"خوشبو" - پروین شاکر ( مختصر نظمیں )

باذوق نے 'کلامِ سُخن وَر' میں ‏اگست 23, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    پروین شاکر
    کے پہلے مجموعہ کلام
    خوشبو
    میں شامل تمام مختصر نظمیں اِس لڑی میں پیش کی جائیں گی !

    ============

    ایک شعر
    ہمیں خبر ہے ، ہوا کا مزاج رکھتے ہو
    مگر یہ کیا ، کہ ذرا دیر کو رُکے بھی نہیں
    ============

    پیش کش
    اتنے اچھے موسم میں
    روٹھنا نہیں اچھا
    ہار جیت کی باتیں
    کل پہ ہم اٹھا رکھیں
    آج دوستی کر لیں !
    ============

    واہمہ
    تمھارا کہنا ہے
    تم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو
    تمھاری چاہت
    وصال کی آخری حدوں تک
    مرے فقط میرے نام ہوگی
    مجھے یقین ہے مجھے یقین ہے
    مگر قسم کھانے والے لڑکے
    تمھاری آنکھوں میں ایک تل ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    فاصلے
    پہلے خط روز لکھا کرتے تھے
    دوسرے تیسرے ، تم فون بھی کر لیتے تھے
    اور اب یہ ، کہ تمھاری خبریں
    صرف اخبار سے مل پاتی ہیں !
    ============

    کتھا رس
    میرے شانوں پہ سر رکھ کے
    آج
    کسی کی یاد میں وہ جی بھر کے رویا !
    ============

    چاند
    ایک سے مسافر ہیں
    ایک سا مقدر ہے
    میں زمین پر تنہا
    اور وہ آسمانوں میں !​
     
  3. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    نوید
    سماعتوں کو نوید ہو ۔۔۔ کہ
    ہوائیں خوشبو کے گیت لے کر
    دریچۂ گل سے آ رہی ہیں !
    ============

    ایک شعر
    خوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے
    موجِ ہوا کے ہاتھ میں اس کا سراغ ہے
    ============

    تشکر
    دشتِ غربت میں جس پیڑ نے
    میرے تنہا مسافر کی خاطر گھنی چھاؤں پھیلائی ہے
    اُس کی شادابیوں کے لیے
    میری سب انگلیاں ۔۔۔
    ہوا میں دعا لکھ رہی ہیں !​
     
  4. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    ایک شعر
    میں جب بھی چاہوں ، اُسے چھو کے دیکھ سکتی ہوں
    مگر وہ شخص کہ لگتا ہے اب بھی خواب ایسا !
    ============

    موسم کی دُعا
    پھر ڈسنے لگی ہیں سانپ راتیں
    برساتی ہیں آگ پھر ہوائیں
    پھیلا دے کسی شکستہ تن پر
    بادل کی طرح سے اپنی بانہیں !
    ============

    مقدّر
    میں وہ لڑکی ہوں
    جس کو پہلی رات
    کوئی گھونگھٹ اُٹھا کے یہ کہہ دے ۔۔
    میرا سب کچھ ترا ہے ، دل کے سوا !
    ============

    تیری ہم رقص کے نام
    رقص کرتے ہوئے
    جس کے شانوں پہ تُو نے ابھی سَر رکھا ہے
    کبھی میں بھی اُس کی پناہوں میں تھی
    فرق یہ ہے کہ میں
    رات سے قبل تنہا ہوئی
    اور تُو صبح تک
    اس فریبِ تحفظ میں کھوئی رہے گی !
    ============​
     
  5. باذوق

    باذوق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 10, 2007
    پیغامات:
    5,623
    ایک شعر
    حال پوچھا تھا اُس نےابھی
    اور آنسو رواں ہو گئے !
    ============

    پکنک
    سکھیاں میری
    کُھلے سمندر بیچ کھڑی ہنستی ہیں
    اور میں سب سے دور ، الگ ساحل پر بیٹھی
    آتی جاتی لہروں کو گنتی ہوں
    یا پھر
    گیلی ریت پہ تیرا نام لکھے جاتی ہوں !
    ============

    جان پہچان
    شور مچاتی موجِ آب
    ساحل سے ٹکرا کے جب واپس لوٹی تو
    پاؤں کے نیچے جمی ہوئی چمکیلی سنہری ریت
    اچانک سرک گئی !
    کچھ کچھ گہرے پانی میں
    کھڑی ہوئی لڑکی نے سوچا
    یہ لمحہ کتنا جانا پہچانا سا لگتا ہے!
    ============

    دوست
    اس اکیلی چٹان نے
    سمندر کے ہمراہ
    تنہائی کا زہر اتنا پیا ہے
    کہ اس کا سنہری بدن نیلا پڑنے لگا ہے !
    ============

    پسِ جاں
    چاند کیا چھپ گیا ہے
    گھنے بادلوں کے کنارے
    روپہلے ہوئے جا رہے ہیں !
    ============​
     
  6. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    بہت خوب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں