوں کو گالی دیں لیکن یہاں پر تو زنا تک ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    ولاتسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم(الانعام: 108)
    اور انہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے۔ (ترجمہ از اعلی حضرت: کنزالایمان۔ صفحہ نمبر 254 ۔ مطبوع ضیاء القرآن )


    لیکن امام اعلی حضرت کی بھی وہی حالت تھی جو مرزا غلام احمد کی تھی۔ اپنے مخالفوں کیلئے وہ ایسے ہی الفاظ استعمال کرتے تھے۔

    لیکن تم لوگ عادت سے مجبور ہو۔ تمہارے ایک مدنی صاحب نے تمہاری قادری رضوی فورم میں اس حقیقت کا یوں اعتراف کیا ہے:
    http://faizeraza.net/phpBB2/viewtopic.php?t=1297


    اب ذرا اپنے گھر کی سیر کراتا ہوں۔ میں چاھتا تو ایسے ہی الفاظ تمہارے لئے ہی استعمال کرتا لیکن الحمد للہ ہم لوگوں کا مسلک بدزبانی والا نہیں۔
    ذراخواجہ غلام فرید کی کتاب فوائد فریدیہ سے کفر ملاحظہ ہو:


    [​IMG]

    [​IMG]

    اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی دیکھیں:
    [​IMG]

    تمہارا یہ پرانا بہانہ یہ کتاب ان کی نہیں یہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ اپنے گھر کی کتاب حسام الحرمین کے سو سال سے ذرا آئینہ دکھاتا ہوں۔
    اس کتاب کے بارے میں بریلوی حضرات فرماتے ہیں:
    [​IMG]
    http://www.alahazratnetwork.org/dlibrary/bookson_alahazrat/hussamkay_100saal/05.gif
    [​IMG]
    http://www.alahazratnetwork.org/dlibrary/bookson_alahazrat/hussamkay_100saal/06.gif
    پس ثابت ہوا کہ یہ کتاب ان کی اپنی ہی ہے۔ یہ تم لوگوں کو کفر نظر نہیں آتا۔


    ملفوظات اعلی حضرت میں اعلی حضرت کی اللہ کی شان میں گستاخیاں


    اس کے علاوہ اعلی حضرت کی کتاب ملفوظات سے ایک گستاخانہ قصہ ملاحظہ ہو: (عرض 44)

    [​IMG]
    http://www.alahazratnetwork.org/dlibrary/alahazrat_books/malfoozatealahazrat/Part2/P59.GIF
    [​IMG]
    http://www.alahazratnetwork.org/dlibrary/alahazrat_books/malfoozatealahazrat/Part2/P60.GIF
    میرے نزدیک جو ایسے قصہ کو دلیل مانتا ہے اور سچ کہتا ہے وہ اسلام سے خارج ہے۔ کیا نعوذباللہ ثم نعوذباللہ اللہ پاک کی کوئی بیوی بھی وسکتی ہے۔ اپنی کتابوں میں یہ کفر نظر نہیں آتا۔ اگر اعلی حضرت اس بات پر کفر کا فتوی لگاتا ہے کہ اللہ کیلئے بیٹا ماننے والا کافر ہے (اور بے شک ہے) تو پھر اللہ کیلئے بیوی ماننے والا بھی کافر ہوگا۔ لیکن یہ ہمت تم لوگوں میں کہاں کیوں کہ تم لوگوں نے تو اعلی حضرت کو بچانا ہے ناکہ اپنے ایمان کو۔

    ایک غلط فہمی کا ازالہ:تم لوگوں کا یہ قیاس بھی باطل ہے کہ سہاگ مجذوب تھااور اس نے جو کچھ کہا وہ ایسی حالت میں کہا کہ اس کو ہوش نہیں تھا۔ تو میرا سوال ہے کہ کیا وہ سب کی باتوں کو سمجھتا بھی تھا ؟ جب اس سے دعا کی درخواست کی گئی تو اس کو سمجھ کیسے آئی۔ عقل ہی تھی اس لئے۔ لہذا یہ باطل قیاس یہاں مت پیش کرنا۔

    اللہ کو پکارنا غلط غیراللہ کو پکارنا ٹھیک

    اسی ملفوظات میں اللہ کی گستاخی دیکھیں:(عرض 132)

    [​IMG]
    http://www.alahazratnetwork.org/dlibrary/alahazrat_books/malfoozatealahazrat/Part1/P66.gif

    کیا نعوذباللہ اللہ جنید بغدادی کا محتاج ہے۔ سبحان اللہ ھذا بہتان عظیم
    جبکہ اللہ کا قرآن میں فرمان ہے:
    واذا سالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان فلیستجیبوا لی ولیومنوا بی لعلھم یرشدون (البقرۃ: 186)
    اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں دعاقبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے۔ تو انہیں چاھیے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں۔
    (ترجمہ از اعلی حضرت: کنزالایمان۔ صفحہ نمبر 51 ۔ مطبوع ضیاء القرآن )

    پس ثابت ہوا کہ اللہ کو پکارنا ہی عین اسلام ہے۔ لیکن یہاں اللہ کے علاوہ غیراللہ کو اللہ سے قوی تر بنانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔اور جب اس شخص کے دل میں تھوڑی سی توحید کی تمنا پیدا ہوئی تو اس کو وساوس شیطانیہ قرار دے کر عقیدہ توحید کو زمین بوس کردیا گیا۔ ان للہ وانا الیہ راجعون


    اللہ کی ذات کی سورج سے تشبیہ:
    اپنی عقلی پر اس قدر بھی گمنڈ نہیں کرنا چاھیے کہ اللہ کی ذات کو مخلوق سے تشبیہ دی جائے۔ سلف صالحین نے اس بارے میں ہمیشہ احتیاط سے کام لیا ہے اور اللہ تعالی جیسی پاک اور مقدس ذات کی مثالیں کبھی بیان نہیں کیں لیکن اعلی حضرت کی کتابوں میں تو سب کچھ ملے گا۔ (عرض 58 اور 59)

    [​IMG]‌‌‌‌‌‌
    http://www.alahazratnetwork.org/dlibrary/alahazrat_books/malfoozatealahazrat/Part1/P33.gif
    ملفوظات میں اسی پر ختم نہیں ہوا۔ وحدت الوجود کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے اللہ کی ذات اقدس کو سورج سے تشبیہ دینا قرآن کا انکار نہیں تو اور کیا ہے ؟ اللہ کا فرمان پاک ہے:
    لیس کمثلہ شئی وھو السمیع البصیر (الشوری: اا)
    اس جیسا کوئی نہیں اور وہی سنتا دیکھتا ہے۔
    (ترجمہ از اعلی حضرت: کنزالایمان۔ صفحہ نمبر 870 ۔ مطبوع ضیاء القرآن )

    اور فرمان باری تعالی ہے:
    فلا تضربوا للہ الامثال ان اللہ یعلم وانتم لا تعلمون (النحل: 74)
    تو اللہ کیلئے مانند نہ ٹھہراؤ بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
    (ترجمہ از اعلی حضرت: کنزالایمان۔ صفحہ نمبر 494 ۔ مطبوع ضیاء القرآن )



    احکام شریعت میں اللہ پر بہتان عظیم

    احکام شریعت میں خدائی کا دعوی کرنے کیلئے راہیں اس طرح ہموار کی جارہی ہیں۔(مسئلہ 36)

    [​IMG]
    http://www.alahazratnetwork.org/dlibrary/alahazrat_books/ahkameshariat/Part2/P16.gif

    یعنی جو بھی خدائی کا دعوی کرے تو اس وقت وہ شجر موسی کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ کفر نہیں تو اور کیا ہے ؟ اللہ کی ذات کی توہین نہیں تو اور کیا ہے ؟ اللہ پر بہتان عظیم نہیں تو اور کیا ہے ؟

    ان تمام گستاخانہ باتوں کےباوجود بریلوی حضرات بڑے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ اعلی حضرت کو اللہ نے لغزشوں سے پاک رکھا تھا۔ یعنی انبیاء علیھم السلام کی طرح معصوم قرار دے دیا۔ ملاحظہ ہو احکام شریعت:
    [​IMG]
    http://www.alahazratnetwork.org/dlibrary/alahazrat_books/ahkameshariat/Part1/P8.gif

    اللہ پاک کی قسم جس کا کوئی شریک نہیں میرے پاس بے شمار دلائل موجود ہیں جو میں یہاں پر پیش کرسکتا ہوں لیکن ان شاءاللہ مناس موقع پر۔ اللہ ان کو ہدایت کرے۔ مزید جوابات بھی دوں گا ان شاء اللہ۔
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں