مسلمان اور غیر مسلم کا ایک ہی برتن میں کھانا؟؟؟

جاسم منیر نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏ستمبر 26, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    اسلام علیکم
    میرا ایک دوست کمپنی کی طرف سے بحرین گیا ہواہے۔ وہاں اسے یہ مسئلہ ہے کہ اس کے میس میں سب لوگ (مسلمان اور غیر مسلم ، ہندو) کھانا کھاتے ہیں۔ اب وہاں برتنوں کا تو کوئی حساب نہیں ہوتا۔ اگر ایک دن ایک برتن میں مسلمان کھانا کھا رہا ہے تو اگلے دن کوئی غیر مسلم اس میں کھاے گا۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس میس میں کھانا کھانا شرعی اعتبار سے جائز ہے؟ اگر اس میں کوئی قباحت ہے اور وہاں کہیں اور سے کھانے کی سہولت بھی موجود ہو تو کیا میرے دوست کو اس میس سے کھانا چھوڑ دینا چاہیے؟ یا کیا میرے دوست کو واقعی اپنے برتن بلکل علیحدہ کر لینے چاہیں؟ میں شرعی اعتبار سے اس مسئلے کا حل جاننا چاہتا ہوں۔
    ویسے ہم لوگ عام طور پر ہوٹل پر جا کے بھی تو کھانا کھا لیتے ہیں جہاں برتن ہر کوی استعمال کرتا ہے۔
     
  2. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    و علیکم السلام
    شیخ بن باز علیہ الرحمۃ کے ایک فتویٰ سے ماخوذ بالا سوال کا جواب کچھ یوں ہے :
    بحوالہ : مرکز دعوت و ارشاد ، الغاط (سعودی عرب)
    سؤال فتوى مختصر : چینا اور حلال گوشت ؟
     
  3. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    جزاک اللہ خیر باذوق بھائی۔
     
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ہمم
     
  5. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    عین بہن، سمجھ نہیں لگی۔۔۔۔
     
  6. بشیراحمد

    بشیراحمد ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اپریل 1, 2009
    پیغامات:
    1,568
    اسی سے ملتے جلتے ایک سوال کا جواب

    کیا غیرمسلم کے قریب ہونے کے لیےکھانے کی دعوت قبول کرنا جائز ہے
    اسلام کی دعوت تبلیغ کے لیے سب سے پہلےتو کفارسے شخصی تعلقات کا ہونا ضروری ہے تا کہ اجنبیت کا احساس ختم ہو اوردعوت وتبلیغ کی تمھیدقائم ہوسکے ، توکیا اگرمجھے کوئ کافر حرام اشیاء کے علاوہ کھانے یا پینے کی دعوت دیتاہے مثلا :
    پنیر ، مچھلی ، چاۓ وغیرہ توکیا میرے لیے اس دعوت کوقبول کرنا اورکھانا جائز ہے ؟
    اگرچہ یہاں پراحتمال ہے کہ انہیں برتنوں میں پہلے خنزیر کھایا اورشراب نوشی کی گئ ہولیکن بعد میں انہيں صابون سے دھویا گیا ہے ؟

    الحمدللہ

    لوگوں کے مابین تعلقات کی کئ انواع واقسام ہيں ، تواگر مسلمان کی جانب سے کافر کے ساتھ اخوت وبھائ چارہ اور محبت کے تعلقات ہوں تویہ حرام ہيں ایسے تعلقات رکھنا صحیح نہيں بلکہ بعض اوقات تویہ کفر تک جا پہنچتے ہیں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

    { اللہ تعالی پراورقیامت کے دن پرایمان رکھنے والوں کوآپ اللہ تعالی اوراس کےرسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوۓ ہرگزنہیں پائيں گے اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائ یا ان کے کنبہ وخاندان کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں

    یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالی نے ایمان لکھ دیا ہے ، اورجن کی تائید اپنی روح سے کی ہے ، اورجنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں ، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ تعالی ان اوریہ اللہ تعالی سے راضي و خوش ہیں یہ خدائ لشکر ہے آگاہ رہو بلاشبہ اللہ تعالی کے گروہ والےہی کامیاب ہیں } المجادلۃ ( 22 ) ۔

    اس بارہ میں اوربھی بہت سی آیات واحادیث ہیں ۔

    اوراگر ان کے تعلقات کا تعلق صرف حلال اشياء کی خریدوفروخت اور حلال کھانے کی دعوت اورمباح اشیاءکے تحفے اورھدیے وغیرہ قبول کرنے تک محدود ہوں اوران کا مسلمان پرکسی قسم کی اثربھی نہ پڑے توپھر اس میں کوئ حرج نہیں اوریہ مباح ہیں ۔

    اورکافرکی طرف پیش کیے گۓ حلال کھانے پینے کوتناول کرنا جائز ہے اگرچہ وہ ایسے برتنوں میں ہی پیش کیے جائیں جوپہلے شراب نوشی اورخنزیر کا گوشت کھایا گیا ہو اوراسے اچھی طرح دھوکراس نجاست اورحرام چيزکو زائل کردیا گیا ہو ۔

    اورجب یہ دعوت قبول کرنا اس کی دعوت میں ممدو معاون ثابت ہوں تویہ قبول کرنے کے زيادہ لائق ہے اوراس سے اجرو ثواب بھی حاصل ہوگا ۔ .

    دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 12 / 254 ) مستقل فتوی کمیٹی کا فتوی
    بشکریہ الاسلام سوال وجواب
     
Loading...
Similar Threads
  1. مقبول احمد سلفی
    جوابات:
    3
    مشاہدات:
    704
  2. شفقت الرحمن
    جوابات:
    0
    مشاہدات:
    633
  3. islamic student
    جوابات:
    1
    مشاہدات:
    795
  4. ابو حسن
    جوابات:
    2
    مشاہدات:
    688
  5. شفقت الرحمن
    جوابات:
    2
    مشاہدات:
    653

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں