کچن کہانی

عائشہ نے 'کچن کارنر' میں ‏دسمبر 11, 2009 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,851
    السلام علیکم سسٹر

    ہم مسلمان جب کسی جگہ سے کوئی خبر سنتے ہیں تو خبر کتنی بھی خوشی والی کیوں نہ ہو اگر اس میں کوئی ایسی دکھ والی یا فوتگی والی بات بھی شامل ہو تو سب خوشیاں ایک طرف دکھ کا افسوس کرتے ہیں۔ اگر آپ کا طریقہ جو آپ نے لکھا ھے ویسا ھے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

    والسلام
     
  2. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    سچ مچ بردر!
    اس میں کوئی شل نہیں کہ عین سسٹر نے اچھا سوچ کر لکھا تھا مگر اسی وقت یہ افسوس بھی ہواتھا
    کیسا لگتا ہے نا جب کوئی اپنا کافی دن تک ساتھ رہنے کے بعد ایکدم سے
    ہمیشہ کے لیے
    ہم دور چلا جاتا ہے جہاں سے پھر واپس نہیں آتا
    پھر لاکھ خوشی کی بات ہو لیکن ساتھ یہ بھی یاد آجائے تو غم زیادہ ہوتا ہے اور خوشی کم
     
  3. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,709
    وعلیکم السلام بھائی! آپ کی بات اپنی جگہ بلکل درست ہے مگر مجھے ان کی بات "اب وہ نہیں رہی تو وہ معصوم سی شرارت بار بار یاد آتی ہے ۔سقاھا اللہ من سلسبیل الجنہ ۔" سمجھ نہیں تھی اس لیئے میں نے صرف واقعات پر گریٹ کہنا مناسب نہ سمجھا۔:00009:
     
  4. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,851
    السلام علیکم پیاری بہن

    میں نے آپ کو قطعاً تنقید نہیں کی تھی، آپ نے کسی بات پر گریٹ لکھا مجھے اس بات کا پتہ نہیں تھا، مگر میں نے آپ کو وہ بتایا جو ہمارے پاکستان میں کہا جاتا ھے۔ میری طرف سے اپنے دل میں کوئی غلط فہمی نہ رکھنا۔ خیر چھوڑیں ان باتوں کو آٓگے بڑھتے ہیں۔

    میری بھی ایک بیٹی میرے ہاتھوں میں فوت ہوئی ہوئی ھے اگر وہ آج ہوتی تو 15 سال کی ہوتی۔ مجھے بھی وہ بہت یاد آتی ھے۔ :00003: گریٹ :00032:

    والسلام
     
  5. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,709
    میں نے کسی بات کا بُرا نہیں مانا۔ اور آپ کی بیٹی کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔آمین
     
  6. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,851
    السلام علیکم

    چلیں آپ کو ایک اور بات سناتے ہیں۔
    میں جب پہلی مرتبہ پاکستان چھوڑا اور دبئی تشریف لائے تو کمپنی آن شور میں تھی مگر رہائش دیرہ دبئی یوسف باکر روڈ پر تھی۔ دو دن تک تو کمپنی کے مالک نے ہی کھانا کھلوایا پھر اپنا بندوبست کرنا تھا، میرے روم والے پاکستانی تھے مگر سب الحل پینے والے تھے، اب اپنا کھانے کے لئے بندوبست کرنا تھا۔ روم میٹ نے کہا کہ آپ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ بہت فائدہ ھے کھانے کے پیسے بھی کم ہی شیئر ہوتے ہیں۔ میرا ضمیر گورا نہیں کیا، خیر بازار گیا اور برتن مرچ مصالحہ یعنی ہر سامان اپنا لے کر آیا۔
    میرے روم میٹ جب گھر نہیں تھے تو پہلی کوکنگ پر تجربہ کیا۔
    میری پہلی کوکنگ گوشت بنانا تھا کھانے کے لئے مگر کبھی بنایا نہیں تھا مگر کچھ دھندلا سا یاد تھا کہ میری والدہ جب کھانا بناتی تھیں تو کیا کیا کرتی تھیں، مگر کنفرم نہیں تھا کیونکہ کبھی پاکستان میں ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔

    ہنڈیا میں گوشت ڈالا اور پیاز، لہسن، ادرک، بمہ مصالحہ جات کے اور کچھ پانی بھی ڈال دیا اور میڈیم آگ پر سے رکھ چھوڑا، تقریباً 15 منٹ بعد جب ہنڈیا کا ڈھکن اتار کر دیکھا تو ہنڈیا میں پانی کا سیلاب آیا ہوا تھا، اور میں ڈر گیا کہ یہ کیا ہوا گیا۔ بہت پریشانی ہوئی اور سوچا شائد ایسا ہی ہو مگر سمجھ نہیں آئی کہ یہ پانی کا سیلاب کہاں سے آ گیا۔
    خیر ایک گھنٹہ تک ایسا ہی رہا سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کیا بن گیا ھے اور میں کیا کھا رہا ہوں۔ بس پھر بعد میں مجھے ہوٹل لگوانا پڑا کھانے کے لئے۔ ایسے موقعوں پر اپنی امی کی بہت یاد آتی ھے سب کو۔

    شائد پاکستان میں رہنے والے یہ سوچیں کہ پانی کا سیلاب کہاں سے آیا تو یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہاں جو گوشت ہوتے ہیں وہ فریز ہوتے ہیں، اس لئے انہیں پکانے کے لئے پانی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی صرف مصالہ ڈال کر آگ میں رکھ دینا چاہئے اور جو پانی ھے وہ گوشت جو فریز ھے تھوڑی حرارت کے بعد پانی اسی کے اندر سے نکلتا ھے۔

    :00026:

    والسلام
     
  7. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,709
    بہت خوب! اب تو آ ہی گیا ہوگا کھانا پکانا؟ :00026:
     
  8. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,851
    السلام علیکم

    لولز، جب ابوظہبی میں تھے تو امی جان ہی بنایا کرتی تھیں پھر جس جس بھائی کی شادی ہوتی گئی تو سب کی بیویاں بھی شامل ہو گئیں پھر کسی کو بھی کسی کی بیوی لے ہاتھ کا کھانا پسند نہیں آتا تھا ، پھر امی جان نے یہ ڈیوٹی اپنے ہی ذمہ لے لی، کہ جو کوئی کچھ کہتا ھے تو اس کی بیوی کا موڈ خراب ہو جاتا ھے، وہاں جب وہاں تھا تو اپنی امی سے سیکھا تھا گھر میں سب کچھ، پھر میں اپنی فیملی لے کر یہاں آ گیا مگر وائف ہی ہر قسم کی کوکنگ جانتی ھے جو پاکستان میں بازار سے کھانے کھایا کرتے تھے وہ سب گھر میں ہی مل جاتے ہیں۔

    اس فارم میں ایک نئی ڈش کا نام سنا ھے "گلاب پکوڑا جامن" کسی دن وہ بھی بنا کر دیکھیں گے کہ کیسا ٹیسٹ ھے اس کا۔ ویسے اس کی ریسپی کی لسی ہی بن سکتی ھے اگر آگ پر پکایا تو شائد بعد میں پھینکنا پڑے:00026:


    والسلام
     
  9. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,358
    ہم تو ہر ماہ دو ماہ بعد بکرا منڈی جاکر اپنی پسند کے دیسی بکرے خرید کر اپنے خاص قصائی سے بنوا کر گھر لاتے ہیں‌اور جب سے ہوش سنبھالا ہے ایسے ہی ہوتا دیکھتا آرہا ہوں ۔۔۔
    اور یہ کہنا کہ "یہاں جو گوشت ہوتے ہیں وہ فریز ہوتے ہیں" عمومی طور پر غلط ہے ۔۔۔
     
  10. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,851
    السلام علیکم بھائی

    بھائی میں جب پہلی مرتبہ گھر سے نکلا تھا اور دبئی گیا تھا آج سے 22 سال پہلے اور تیسرا دن تھا جب میں نے کھانا بنایا تھا، اور مجھ اکیلے کے لئے بکڑا ۔۔۔۔۔۔:00039: بھائی میری سٹوری پر ٹھنڈے دماغ سے پڑھ لیا کریں جلدی میں جواب ایسا ہی ہوتا ھے۔

    ابوظہبی میں جتنا بھی گوشت بکتا ھے بھائی فریز ہی ہوتا ھے جوں جوں بکتا جاتا ھے اسی حساب سے فریزر سے باہر نکالتے رہتے ہیں۔ ویسے تو بکڑ منڈی میں جا کر پہلے بکڑا خریدیں پھر بکڑا کو مصفع صناعیہ میں لے کر جاؤ اور پھر وہاں سے خود ہی کہیں ریتلی جگہ پر اسے خود ہی ذبع کریں اور اگر "استخبرات" والوں نے پکڑ لیا تو پھر سیدھا پاکستان پیک، تو اس کے لئے کوئی اتنا بڑا رسک نہیں لیتا ہاں جو مصفع صناعیہ میں رہتے ہیں وہ بکڑا لا کر کر لیتے ہیں اندر ہی۔
    بکڑے کی ابوظہبی میں ہر جگہ دکانیں ہیں مگر سینٹر میں ایک فش مارکیٹ ھے اس کے اندر تو گوشت کی دکانوں کا امبار لگا ہوا ھے۔ بکڑے پیچھے گورنمنٹ سے ہی گوشت کی شکل میں ملتے ہیں اور پھر دکانوں والے جو آج لیتے ہیں وہ بھی فریز کر دیتے ہیں مگر آج والا گوشت وہ کبھی نہیں بیچتا پہلے پرانا ہی بیچتے ہیں۔

    ہو سکتا ھے سعودی عرب میں تازے بکڑے کرنے کی اجازت ہو۔

    بھائی میں اب دو ہفتہ بعد بکڑا لے کر آتا ہوں یہاں بھی فریز ہوتا ھے۔

    والسلام



    والسلام
     
  11. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,358
    خاص قصائی سے مُراد قصائی کی ایک خاص دُکان کا خاص قصائی ۔۔۔
    مطلب ممنوعہ کام ہم بھی کرنا پسند نہیں‌کرتے ۔۔۔ الحمدللہ
     
  12. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,851
    السلام علیکم بھائی

    لیکن ابوظہبی میں کوئی بھی کسائی دکان میں بھی بکڑا نہیں کاٹ سکتا۔ پٹھان بھائی بہت زیادہ تعداد میں صرف ابوظہبی میں رہتے ہیں مگر وہی صرف ایسا کرتے ہیں کہ ایک بکڑا مل کر پیسے ڈال کر لے آتے ہیں اور بہت زیادہ تعداد میں رہتے ہیں، وہ فلیٹ کے باتھ روم میں بکڑا ذبح کر کے بنا لیتے ہیں۔ ان کو یہاں پر کسی قسم کی کوئی مشکل نہیں ھے کیونکہ ان کی ایک تنظیم ھے جہاں پر سب پٹھان بھائی ممبر ہوتے ہیں ان کے علاوہ کسی کو ممبر شپ نہیں ملتی۔ 7 سال پہلے تک تو 10 درھم ہی فیس تھی ان کی جو ہر مہینہ دینی ہوتی ھے، جس سے ان کو بہت فائدے ہیں۔ کوئی بھی پٹھان اگر بندہ قتل کر دے یا گاڑی کے نیچے آ جائے تو یہاں پر قصاص کی قیمت ھے۔
    عربی 1 لاکھ پچاس ہزار درھم، خارجی مسلم 1 لاکھ درھم، کرسچن 75 ہزار اور ہندو 50 ہزار،
    تو ان کی تنظیم فوراً یہ رقم ادا کر دیتی ھے اور اپنا بندہ چھڑوا لیتی ھے۔ اب ہو سکتا ھے اس قصاص کی رقم زیادہ ہو گئی ہو بھائی کوشش کیا کرو بات کو سمجھنے کی۔ میری کوشش ہوتی ھے کہ تفصلی لکھوں اب ایک ایک بات کی باریکی تفصیل لکھنا مناسب نہیں ہوتا، کیونکہ بڑوں کو بتا رہا ہوتا ہوں۔
    کیا آپ کے سعودی میں ایسی کوئی پٹھان تنظیم ھے جو ان کی مدد کرے۔

    والسلام
     
  13. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,358
  14. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    میرا بھی حال کچھ ایسا ہی ہوا تھا ،پھربھلا ہو رفی بھائی کا انہوں نے سمپل سمپل گوشت پکانے کا طریقہ بتا دیا۔ حالانکہ میں ابھی تک پرفیکٹ نہیں ہوا ہوں اسی لیے زید بھائی کو ٹال دیا تھا۔ :00008:
    اور گوشت کو فریز کرنے کے بارے میں تو آپ نے صحیح کہا لیکن ہم لوگ پہلے اسے ہلکے گرم پانی میں ڈبو دیتے ہیں جب کچھ الگ ہونے کے قابل ہو جاتے ہیں تو کاٹ کر بوٹیاں بناتے ہیں۔ ورنہ فریزڈ حالت میں تو چاقو کٹ جائے گا گوشت نہیں۔

    او بھائی! ہو سکتا ہے آپ کے جدہ میں ایسا ہوتا ہو
    لیکن جہاں تک چھڑے لوگ کا سوال ہے وہ پورا بکرا افورڈ ہی نہیں کر سکتے
    پھر آپ بچپن سے یہیں ہو اور اچھی اسٹیٹس کے ساتھ
    اور میرے تو خاندان میں سوائے حج کے کوئی سعودی کمانے نہیں آیا۔ الحمدللہ
    لیکن یہاں تو مرغی بھی فریز ہی استعمال ہوتی ہے جب کہ وہ ہر کوئی افورڈ کر سکتا ہے
     
  15. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,851
    السلام علیکم الیکس بھائی

    :) یار کیا حال ہوا ہو گا۔ پھر بننے کے بعد بندہ یہ کہتا ھے چلو کوئی بات نہیں کھانا تو میں نے ہی ھے۔ نہ بھنا گوشت، نہ شوربا گوست ایک عجیب سی ڈش بن جاتی ھے ۔ پانی میں ہر چیز تیر رہی ہوتی ھے پیاز۔ لہسن، ادرک۔ مصالحے وغیرہ وغیرہ۔:00026:

    کوئی بات نہیں شداد بھائی دو بکڑے لا کر پوٹلیاں بنا کر فریزر میں ہی رکھتے ہونگے اسی وقت تھوڑی بناتے ہونگے۔ تو وہ تازہ بکرا فریزر میں جا کر چلڈ ہو جاتا ھے۔ اسے بھی بنانے کے وقت پانی کی احتیاط ہی کرنی پڑتی ھے۔:00026:

    ہمارے وقت میں وہاں جمعۃ التعاون کی مرغی1500 گرام کی 50۔4 درھم کی ملتی تھی اور دبئی میں ایک ہی پاکستانی کے پاس لائسنس تھا جو زندہ مرغی کا گوشت سامنے ذبع کر کے دیتا تھا اور وہ مرغی 10 درھم کلو میں ملتی تھی۔ مگر کھانے والے یہ بھی کھاتے تھے مگر ہر کوئی نہیں۔

    ایک اور بات پورے الامارت میں شارجہ بازار میں ایک پاکستانی ریھڑی پر پھر پھر کے چنے، دہی بھلے بیچتا ھے۔ اور اس کو ریھڑی کا لائسنس ملا ہوا ھے۔ شائد ریھڑی سعودی عرب میں بھی کہیں نہ ہو۔ اس کو اجازت خاص السمو الشیخ قاسم کی طرف سے ھے۔ الامارات کی 7 ریاستوں میں سے صرف شارجہ کا شیخ قاسم ہی پڑھا لکھا ھے ڈاکٹریٹ کی ہوئی ھے اور خوف خدا دین کا بہت پابند ھے کہ پورے شارجہ میں کسی بھی 5 سٹار ہوٹل میں بھی الکحل ممنوع ھے، اس سے ہی آپ اندازہ لگا لیں۔
    اور ایک ریاست ھے راس الخیمہ وہاں پر سعودی عرب کی طرح نماز کے وقت سارے کاروبار رک جاتے/ بند کر دئے جاتے ہیں۔

    والسلام
     
  16. فرینڈ

    فرینڈ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 30, 2008
    پیغامات:
    10,709
  17. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
  18. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    وعلیکم السلام
    واہ بھائی!
    کیا بات بتائی ہے آپ نے
    اتنے سارے لوگوں میں صرف ایک آدمی؟؟
    خیر
    کچن کی طرف آتے ہیں
    ایک بار پھر دال پکانے کا ارادہ کیا، یہاں دال کو2 ایک گھنٹہ پہلے بھگادیتے ہیں اس سے جلدی پکتا ہے اور گیس اور وقت دونوں کی بچت ہو جاتی ہے، سو دال کو بھگا دیا 4 گھنٹے بعد جب دال اچھی خاصی پکنے کے قابل ہو گئی تو موسم کا دھیان آیا کہ اتنی ہوا میں پکے گا کیسے، کیونکہ ابھی تک مطبخ کھلی جگہ میں ہی ہے اور روشنی بھی کم ہے دماغ میں دوسرا آئیڈیا آیا کیوں نا اس میں پیاز اور مرچ نمک ڈال کر اسے کچا ہی کھا لیا جائے، ایسا ہمارے یہاں رمضان میں کھاتے ہیں آئیڈیا تو اچھا تھا مگر میں کبھی سوچتا ہمت کرکے بنا ڈالوں اور کبھی ہمت پست ہو جاتی کمرے میں کبھی سامان تک جاتا تو کبھی باہر چولہے کی طرف۔
    چار چکر اسی طرح کیے پھر سوچا، یار میں کر کیا رہا ہوں۔ :)
    آخر کسی طرح دال ہی پکایا مگر پانی زیادہ ہوگیا۔:00010:
     
  19. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,851
    السلام علیکم الیکس بھائی

    چنے کی دال پر آپ کو ایک ٹپ بتا دوں دال کو ایک گھنٹہ پہلے یا 12 گھنٹہ پہلے پانی میں بھگوؤ وہ پکے ہی گی، مگر ایک بات کا خیال رکھیں اگر تو پریشر ککر میں پکا رہے ہیں تو 25 منٹ اور اگر کیتلی میں پکا رہے ہیں تو 45 منٹ سے ا گھنٹہ اس سے پہلے دال کی ہنڈیا میں ڈوئی یا چمچہ نہیں مارنا،نہیں تو وہ 4 گھنٹہ پکنے کے بعد بھی نہیں نرم ہو گی۔ اور ایسا ہی لگے گا کہ دال کے دانے الگ ہیں اور پانی الگ ھے۔

    والسلام
     
  20. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    واہ بھائی بہت ٹِپس دیئے جا رہے ہیں‌اور ہمیں‌دیکھیں‌کچھ بنانا آتا ہی نہیں‌ہے
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں