سوائن فلو وائرس ( خنزیری زکام) : ایک خوفناک عفریت

کنعان نے 'متفرقات' میں ‏اکتوبر، 6, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,852
    سوائن فلو وائرس ( خنزیری زکام) : ایک خوفناک عفریت



    ارشادربانی ہے کہ
    ’’ آپ کہہ دیجئے کہ جوکچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کیلئے جو اس کو کھائے ‘ مگر یہ کہ وہ مردارہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہوکیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیر اللہ کیلئے نامزد کر دیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہو جائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے والا ہو تو واقعی آپ کا رب غفور ورحیم ہے‘‘
    (سورہ انعام 146 )



    جدید سائنس نے اسلامی شریعت میں ممنوعہ چیزوں کے بعض اسباب جاننے کی کوشش کی جس کو متبعین شریعت نے خورد بینوں کے انکشاف سے پہلے صدیوں تک عمل کیا ہے۔ ترتیب کے ساتھ مردار اور خون اس سے جراثیم پروان چڑھتے ہیں نیز خون سے تیزی اور کثرت کیساتھ بڑھتے ہیں اور خنزیر (سور) جس کے بدن میں تمام جہاں کی بیماریاں اور گندگیاں جمع ہیں ‘ اور کسی بھی طرح کی صفائی ستھرائی ان کو دور نہیں کر سکتی خنزیرکے اندر کیڑے ‘بیکٹیریا اور ایسے وائرس ہوتے ہیں جن کو وہ انسان اور جانوروں میں منتقل کرتا ہے ۔ او ر کم از کم 70 خطرناک مختلف الاقسام امراض کا باعث بنتا ہے سور کے اندر انفلوانزا کا مخصوص وائرس ہوتاہے جو کہ خنزیر پالنے والوں اور ان سے میل جول رکھنے والوں کے اندر وبائی مرض کی شکل میں ظاھر ہوتا ہے۔ اور یہ مرض مصنوعی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں جہاں خنزیر پالے جاتے ہیں ‘زیادہ ہوتا ہے ۔

    عام طور پر اس بیماری کی علامت طبی نقطہ نظر کے حوالے سے موسمی نزلہ زکام سے مشابہہ ہیں تاہم کلینیکل رپورٹ کے مطابق یہ بیماری شروع ہونے کے بعد تیزی سے تبدیل ہوتی ہے اور موت تک ایک شدید نوعیت کے نمونیا میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگرچہ جرمنی، فرانس ، فلپائن اور وینژویلا وغیرہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے جدید ٹیکنیکس بروئے کار لا کر خنزیر کے گوشت کی نجاستوں اور خباستوں کو دور کر دیا ہے لیکن ان ممالک کے مخصوص سرٹیفائڈ فارموں کا مذکورہ گوشت کھانے والے بیشمار افراد میں بھی Trichinellosis کا مرض لگ جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے معدے سے آواز نکلنے لگتی ہے اور کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں جن کی تعداد کم ازکم دس ہزار ہوتی ہے پھر یہ کیڑے خون کے راستہ سے انسان کے پٹھوں میں منتقل ہوجاتے ہیں اور پھر مزید مہلک امراض کی شکل اختبار کر لیتے ہیں ۔اسی طرح Spiralis کا مرض بیمار خنزیر کا گوشت کھانے سے لگتا ہے ۔ اس مرض میں بھی انسان کی آنتوں کے اندر کیڑا پروان چڑھنے لگتا ہے جس کی لمبائی کبھی کبھی سات میٹر سے بھی لمبی ہوتی ہے جس کا کانٹے دار سر آنتوں کی دیواروں کے اندر فضلے اوردوران خون کی دشواری کا سبب بنتا ہے اسکی چار چو سنے والی چونچیں اور ایک گردن ہوتی ہے جس سے مزید چونچ دار کیڑے وجود میں آتے ہیں جن کا ایک مستقل وجود ھوتا ہے اور تعدادہزار تک ہوتی ہے ، اور ہر بار ہزار انڈے پیدا ہوتے ہیںاور انڈوں سے ملوث کھانا کھانے کی صورت میں Taenia Solium کا مرض لگ جاتا ہے ۔ٹائینا سولیئم کے انڈے (Ova) خون کی گردش میں شامل ہو کرجسم کے کسی بھی حصے میں پہنچ جاتے ہیں اگر یہ دماغ تک جا پہنچیں تو یادداشت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیںاگر یہ دل میں داخل ہو جائیں تو دل کے دورے کی وجہ بن سکتے ہیں ۔ آنکھ میں جا پہنچنے پر نابینا پن ہو سکتا ہے۔ جگر میں داخل ہو جائیں تو پورے جگر کا ستیاناس کر ڈالتے ہیں غرض اس ایک مرض سے جسم کے کم و بیش تمام اعضاغارت ہو سکتے ہیں۔سور کے گوشت کا کاروبار کرنے والوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اسے 70 ڈگری پر پکانے سے اس کے بیشتر جراثیم مر جاتے ہیں جو کہ صرف اپنی پراڈکٹس بیچنے کا پراپیگنڈہ ہے۔



    امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس گوشت کے استعمال سے لگنے والے خطر ناک طفیلئے ٹرائی کیور اسے متاثرہ چوبیس افراد میں سے بیس ایسے تھے جنہوں نے 70 ڈگری سے زائد پر پکا ہوا سؤر کا گوشت کھایا تھا اس سے اخذ کیا گیا کہ مخصوص درجہ حرارت پر پکانے سے بھی ایسے جراثیم کسی طور نہیں مرتے۔اس گوشت کے کھانے والے میں بے غیرتی کے جراثیم بھی داخل ہو جاتے ہیں یعنی اپنی ازدواجی زندگی میں دیگر مرد حضرات کی شراکت اچھی لگنے لگتی ہے یہی وجہ ہے کہ اپنی بیویاں ایک دوسرے سے بدلنے والے سور کے گوشت کے رسیا ہوتے ہیں لہذا مسلمان تو مسلمان کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے یا لادین افراد کوبھی اپنی صحت اور متوازن انسانی طرز زندگی کی خاطراس کے استعمال سے لازمی بچنا چاہئے۔یہ وہ معلومات ہیں جوکہ پنجاب کی ایک اعلیٰ شخصیت کی طرف سے سور کے گوشت کے استعمال کے حوالے سے آنے والی خبروں کے بعد ایلیٹ سوسائٹی کے اراکین تک پہنچانے کی کوشش کر چکا ہوں۔ تاکہ ان خبروں سے اس نجس گوشت کے استعمال کی ترغیب نہ ہونے پائے۔ جبکہ وطن عزیز میں سب سے پہلے اس خدشے کا اظہار بھی راقم ہی نے کیا تھا کہ پاکستان میں مرغیوں کو سور کی چربی سے بنی فیڈ استعمال کروانے سے برڈ فلو کے کیسز زیادہ سامنے آرہے ہیں لہذا اس پر پابندی عائد کی جائے۔ پاکستان کی عدلیہ نے بھی اس کی توثیق کی اور سورکی چربی ملی مرغیوں کی فیڈ پر پابندی عائد ہوئی۔


    سوائن فلو یا خنزیر میں ہونے والے انفلوائنزا وائرس سے متعلقہ خبریں تو مارچ کے اواخر سے ہی سور کا گوشت استعمال کرنے والے ممالک کے حوالے سے سامنے آ رہی تھیں لہذا اتنی فکر لاحق نہ ہوئی لیکن جب اپریل کے اواخر تک سوائن فلو عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے لگا تو ماتھا ٹنکا اور اس سلسلے میں معلومات کے حصول کیلئے تگ ودو شروع کی ‘اب تک جو معلومات حاصل ہوئیں وہ نذر قارئین ہے۔


    سوائن فلو کی وبا نے دنیا کے بیسیوں ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یورپ میں اسپین اور برطانیہ کے بعد جرمنی میں بھی سوائن فلو کے کیسز کی تصدیق ہوگئی ہے۔ سوائن فلو کی وبا کا آغازمارچ میں میکسیکو سے ہوا‘ جہاں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔سوائن فلو کے مشتبہ مریضوں کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کرچکی ہے ۔ تادم تحریر میکسیکو میں مشتبہ مریضوں کی تعداد دو ہزار چار سو اٹھانوے ہے ۔امریکا میں ریاست کیلیفورنیا میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا گیا ہے نیو یارک میں ایک سکول کے سینکڑوں طالبعلم اس وائرس کی زد میں ہیں ۔امریکہ کے صدر باراک اوباما نے اس وائرس کے خلاف اقدامات کے لئے کانگریس سے ڈیڑھ بلین ڈالر کا تقاضا کیا ہے۔ کینیڈا ،نیوزی لینڈ ، کوسٹاریکا ، اسکاٹ لینڈ، اسپین ، اسرائیل، جرمنی ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، آسٹریا،چلی، کولمبیا، ڈنمارک، فرانس، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، نیوزی لینڈ،آئرلینڈ، ہالینڈ، پولینڈ جنوبی کوریا، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور تھائی لینڈ میں مہلک سوائن فلو کے مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ میکسیکو میں تمام اسکولوں کو جبکہ امریکا میں متاثرہ ریاستوں کے اسکول بند کردیئے گئے ہیں ۔ پاکستان سمیت کئی ممالک نے ایئرپورٹس اور داخلی راستوں پر مسافروں کی اسکیننگ شروع کردی ہے۔ عالمی سطح پر ہیجان اور تشویش کا باعث بننے والا سوائن وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔میکسیکو کے شہری گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ماسک کا استعمال کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔سکولوں سے لے کر ہوٹلوں تک ہر جگہ بند ہے۔ اس وائرس کے پھیلا کی وجہ سے ملکی سیاحت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے اور صرف میکسیکو سٹی کو روزانہ 57 ملین ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔آٹھ ممالک نے، جن میں فرانس، برطانیہ، کیوبا اور ارجنٹائن شامل ہیں ، میکسیکو کے لئے اپنی پروازوں کا سلسلہ معطل کر دیا ہے اور اپنے شہریوں سے اس ملک کا سفر نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ وائرس کے پھیلا ؤکی تشویش کی وجہ سے فرانس سے تھائی لینڈ تک بہت سے افراد کو جن پر اس وائرس میں مبتلا ہونے کا شبہ ہے طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس مرحلے پر مرض پر قابو پانا ممکن نہیں رہا۔ دنیا بھر میں کوئی جگہ اس وائرس سے محفوظ نہیں مزید یہ کہ ادارے نے ہنگامی صورتحال میں مزید اقدامات کا اضافہ کردیا ہے۔



    سوائن فلو ہے کیا؟

    سوائن فلو کی موجودہ وباء خنزیروں میں موجود ایک وائرس influenza A virus subtype H1N1 کی وجہ سے دنیا کی تباہی کا دوبارہ پیغام لے کر آئی ہے۔ یہ سب ٹائپ فلو،جانورں اور انسانی فلو وائرس کے مختلف اجزا سے مرکب ہے۔ اس کی ابتدا کیسے ہوئی، اس کا اب تک پتہ نہیں چلایا جا سکا لیکن سب سے پہلے کب ہوئی یہ معلومات مجھے جین برونڈی کی کتاب فلو فائٹر کے مطالعہ سے معلوم ہوئی سوائن وائرس کا سب سے پہلے انکشاف 1918 میں ہواجسے اس وقت سپینش فلو کا نام دیا گیااس فلو سے امریکہ میں پچاس ہزار سے زائد جبکہ دنیا بھر میں بیس ملین ہلاکتیں ہوئیں یہ 1957 تک ہسپانوی آبادی میں موجود رہا۔اس کے علاوہ 1930 میں اس کا انکشاف سانس کی خطرناک بیماری میں مبتلا سوروں میں ہوا۔

    سوائن فلو ‘ زکام سے مشابہہ متعددی مرض ہے مگر اس کا طریقہ کار مخفی ہے۔ ابھی تک یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ کھانسنے ، چھینکنے اور متاثرہ شخص کو چھونے سے یہ مرض ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔خصوصا انسانی تنفس سے دوسرے انسان کو متاثر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت WHO کے مطابق میکسیکو میں ہلاکتوں کا سبب بننے والا وائرس A/H1N1 وائرس ہے۔ یہ وائرس انسان سے انسان کو منتقل ہوتا ہے اور انسانوں، سوروں اور پرندوں کے فلو وائرس کے اجتماع سے سامنے آتا ہے۔


    علامات

    طبی ماہرین کے مطابق سوائن فلو میں مبتلا ہونے کی اہم علامات میں اچانک 104 درجے کا بخار شدید زکام، کھانسی ،سردرد ،جوڑوں کا درد اور بھوک کا ختم ہو جانا ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ ہوسکے اور مدافعتی نظام ناکارہ ہوجائے تو مریض نمونیا کا شکار ہو کر دم توڑ جاتا ہے۔چونکہ سوائن فلو کی بیماری واضح علامات ظاہر نہیں کرتی اور عام معمولی فلو کے مریض کی طرح کی ہی علامات سامنے آتی ہیںجس کی وجہ سے اس بیماری میں مبتلا انسانوں کی درست تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔



    خدشات

    ٭۔ ۔ ۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ وائرس بیمار سوروں کے قریب رہنے والے انسانوں میں آسانی کے ساتھ منتقل ہو جاتا ہے اور پھر یہ انسانوں میں تیزی سے پھیل کر وبائی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین نے اسے H1N1 ٹائپ فلو وائرس کا نام دیا ہے۔ اس وائرس کے انسانوں کیلئے انتہائی خطرناک ہونے کا اندازہ عالمی ادارہ صحت کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برڈ فلو کے ایچ 5 ایف آئی وائرس سے 2003 سے اب تک دنیا بھرمیں 250 انسانوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا اس کے برعکس سوائن فلو وائرس صرف چند دنوں میں میکسیکو کے دو سو افراد کو نگل چکا ہے اور میکسیکو سے باہر ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔


    ٭۔ ۔ ۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ انفلوائنزا وائرس کی ایک نئی قسم ہے ، جس کے خلاف ابھی تک کوئی مدافعتی نظام انسانی جسم میں موجود نہیں اور ابھی تک کسی قسم کی کوئی ویکسین بھی دریافت نہیں کی جاسکی ہے۔


    ٭۔ ۔ ۔ جن لوگوں کا خنزیروں سے دور کابھی واسطہ نہیں وہ بھی پہلے سے متاثرہ کسی فرد سے سوائن فلو کا شکار ہو سکتے ہیں۔


    ٭۔ ۔ ۔ اس بیماری کے ایک شخص سے دوسرے میں انتقال کی رفتار ، اور دوسرے عوامل جو اس بیماری کی نوعیت متعین کرتے ہیں، واضح نہیں ہیں۔ حتی کہ ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ موجودہ دافع انفلوئنزا دوائیں اس کہ خلاف کارگر ہونگی کہ نہیں۔



    علاج

    ٭۔ ۔ ۔ غالب طریق علاج (ایلوپیتھک)کے ماہرین کے مطابق فلو کی اکثر اقسام لاعلاج ہیں اور ان کی ویکسین بھی موجود نہیں‘ ان فلووائرسز میں جینیاتی تبدیلی آتی رہتی ہے بعض دفعہ اچانک تبدیلیاں جنم لیتی ہیں جنہیں جین مخالف تبدیلی یا Antigenic Shift کہتے ہیں اس طرح کی تبدیلیوں کے نتیجے میں پوری کی پوری آبادیاں فلو میں مبتلا ہو جاتی ہیں اور عالمگیر وبا پھوٹ پڑتی ہے جب ان میں ٹائپ اے فلو وائرسز ملوث ہوں تو یہ انتہائی مہلک ثابت ہوتی ہیں‘ان امراض کا اپنا دورانیہ ہوتاہے اور مکمل علاج دستیاب ہونے تک (جس میں بعض دفعہ سالوں لگ سکتے ہیں)صرف اور صرف علامتی علاج ہی کیا جا سکتا ہے۔ سنگین پچیدگیوں کے زبردست خطرے میںزیاد سے زیادہ چند اینٹی وائرل ادویات استعمال کروائی جا تی ہیں۔


    ٭۔ ۔ ۔ تغیر پذیر وائرل ڈیزیزز میں ہربل یعنی طب یونانی (اسلامی) کی ادویات اور دیگر گھریلو علاج کی اثر پذیری کو کسی طوررد نہیں کیا جا سکتا لیکن وسائل اور تحقیق کے مواقعوں کی عدم دستیابی سے سائنسی طور پر اسے ثابت کرنا بھی مشکل امر ہے۔ مثلاً گذشتہ کئی سالوں سے ڈینگی وائر س کے کامیاب علاج کے حوالے سے پپیتے کے پتوں کے رس کو انتہائی موثر پایا ہے اور ہزاروں مریض میری وساطت سے شفا یاب ہوچکے ہیں جن میں کئی ایم ڈی امریکن ڈاکٹرز‘ بیوروکریٹس اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ لیکن اس شفایابی کی سائنسی توضیحات دینے سے قاصر ہوں ظاہر ہے یہ فرد واحد کا کام نہیں ادارے کا کام ہے جو حکومت کی سرپرستی کے بغیر کیسے ممکن العمل ہو سکتا ہے۔


    ٭۔ ۔ ۔ فلو کسی بھی وائرس سے ہو ادرک اور میتھی کے بیج یعنی میتھرے کی ہربل ٹی کو میں نے انتہائی فائدہ مند پایا ہے کئی غیرملکی احباب بھی اس کی افادیت کے قائل ہیں اس کے تیار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ میتھرے ایک کھانے کا چمچ ایک گلاس پانی میں جوش دیںجب پانی ایک تہائی رہ جائے اتار کر چھان لیں اب اس میں تازہ ادرک کا رس ایک چمچ (چائے والا) اور شہد ایک بڑاچمچ شامل کرلیں یہ ہربل ٹی پینے سے خوب پسینہ آتا ہے‘ بخار ٹوٹ جاتا ہے اور فلو میں افاقہ ہو جاتا ہے۔


    ٭۔ ۔ ۔ ورزش اور لمبی واک سے ہمارا مدافعتی نظام خود کو منظم کرکے نئی قوت حاصل کرتا ہے اور کسی بھی مرض میں زیادہ موثر مزاحمت کرتا ہے۔جبکہ نماز‘ مراقبہ‘ استغراق یا ذہنی ارتکاز سے بھی اعصابی تناؤ اور ذہنی دباؤ دور کر کے مدافعتی نظام کو صحتمند و متحرک کیا جا سکتا ہے۔


    ٭۔ ۔ ۔ ہرقسم کے فلو کے مریض کو شراب‘تمباکو نوشی‘محفوظ کیا ہوا گوشت‘ ڈبہ بند غذائیں‘ چاول ‘ آلو‘ اچار وغیرہ اور تمام ٹھوس غذاؤں سے حتی الامکان پرہیز لازم ہے۔ پھلوں کے جوسز‘ سبزیوں کے سوپ اور دیگر سیال غذائیںو دوائیں جوشاندہ وغیرہ زیادہ مفید ہیں۔


    احتیاطی تدابیر

    ٭۔ ۔ ۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے لہذا درج ذیل احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لا کر اس مرض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔


    ٭۔ ۔ ۔ کسی بھی قسم کی انفیکشن خصوصاً وائرل انفیکشن کے تدارک اور داخلی مزاحمت و مدافعت بڑھانے کیلئے ‘کسی بھی قسم کی گوبھی ‘لہسن‘ پیاز‘ ترش پھل‘ لیموں‘ مالٹا‘ سنگترہ وغیرہ ‘ٹماٹر‘ ادرک ‘ کالی مرچ‘ زنک والی غذائیں مثلاً گندم ‘مچھلی اور گوشت وغیرہ کو اپنی روز مرہ خوراک میں شامل کریں۔


    ٭۔ ۔ ۔ اپنے ہاتھوں کو باقاعدہ کسی صابن سے دھوئیں۔ لیکویڈ سوپ کا استعمال وائرس کو پھیلنے سے بچانے کا اچھا طریقہ ہے۔ اگر آپ ایسے علاقے میں ہیں جہاں اس وباء کے پھیلنے کے امکانات ہیں، یا ایسے لوگ ہیں جو حال ہی میں بیرون ملک کا سفر کر کے لوٹے ہیں تو پھر احتیاطی تدابیرپر عمل کرنا مزید ضروری ہے۔جہاں وباء پھیلی ہو وہاں پر ڈسپوزایبل ماسک کا استعمال بھی فائدہ مند ہے ۔


    ٭۔ ۔ ۔ چھینکتے یا کھانستے وقت کسی رومال یا ٹشو پیپر کو استعمال کریں اور استعمال کے فورا بعد اسے ضائع کر دیں اور ہاتھوں کو فورا ً لیکویڈ صابن سے دھو لیں۔


    ٭۔ ۔ ۔ اگر آپ گھر سے باہر ہیں اور صابن سے ہاتھ نہیں دھو پائے ہیں تو اس دوران خصوصا ًاور ویسے بھی اپنے منہ، آنکھوں اور ناک کو ہاتھ یا انگلیاں لگانے سے پرہیز کریں کیونکہ ان جگہوں سے وائرس کے جسم میں داخلے کا امکان زیادہ ہے۔


    ٭۔ ۔ ۔ زیادہ تر غیرملکی سفر میں رہنے اور اکثرپبلک ٹیلیفون استعمال کرنے والے افرادکو وائرل انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اس سلسلے میں شدید ضرورت ہو تواپنے پاس
    wipes
    ضرور رکھنا چاہئے اور وائپز سے رسیور صاف کر کے استعمال کرنا چاہئے۔


    ٭۔ ۔ ۔ اس خطرناک وائرس کو پاکستان پہنچنے سے روکنے کیلئے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس مقصد کیلئے وائرس سے متاثرہ ممالک سے پاکستان آنے والے مسافروں کی ہوائی اڈوں پر خصوصی سکریننگ کی جانی چاہئے اور وائرس سے متاثرہ مسافروں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے یا انتہائی نگہداشت اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ فوری طور پراس سلسلے میں مخصوص ہسپتال کے آئیسولیٹڈ وارڈ میں داخل کرا دینا چاہئے۔ صرف اسی اقدام سے ہی پاکستان کو اس تباہ کن وائرس سے بچایا جا سکتا ہے۔


    دنیا بھر میں احتیاطی تدابیر

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کو سوائن فلو کے خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔دنیا بھر میں سوائن فلو کو پھیلنے اور اس کو وبائی شکل اختیار کرنے سے روکنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ بیشتر حکومتوں نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ میکسیکو کے سفر سے گریز کریں جہاں اس مہلک مرض سے مرنے والے افراد کی تعداد سینکڑوں اور متاثرین ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔

    امریکا نے سوائن فلو ایچ 1 این 1 سے ٹیکساس میں ایک تئیس ماہ کے بچے کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔میکسیکو سے باہر سوائن فلو سے یہ پہلی ہلاکت ہے ۔

    کینیڈا ،نیوزی لینڈ ، کوسٹاریکا ، اسکاٹ لینڈ، اسپین ، اسرائیل، جرمنی ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، آسٹریا، چلی، کولمبیا، ڈنمارک، فرانس، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، نیوزی لینڈ، آئرلینڈ، ہالینڈ، پولینڈ جنوبی کوریا، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور تھائی لینڈ میں مہلک سوائن فلو کے سینکڑوں مشتبہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔


    لیکن دنیا بھرمیں صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ جس تیزی سے صورت حال تبدیل ہورہی ہے ،اس کے پیش نظر تعداد کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی اور ڈاکٹرحضرات اور طبی عملہ کے ارکان نظام تنفس کے حوالے سے کسی مسئلہ کا شکار لوگوں کے ٹیسٹ کررہے ہیں ۔

    میکسیکو نے ملک بھر میں تمام آرکیالوجیکل مقامات کو اگلے نوٹس تک بند کردیا ہے جس کے بعد ٹورآپریٹر بھی ملک سے چلے گئے ہیں۔حکومت کے ان اقدامات سے ملک کی سیاحت کی صنعت خطرات سے دوچار ہوگئی ہے۔
    میکسیکو شہر میں سوائن فلو پھیلنے کے بعد لوگوں اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں اور حکام نے اسکول،سینما گھر،اسٹیڈیم،ریستوران حتی کہ گرجا گھر بھی بند کر دئیے ہیں۔


    آسٹریلیا میں حکام کو سوائن فلو سے متاثرہ کسی بھی مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کے اختیارات سونپ دئیے گئے ہیں۔
    سور کے گوشت کے کاروبار کو سنبھالا دینے کیلئے کہا جا رہا ہے کہ سوائن فلوکا وائرس سور کے گوشت یا اس سے بنی مصنوعات کے کھانے سے پیدا نہیں ہوتااور یہ وائرس 70 درجے پر سور کے گوشت کو پکانے سے ہلاک ہو جاتا ہے۔لیکن روس اور چین سمیت بعض ممالک نے اس ہدایت کی سنی ان سنی کرتے ہوئے امریکا سے سور کے گوشت کی درآمد پر پابندی لگادی ہے۔
    سوائن وائرس اب ایشیا میں بھی پہنچ چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سوائن فلو کی وبا لاکھوں افراد کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے لہذا دنیا بھر کے ممالک کو اس سے بچا ؤکیلئے حفاظتی اقدامات کرنے چاہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس خطرناک ترین وائرس کے انسداد کی ویکسین تیار کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔


    سوائن وائرس اورپاکستان

    وزرات صحت حکومت پاکستان کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ملک میں ابھی تک سوائن وائرس کا کوئی بھی مشتبہ مریض سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس وبا کے پھوٹنے کے فوری امکانات ہیں تاہم ان کے مطابق پاکستان کو سوائن وائرس سے اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کسی بھی دوسرے ملک کو۔ وفاقی سیکرٹری برائے صحت رشید جمعہ اور قومی ادارہِ صحت کے ماہرین نے کہا کہ کیونکہ سوائن وائرس جانوروں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچتا ہے لہذا اس کے امکانات کو خارج نہیں کیا جا سکتا ۔


    وفاقی سیکرٹری برائے صحت رشید جمعہ کا کہنا ہے کہ وزارت صحت نے میکسیکو ،امریکہ، کینڈا اور یورپ کے بعض حصوں میں سوائن وائرس کے انسانی صحت پر اثرات اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کے پیش نظر پاکستان میں اس وبا کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام ممکن اقدامات اٹھا رکھے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک پاکستان کی سرحد سے ملحقہ یا خطے کے دیگر ملکوں میں کہیں بھی سوائن فلو وائرس H1N1 کا کوئی انفیکشن رپورٹ نہیں ہوا تاہم ملکی آبادی کو اس بیماری کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے تما م بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر بیرون ملک سے آنے والے افراد کی خصوصی سکریننگ کی جارہی ہے تمام ہوائی اڈوں پر باہر سے آنے والے افراد کو فارم دے کر ان کی سفری معلومات حاصل کی جارہی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی متاثرہ شخص متاثرہ ملک سے وائرس لے کر پاکستان میں داخل نہ ہوں یہ ایئر لائینز کے عملے سے کہا گیا ہے کہ وہ آنے والے مسافروں پر نظر رکھیں اور اگر کسی بھی مسافر میں مشتبہ فلو کی علامات ظاہر ہوں تو فورا ایئر پورٹ ہیلتھ اتھارٹی کو اطلاع دیں۔ وفاقی سیکرٹری کے مطابق پاکستان میں سمندر یا زمین کے راستے سے داخل ہونے والے افراد کی بھی سکریننگ کی جارہی ہے جب کہ ملک بھر میں تمام تعلیمی اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ والدین کو فلو سے متاثرہ اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجنے کا مشورہ دیں۔


    یہ بات باعث تشویش ہے کہ پاکستان کی تمام حکومتوں کے دعووں کے برعکس صحت کے شعبے میں کوئی قابل ذکر ترقی نہیں ہوئی ۔نصف صدی سے زائد گذرنے کے باوجود ہمارا صحت کا شعبہ ابھی بھی ترقی پذیربلکہ انحطاط پذیر ہے۔ مبہم صحت پالیسیاں بنانے کا کیا فائدہ جب ان پر عمل درآمد کے لئے کوئی طریق کار ہی وضع نہ کیا گیا ہو؟؟؟


    پاکستان میں جدید وبائی امراض سے نپٹنے کیلئے کوئی موثر سسٹم موجود نہیں جو کہ باعث تشویش ہے۔ وائرل ڈیزیزز کے حوالے سے صحت سے متعلقہ وفاقی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پرفوری وعملی اقدامات کرنے چاہئیں۔


    پچھلے سال ڈینگی وائرس نے جس طرح تباہی مچائی وہ سب کے سامنے ہے۔ ’’ڈینگی‘ ایک خونی وائرس ‘‘پر اگرچہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ڈینگی وائرس اور اس کے مضمرات کے بچاؤ سے متعلق ہنگامی بنیادوں پر اہم اقدامات کئے ۔لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی جبکہ اس سال ڈینگی وائرس کے حوالے سے پنجاب میں بہت پہلے سے اہم اقدامات کئے جارہے ہیں جو نہ صرف قابل تحسین ہیں بلکہ دیگر صوبوں کو بھی اس کی تقلید کرنا چاہئے۔

    حکیم قاضی ایم اے خالد​


    دیگر ملکوں کے علاوہ سعودی عرب میں بھی سکول بند ہیں جب تک سوائن فلو پر قابو نہیں پا لیا جاتا۔​
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں