لاتشھد علینا حتی تسمع منا

الطحاوی نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏ستمبر 30, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    میری تمام تر تحریریں آپکے سامنے موجود ہیں
    ذرا اس تحریر کا اقتباس پیش کریں جس پر آپکو اعتراض ہے
    ان شاء اللہ خود ہی آپکو آئینہ نظر آجائیگا بشرطیکہ اقتباس بلا تحریف وتصحیف ہو !!!
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    [font="alvi nastaleeq v1.0.0"]محترم جمشید صاحب
    میرا بھی ایک سوال ہے آپ سے صرف ایک کہ
    کسی ایسے محدث کا نام بتائیں جو آپکے نزدیک فقیہ نہیں ہے اور اس کے غیر فقیہ ہونے کی دلیل بھی پیش کریں[/font]
     
  3. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    بڑے حروف کو دیکھ کر سمجھ جائیے کہ آپ نے کیاکہاہے۔
    مجھے ابھی تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ ایک موقع پر کہتے ہیں کہ محدث اورفقیہہ کا وظیفہ الگ ہے پھر آپ اس سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ نہ ہرمحدث فقیہ ہے اورنہ ہرفقیہ محدث اس کے بعد آپ پھر کہتے ہیں کہ جب ہم خارج میں دیکھتے ہیں تو تقریباہرمحدث کو فقیہ پاتے ہیں۔اگراس سے آپ کی مراد کچھ محدثین فقہائ ہیں جیساکہ آپ نے مثال میں امام مالک امام احمد بن حنبل اورامام شافعی کی شخصیت کو پیش کیاہے تواس سے کسی کو اختلاف نہیں لیکن نزاع آپ کے ’’تقریباہرمحدث‘‘خارج میں فقیہہ ہوتاہے والی بات پر ہے۔
    آپ نے کہاہے کہ کسی ایسے محدث کی مثال پیش کیجئے جو فقیہہ نہ ہو تومیرے خیال سے اس کیلئے خطیب بغدادی کی النصیحۃ لاھل الحدیث کافی ہوگی ۔کیونکہ خطیب بغدادی نے اس میں محدثین کو اورطلبائ حدیث کو ترغیب دی ہے کہ وہ فقہہ کی جانب بھی دھیان دیں۔
    ایک مثال پیش کرتاہوں آپ کے پاس کتابیں ہوں گی اس سے تصدیق کرسکتے ہیں حوالہ دینے سے فی الحال قاصر ہوں۔
    قال الذھبي في تاريخ الاسلام:
    سعيد بن عثمان التجيبي الاعناقي....كان ورعا زاھدا حافظا بصيرا بعلل الحديث ورجالا، ولا علم لہ بالفقہ...".
    والسلام
     
  4. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    واجتنبوا کثیرامن الظن ان بعض الظن اثم
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 22, 2009
  5. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    Code:
    ویترتب علی ہذا لشرط : أن علم اللہ بالأحکام أو علم الرسول بہا أو علم المقلدین بہا کل ذلک لا یعتبر فی الاصطلاح فقہا ولا یسمی صاحبہا فقیہا فعلم اللہ لازم لذاتہ وہو یعلم الحکم والدلیل وعلم الرسول مستفاد من الوحی لا مکسب من الأدلة وعلم المقلد مأخوذ بطریق التقلید لا بطرق النظر والاجتہاد 
    مجھے نہیں پتہ کہ دکتور زیدان نے کس طرح یہ الفاظ لکھ دیئے۔کیاابن عابدین شامی فقیہ نہیں ہیں؟۔کیاصاحب درمختار فقیہہ نہیں ہیں؟۔کیاہدایہ کے منصنف فقیہہ نہیں ہیں؟یااسی طرح دوسرے مذاہب کے وہ علماء جواپنے ائمہ متبوعین کے پیروکار اورمقلد ہیں وہ فقیہہ نہیں ہیں۔ یاللعجب میراخیال ہے کہ انہوں نے اہل علم کی تقلید اورعوام کی تقلید میں فرق نہیں کیا۔
     
  6. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    علمی بحث ومباحثہ کا فائدہ یہی ہے کہ ایک دوسرے کی غلطیاں واضح ہواورانسان اپنی غلطیاں جان کراسے دورکرے۔آپ نے رب کے ترجمہ میں میری غلطی کی نشاندہی کی ہے اس کی لئے شکریہ
    میں نے رب کے سلسلہ میں جو کچھ پڑھاہے اسے آپ کے سامنے رکھتاہوں۔اوردیگر اہل علم سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس پر توجہ کریں۔
    رب حرف جر ہے حسب سیاق کلام تکثیر وتقلیل کا فائدہ دیتاہے ۔بحوالہ المعجم الوسیط ومصباح اللغات
    علاوہ ازیں زیر بحث حدیث کے ہی دوسرے طرق کا کچھ الفاظ ملاحظہ فرمائیں
    عن عبداللہ بن مسعود عن النبی انہ قال قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول نضراللہ امرأسمع مناحدیثافحفظہ حتی یبلغہ فرب مبلغ احفظ لہ من سامع
    وعن جبیر بن مطعم عن ابیہ قال قام رسول اللہ بالخیف من منی فقال نضراللہ عبداًسمع مقالتی فوعاھا ثم اداھا الی من لم یسمعھا فرب حامل فقہ لافقہ لہ و رب حامل فقہ الی من ہوافقہ منہ
    عرض یہ ہے کہ اگرآپ کے نزدیک رب مطلقاتقلیل کیلئے ہے توپھر رب مبلغ احفظ لہ من سامع کاترجمہ آپ کیاکریں گے؟
    والسلام
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 22, 2009
  7. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    جمشید بھائی ، معذرت قبول فرمائیں کہ اس وقت فرصت کی کمی کا شکار ہوں ورنہ آپ کی گفتگو میں ضرور حصہ لیتا۔ ہاں یہ مباحثہ ضرور مطالعے میں ہے۔
    بس آپ کی یہ بلا دلیل بات کھٹک گئی ہے جو آپ نے دکتور زیدان پر بطور اعتراض چسپاں کی ہے :
    میراخیال ہے کہ انہوں نے اہل علم کی تقلید اورعوام کی تقلید میں فرق نہیں کیا۔

    جمشید بھائی ، آپ سے گذارش ہے کہ اگر متذکرہ فرق آپ کے علم میں ہو تو ہمیں اس فرق سے ضرور مستفید فرمائیں۔ شکریہ۔
    ویسے امام ابن القیم اپنی مشہور کتاب اعلام الموقعین میں لکھتے ہیں :
     
  8. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    شكر هے كه آپ هر محدث سے تقريبا هر محدث تك پنهچ هي گئے
    اور اللہ کرے کہ آپ کو یہ بات بھی سمجھ آجائے کہ جب لفظ تقریبا بولا جاتا ہے تو تمام تر افراد مراد نہیں ہوتے بلکہ اکثر افراد مراد ہوتے ہیں اور چند ایک افراد اس حکم سے خارج ہوتے ہیں۔
    یہی
    ہر محدث
    اور
    تقریبا ہر محدث
    میں فرق ہے
    جب آپ اس بات کو سمجھ لیں گے تو یقینا آپ کو علم ہو جائے گا کہ جوبات میں کہہ رہاہوں اس میں اور آپ کی کہی ہوئی بات میں کوئی فرق نہیں ہے
    لیکن آپ اگر
    ہر محدث فقیہ نہیں ہوتا
    کہہ کر یہ مراد لے رہے ہوں کہ
    اکثر محدث غیر فقیہ ہوتے ہیں
    تو پھر ضرور فرق بنتا ہے۔
    اور اسی لیے میں نے آپ سے دلیل طلب کی ہے کہ کسی محدث کانام توذکر کریں
    کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کو پورے ذخیرہ علم سے صرف اور صرف چار پانچ محدثین کے نام ملیں گے جو فقیہ نہ تھے
    اور محدثین کے جم غفیر میں یہ تعداد تو آٹے میںنمک بھی نہیں ہے
    بے شک تلاش کرکے دیکھ لیں
    کیونکہ ہم نے تو تلاش کیے ہوئے ہیں
    اور جو شخص یہ نہیں مانتا کہ ہر محدث فقیہ نہیں ہوتا اسے تین چار مثالیں پیش کرتے ہیں تو اسکا ناطقہ بند ہو جاتاہے۔
    اسی لیے میں نے انتہائی محتاط کلمة:تقریبا ہر محدث ۔۔۔الخ
    استعمال کیاتھا نہ کہ
    ہر محدث۔!!!
    لہذا آپ سے بھی درخواست ہے کہ کسی بھی شخص کی طرف بات منسوب کرتے ہوئے اسکے الفاظ ہی نقل کیا کریں تاکہ فہم میں سہو نہ ہو۔
     
  9. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    یہ بات حافظ ذہبی نے تاریخ الاسلام جلد 23 صفحه 159 مين
    کہی ہے فرماتے ہیں:
    4 (حرف السين)
    سعيد بن عبد الله. أبو محمد الجوهري الحراني. عن: إبراهيم بن عبد الله الهروي، وغيره. سعيد بن عثمان التجيبي الأعناقي. سمع: ابن مزين، وابن وضاح. ورحل قبل ذلك. كأنه حج ورأى يونس بن عبد الأعلى والحارث بن مسكين. وسمع من: نصر بن مرزوق صاحب أسد بن موسى، ومحمد بن عبد الله بن عبد الحكم، وجماعة. وكان ورعاً زاهداً حافظاً، بصيراً بعلل الحديث ورجاله، لا علم له بالفقه. روى عنه: محمد بن قاسم، وابن أيمن، وخلق. سليمان بن محمد. أبو موسى النحوي، المعروف بالحامض.
    اسي طرح سيوطي نے طبقات الحفاظ ميں نقل كي ہے اور ابن الفرضي نے تاريخ علماء الأندلس ‘ عجلي نے معرفة الثقات 1/51
    میں ذکر کی ہے۔
    اور اسی طرح تاریخ اسلام میں ہی حافظ ذہبی نے محمدبن وضاح کے متعلق یہ الفاظ استعمال کیے ہیں 21/296
    اور اسي طرح إمام شمس الدين ذهبي نے المغني في الضعفاء اين حجر نے لسان الميزان 5/416 ‘ ذهبي نے ميزان الاعتدال 4/59 ‘ صدفي نے وافي بالوفيات میں ذکر کی ہے۔
    اوریہ یاد رہے کہ اول الذکر توثقہہے جبکہ مؤخر الذکرثقہ نہیں ہے
    او ر لطف کی بات ہے کہ آپکو عام متداول کتب میں ان دو اشخاص کے علاوہ اور کسی کے بارہ میں یہ الفاظ نہیں ملیں گے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 22, 2009
  10. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    یہ ظن نہیں بلکہ حق الیقین ہے
    کیونکہ آپ نے بارہا مجھ پر بہتان باندھا ہے کہ میں نے لفظ : ہر محدث استعمال کیا ہے جبکہ
    آپ کو وہ ملانہیں بلکہ لفظ : تقریبا ہر محدث ہی ملاہے ۔
    فاعتبروا یاأولی الأبصار
     
  11. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    کچھ حامل فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ کی طرف علم کو اٹھا کے لے جانے والے ہوتے ہیں
     
  12. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    اپ نے صرف ایک ہی تومثال مانگی تھی
     
  13. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    کاش آپ اپنے ہی مذہب کی کتب کا مطالعہ فرمالیتے تو شاید یہ بات نہ کہتے
    چلو میں ہی چند اقتباسات پیش کیے دیتا ہوں ذرا غور فرما لینا کہ اپنے ہی گھر کی گواہی ہے۔

    ليس التقليد بعلم ولا المقلد بعالم
    تقلید علم نہیں ہے اورنہ ہی مقلد عالم ہوتاہے۔
    توضیح التلویح صفحہ ٩٣
    اور
    ابن العربی نے فتوحات مکیہ باب ٢١٣ میں لکھا ہے:

    لا يطلق اسم العلماء إلا على أهل الحديث
    علماء صرف اور صرف اہل حدیث کو ہی کہا جا سکتاہے۔
    اسي طرح
    ابن قيم اعلام الموقعين ميں فرماتے هيں
    قال أبو عمر بن عبد البر وغيره من العلماء : أجمع الناس على أن المقلِّد ليس معدوداً من أهل العلم" إعلام الموقعين" "1/7"
    علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مقلد کا شمار اہل علم میں سے نہیں ہوتا۔جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر السيوطي الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والأصول والنحو والإعراب وسائر الفنون 2/110 مين رقمطراز هين :
    فإن الاستدلال إنما يسوغ للمجتهد العالم بطريق الاستدلال أما غيره فما له ، ولذلك قال الغزالي في كتاب التفرقة : [ شرط المقلد ] أن يسكت ويسكت عنه لأنه قاصر عن سلوك طريق الحجاج ، ولو كان أهلاً له كان مستتبعاً لا تابعاً وإماماً لا مأموماً . وإن خاض المقلد في المحاجة فذلك منه فضول والمشتغل به ضارب في حديد بارد وطالب لإصلاح فاسد ، وهل يصلح العطار ما أفسد الدهر ؟ هذه عبارة الغزالي ، وقال الشيخ عز الدين بن عبد السلام : شرط المفتي أن يكون مجتهداً ، وأما المقلد إذا أفتى فهو ناقل وحامل فقه ليس بمفت ولا فقيه بل هو كمن ينقل فتوى عن إمام من الأئمة ثم أطال القول في ذلك .

    اسي طرح امام الغزالي كتاب ((المنقذ من الضلال)) مين رقمطراز هيں
    ((لا مطمع في الرجوع إلى التقليد بعد مفارقته إذ من شرط المقلد أن لا يعلم أنه مقلد فإذا علم ذلك انكسرت زجاجة تقليده وهو شعب لا يرأب وشعث لا يلم بالتلفيق والتأليف إلا أن يذاب بالنار ويستأنف لها صيغة أخرى مستجدة)) انتهى
    ـــــــ
    فاعتبروا يا أولي الأبصار.......
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 22, 2009
  14. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    اسي طرح امام الغزالي كتاب ((المستصفى في علم الأصول)) 1/370 مين رقمطراز هيں
    التقليد هو قبول قول بلا حجة وليس ذلك طريقا إلى العلم لا في الأصول ولا في الفروع
    تقلید بلادلیل کسی کی بات مان لینے کا نام ہے اور یہ علم کا راستہ نہیں نہ اصول میں اور نہ ہی فروع میں۔
    یعنی تقلید علم نہیں ہے۔
     
  15. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    صرف ایک دلیل ا س لیے مانگی تھی کہ میں مبنی بر انصاف بات کہنے کا خوگر ہوں
    کیونکہ کسی خاص گروہ کی تائید یا مخالفت سے ہمیں اخروی فائدہ نہیں ہے۔
    وگرنہ میں یہ کہتا کہ کوئی دس مثالیں پیش کی جائیں ۔
    لیکن چونکہ مجھے یہ بات اچھي طرح سے معلوم ہے کہ وہ آپ پوری نہ کرسکیں گے
    اور مقصود ومطلوب تو صرف بات کو سمجھانا ہے نہ کہ مد مقابل کو نیچا دکھانا۔
    اور یقینا جب آپ نے مثال تلاش کرنیک سعی کی ہوگی تو آپ کو یہ بات سمجھ آگئی ہو گی کہ ایسے محدثین بہت کم ہیں جن کے بارہ میں کہا گیا کہ وہ فقہ میں ماہرنہ تھے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 22, 2009
  16. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    وقال أحمد بن عبد الرحيم المعروف بـ الشاه ولي الله المحدث الدهلوي في ختام رسالته المسمى بـ " عقد الجيد في أحكام الاجتهاد والتقليد "
    وقد استقر رأي الأصوليين على أن المفتي هو المجتهد فأما غير المجتهد ممن يحفظ أقوال المجتهد فليس بمفت والواجب عليه إذا سئل أن يذكر قول المجتهد على طريق الحكاية كأبي حنيفة على جهة الحكاية فعرف أن ما يكون في زماننا من فتوى الموجودين ليس بفتوى بل هو نقل كلام المفتي ليأخذ به المستفتي وطريق نقله كذلك عن المجتهد أحد أمرين إما أن يكون له سند فيه إليه أو يأخذ من كتاب معرف تداولته الأيدي نحو كتب محمد بن الحسن ونحوها من التصانيف المشهورة للمجتهدين لأنه بمنزلة الخبر المتواتر عنهم أو المشهور هكذا ذكر الرازي فعلى هذا لو وجد بعض نسخ النوادر في زماننا لا يحل رفع ما فيها إلى محمد ولا إلى أبي يوسف لأنها لم تشتهر في عصرنا في ديارنا ولم تتداولها الأيدي نعم إذا وجد النقل عن النوادر مثلا في كتاب مشهور معروف كالهداية والمبسوط كان ذلك تعويلا على ذلك الكتاب فلو كان حافظا للأقاويل المختلفة للمجتهدين ولا يعرف الحجة ولا قدرة له على الإجتهاد للترجيح لا يقطع يقول منها ولا يفتي به بل يحكيها للمستفتي فيختار المستفتي ما يقع في قلبه أنه الأصوب ذكره في بعض الجوامع وعندي أنه لا يجب عليه حكاية كلها بل يكفيه أن يحكي قولا منها فإن المقلد له أن يقلد أي مجتهد شاء فإذا ذكر أحدها فقلده حصل المقصود نعم لا يقطع عليه فيقول جواب مسألتك كذا بل يقول قال أبو حنيفة حكم هذا كذا نعم لو حكى الكل فالأخذ بما يقع في قلبه أنه أصوب وأولى والعامي لا عبرة بما يقع في قلبه من صواب الحكم وخطئه وعلى هذا إذا استفتى فقيهين أعني مجتهدين فاختلفا عليه الأولى أن يأخذ بما يميل إليه قلبه منهما وعندي أنه لو أخذ بقول الذي لا يميل إليه جاز لأن ميله وعدمه سواء والواجب عليه تقليد مجتهد وقد فعل أصاب ذلك المجتهد أو أخطأ وقالوا المنتقل من مذهب إلى مذهب بإجتهاد وبرهان آثم يستوجب التعزير فقبل اجتهاد وبرهان أولى ولا بد أن يراد بهذا الإجتهاد معنى التحري وتحكيم القلب لأن العامي ليس له اجتهاد ثم حقيقة الإنتقال إنما تتحقق في حكم مسألة خاصة قلد فيه وعمل به وإلا فقوله قلدت أبا حنيفة فيما أفتى به من المسائل مثلا والتزمت العمل به على الإجمال وهو لا يعرف صورها ليس حقيقة التقليد بل هذا حقيقة تعليق التقليد أو وعد به كأنه التزم أن يعمل بقول أبي حنيفة فيما يقع له من المسائل التي تتعين في الوقائع فإن أرادوا هذا الالتزام فلا دليل على وجوب اتباع المجتهد المعين بإلزامه نفسه ذلك قولا أو نية شرعا بل بالدليل واقتضاء العمل بقول المجتهد فيما احتاج إليه بقوله تعالى فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون والسؤال إنما يتحقق عند طلب حكم الحادثة المعينة وحينئذ إذا ثبت عنده قول المجتهد وجب عمله به والغالب أن مثل هذه إلزامات منهم لكف الناس عن تتبع الرخص وإلا أخذ العامي في كل مسألة بقول مجتهد اخف عليه وأنا لا أدري ما يمنع هذا من النقل والعقل فكون الإنسان متتبعا ما هو أخف على نفسه من قول مجتهد يسوغ له الإجتهاد ما علمت من الشرع مذمة عليه وكان صلى الله عليه و سلم يحب ما خفف عن أمته والله سبحانه أعلم بالصواب انتهى
     
  17. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    ذار رد المحتار كا مقدمه ملاحظه فرمائين :

    وَقَوْلُهُ عَنْ أَدِلَّتِهَا أَيْ نَاشِئًا عَنْ أَدِلَّتِهَا حَالٌ مِنْ الْعِلْمِ : أَيْ أَدِلَّتُهَا الْأَرْبَعَةُ الْمَخْصُوصَةُ بِهَا وَهِيَ الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ وَالْإِجْمَاعُ وَالْقِيَاسُ ، فَخَرَجَ عِلْمُ الْمُقَلِّدِ فَإِنَّهُ وَإِنْ كَانَ قَوْلُ الْمُجْتَهِدِ دَلِيلًا لَهُ لَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ تِلْكَ الْأَدِلَّةِ الْمَخْصُوصَةِ ، وَخَرَجَ مَا لَمْ يَحْصُلْ بِالدَّلِيلِ كَعِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى وَعِلْمِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ .
    قَالَ فِي الْبَحْرِ : وَاخْتُلِفَ فِي عِلْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَاصِلِ عَنْ اجْتِهَادٍ ، هَلْ يُسَمَّى فِقْهًا ؟ وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ بِاعْتِبَارِ أَنَّهُ دَلِيلٌ شَرْعِيٌّ لِلْحُكْمِ لَا يُسَمَّى فِقْهًا ، وَبِاعْتِبَارِ حُصُولِهِ عَنْ دَلِيلٍ شَرْعِيٍّ يُسَمَّى فِقْهًا اصْطِلَاحًا .
    ا هـ .
     
  18. الطحاوی

    الطحاوی -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2008
    پیغامات:
    1,825
    جی توچاہتاہے کہ پورے مراسلہ کا تفصیلی پوسٹ مارٹم کیاجائے لیکن فی الحال عدیم الفرصتی کی بنائ پر چند باتیں عرض کرتاہوں۔
    پہلی بات تویہ کہ زیر بحث مسئلہ آپ کی بڑھکیں دیکھ کرخوشی ہوئی:00039: اس طرح کی بڑھکیں مارنا علم اوراہل علم سے نسبت رکھنے والوں کیلئے مناسب نہیں ہے۔عقل مندکواشارہ کافی ہے۔
    جب بحث ہی مقصود ہے توپھرذرا یہ بتایئے کہ اکثر محدثین کے فقیہہ ہونے کی کیادلیل ہے۔ کیاصرف ان کا محدث ہونا ان کے فقیہہ ہونے کیلئے کافی ہے؟یہ کہنا کہ کتب تراجم میں ان کے غیر فقیہہ ہونے کا ذکر نہ ہونا ان کے فقاہت کا ثبوت ہے غیر علمی بات ہے۔
    تقلید کی بحث میں آپ ہی نہیں دوسرے بہت سارے لوگ بھی پریشاں خیالی کے شکار ہین۔وہ تقلید عامی اورتقلید عوام میں فرق نہیں کرتے۔
    اگرتقلید اوراجتہاد کے مباحث پڑھاہوگا تومعلوم ہوگاکہ اجتہاد میں تجزی کے جمہور فقہائ قائل ہیں۔یعنی ایساہوسکتاہے کہ ایک یاچند مسائل میں وہ وہ مقلد نہ ہو اوربقیہ میں مقلد ہو،ایسے شخص کے بارے میں اوراس کے علم کے بارے میں کیاخیال ہے اسے عالم کہاجائے گا یانہیں؟کسی بھی بحث کو مکمل طورپر پڑھنا چاہئے اورپھر اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دوسری بات یہ بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ بسااوقات ایک ہی لفظ کے معنی متقدمین اورمتاخرین کے یہاں دوسرے ہوتے ہیں۔مثلامفتی کا ہی لفظ ہے مفتی کا لفظ متقدمین کے یہاں مجتہد کے معنی میں تھا آج کل ناقل فتاوی یاناقل اقوال ائمہ کے بارے میں کہاجاتاہے۔یہی حال تقلید کا ہے۔تقلید متقدمین کے یہاں عوام کالانعام کے لئے استعمال کی جاتی تھی اوراسی بنائ پر حافظ ابوجعفر طحاوی نے مشہور جملہ کہاتھا کہ لایقلد الاجاھل اوغبی لیکن متاخرین کے یہاں تقلید کے معنی ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کاپیروکار ہونا مرادلیتے ہیں۔چاہے وہ کتناہی عالم وفاضل کیوں نہ ہو۔
    آنجناب سے بھی یہی سوال ہے کہ آپ ذرااپنے بارے میں بھی ارشاد فرمائیں کہ آپ مقلد ہیں یا مجتہد ہیں یہ مت کہئے گا کہ ہم متبع ہیں۔ورنہ الفاظ کے فرق کے سوا متبع اورمقلد میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے۔والسلام
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 24, 2009
  19. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    جمشید صاحب ! اگر قلم اٹھا کر بس یونہی بنا حوالہ باتیں لکھتے ہی جانا ہے تو پھر میں ہی کیا ہر کوئی بآسانی کہہ سکتا ہے کہ :
    تقلید کی بحث میں ایک جمشید صاحب کیا سارے ہی مقلدین پریشان خیالی کا شکار ہیں !!
    حافظ ابوجعفر طحاوی کا وہ مشہور جملہ "لسان المیزان" میں کچھ یوں درج ہے :
    [qh]وهل يقلد إلا عصبي أو غبي[/qh]
    تقلید تو صرف وہی کرتا ہے جو متعصب اور بیوقوف ہوتا ہے۔

    حافظ ابوجعفر طحاوی نے یہ جو فرمایا تھا یہ بالکل متاخرین علماء پر سوٹ ہوتا ہے۔ ہمارے سامنے وہ تمام حوالے موجود ہیں جن میں دیوبند اور بریلی کے نامور علماء و مفتی صاحبان نے ببانگ دہل اعلان کیا ہے کہ ہماری دلیل صرف قولِ امام ہے !!

    آپ نے تقلید کے حوالے سے متقدمین اور متاخرین کے خیالات بلا حوالہ عرض فرمائے ، کاش کہ کوئی ایک مثال بھی دیتے۔
    ایک طرف تو آپ کی یہ "بڑک" کہ :
    تقلید متقدمین کے یہاں عوام کالانعام کے لئے استعمال کی جاتی تھی

    اور دوسری طرف امام ابن حزم رحمة اللہ فرماتے ہیں ، بحوالہ - [qh]النبذة الكافية في أحكام أصول الدين [/qh] :
    [qh]والعامي والعالم في ذلك سواء وعلى كل احد حظه الذي يقدر عليه من الاجتهاد[/qh]
    اور عامی اور عالم (دونوں) اس (حرمت تقلید میں) برابر ہیں ، ہر ایک اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق اجتہاد کرے گا۔
    اور امام ابن تیمیہ علیہ الرحمة ، مجموع فتاویٰ (ج:20) میں فرماتے ہیں :
    [qh]ولا يجب على أحد من المسلمين تقليد شخص بعينه من العلماء في كل ما يقول ولا يجب على أحد من المسلمين التزام مذهب شخص معين غير الرسول صلى الله عليه وسلم في كل ما يوجبه ويخبر به [/qh]
    کسی ایک مسلمان پر بھی علماء میں سے کسی ایک متعین عالم کی ہر بات میں ، تقلید واجب نہیں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ، کسی شخص متعین کے مذہب کا التزام کسی ایک مسلمان پر واجب نہیں ہے کہ ہر چیز میں اسی کی پیروی شروع کر دے۔

    جمشید بھائی۔ براہ مہربانی ذرا آنکھیں کھول کر اور تعصب کو ہٹا کر متقدمین ائمہ کے یہ ارشادات بھی پڑھئے اور بتائیے کہ انہوں نے تقلید سے مراد ۔۔۔
    تقلید متقدمین کے یہاں عوام کالانعام کے لئے استعمال کی جاتی تھی
    لیا ہے یا عامی و عالم دونوں ہی کے لئے تقلید کو غیرواجب قرار دیا ہے؟؟

    جمشید بھائی ! آپ پر لازم ہے کہ اپنے اس قول کی دلیل مہیا فرمائیں کہ :
    ہم جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کون سے علماء و ائمہ ہیں جنہوں نے متقدمین کی راہ سے ہٹ کر ایسے فیصلے سنائے ہیں۔
    متقدمین کی راہ تو یہ تھی کہ انہوں نے عامی و عالم دونوں ہی کے لئے تقلید کو حرام قرار دیا تھا اور صاف صاف کہہ دیا تھا کہ : [qh]التقليد ليس بعلم[/qh]

    جمشید بھائی ! اگر اجازت ہو تو کیا میں آپ کے اس فرمان عالیشان کو آپ کی "بڑک" سمجھ لوں ؟؟ :00006:
     
  20. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    جزاكم الله خيرا وبارك فيكم
    يا أخي باذوق !
    كفيتم مؤنتي ...
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں