غیر اللہ کی عبادت - مباحث

bheram نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جنوری 20, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    959
    براہ مہربانی غور فرمائیے

    highlight کیے ہوئے حصوں پر غور فرمائیے:



    حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ

    عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُونَ لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ أَبُو النَّاسِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلاَئِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَىْءٍ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا‏.‏ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ ـ وَيَذْكُرُ ذَنْبَهُ فَيَسْتَحِي ـ ائْتُوا نُوحًا فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ‏.‏ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ‏.‏ وَيَذْكُرُ سُؤَالَهُ رَبَّهُ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ فَيَسْتَحِي، فَيَقُولُ ائْتُوا خَلِيلَ الرَّحْمَنِ‏.‏ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ، ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ‏.‏ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ‏.‏ وَيَذْكُرُ قَتْلَ النَّفْسِ بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيَسْتَحِي مِنْ رَبِّهِ فَيَقُولُ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ، وَكَلِمَةَ اللَّهِ وَرُوحَهُ‏.‏ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ، ائْتُوا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ‏.‏ فَيَأْتُونِي فَأَنْطَلِقُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ ‏{‏لِي‏}‏ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ‏.‏ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَيْهِ، فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي ـ مِثْلَهُ ـ ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ ‏{‏ثُمَّ أَعُودُ الثَّالِثَةَ‏}‏ ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَقُولُ مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلاَّ مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ وَوَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ‏"‏ إِلاَّ مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ ‏"‏‏.‏ يَعْنِي قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏خَالِدِينَ فِيهَا‏}‏‏.‏

    سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نبیﷺ سے بیان فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن ایمان والے لوگ (پریشانی کے عالم میں) جمع ہونگے اور کہیں گے: اگر رب کے ہاں کوئی ہماری سفارش کردے (تو کتنا اچھا ہو) ۔ لہذا وہ آدم u کے پاس آئیں گے اور کہیں گے : آپ سارے لوگوں کے باپ ہیں‘ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا‘ اپنے فرشتوں کو آپ کے آگے سجدہ ریز کر دیا اور آپ کو تمام اشیاءکے نام سکھائے۔ آپ ہمارے لئے اپنے رب کے ہاں سفارش کر دیجئے ۔ تاکہ ہمیں اس پریشانی سے آرام مل جائے۔ وہ فرمائیں گے: میں اس لائق نہیں ہوں۔ وہ اپنے گناہ کو یاد کریں گے اور اﷲ کے سامنے سفارش کرنے سے شرمائیں گے اور کہیں گے: تم جنابِ نوح علیہ السلام کے پاس جاو-وہ سب سے پہلے رسول ہیں‘ جنہیں اﷲ نے زمین والوں کی طرف بھیجا-
    پھر وہ ان کے پاس جائیں گے۔ وہ کہیں گے: میں اس لائق نہیں ہوں۔ وہ بھی اپنا وہ سوال یاد کریں گے جس کا انہیں علم نہیں تھا(جس کاذکر سورت ھود =۱۱: ۶۴‘ ۷۴میں ہے۔) وہ بھی سفارش کرنے سے شرمائیں گے۔وہ کہیں گے: تم خلیل الرحمان (ابراہیم علیہ السلام ) کے پاس جاو۔
    وہ ان کے پاس آئیں گے۔ وہ بھی معذرت کریں گے کہ میں اس لائق نہیں۔ بلکہ تم جناب موسیٰ علیہ الکے پاس جاو۔ وہ (اﷲ کے بڑے پیارے) بندے ہیں‘ اﷲ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمائی اور انہیں تورات عطا فرمائی وہ ان کے پاس جائیں گے وہ بھی معذرت کریں گے کہ میں اس لائق نہیں۔ وہ بغیر نفس کے ایک جان کو قتل کرنے کی غلطی یاد کرکے سفارش کرنے سے شرمائیں گے اور کہیں گے: تم جناب عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاو۔ وہ اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اﷲ کے کلمے اور اس کی روح ہیں۔ ( وہ ان کے پاس بھی آئیں گے۔ مگر وہ بھی ( معذرت کرتے ہوئے) کہیں گے! میں اس لائق نہیں ۔ آپ محمد صلی اللہ علیہ والہ سلم کے پاس جائیں۔ وہ (اﷲ کے اتنے پیارے) بندے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئےے ہیں۔
    وہ میرے پاس آئیں گے۔ میں ان کے ساتھ چل پڑوں گا۔ یہاں تک کہ میں اپنے رب سے سفارش کرنے کی اجازت طلب کروں گا۔ مجھے اجازت مل جائے گی۔ میں اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدے میں گر جاوں گا اﷲ تعالیٰ مجھے ایسے ہی سجدے میں پڑا رہنے دے گا جب تک چاہے گا- پھر مجھے کہا جائے گا: ”اپنا سر اٹھائیے۔ سوال کریں (کیا چاہتے ہیں) ہم دیں گے ۔ کہیے! آپ کا کہا ہوا سنا جائے گا۔ آپ سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔“ میں اپنا سر اٹھاوں گا۔ میں اﷲ تعالیٰ کی ایسے کلمات سے تعریف کروں گا جو اس وقت اﷲ تعالیٰ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا ‘ اﷲ تعالیٰ میرے لئے ایک حد مقرر کرے گا۔ میں اتنے بندوں کو جنت میں داخل کراوں گا۔ میں دوسری دفعہ اﷲ کی طرف جاوں گا۔ اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدہ ریز ہو جاوں گا۔ پھر سفارش کروں گا۔ اﷲ پھر میرے لئے ایک حد مقرر کرے گا کہ اتنے بندوں کی سفارش کرسکتا ہے۔ لھذا میں ان کو بھی جنت میں داخل کراوں گا ۔ پھر میں تیسری دفعہ جاوں گا۔ پھر میں چوتھی دفعہ جاوں گا۔ پھر میں کہوں گا: اب تو (جہنم کی ) آگ میں باقی وہی رہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روک رکھا ہے۔ اور ان پر جہنم میں ہمیشہ رہنا لازم ہوچکا ہے۔
    ابو عبداﷲ امام بخاری رحمة اﷲ علیہ فرماتے ہیں ”جس کو قرآن نے روک رکھا ہے“ کا مطلب ہے ۔ اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ”وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے“۔


    اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم گناہگاروں کی سفارش اللہ کی اجازت سے کریں گے اور آخری اختیار اللہ کے پاس ہی ہے کہ جس کو چاہےبخشے جسے چاہے عذاب دے۔

    اس حدیث سے یہ بات ثابت نہی ہوتی کہ

    "سن عرض میری کملی والے، کوئی کیا سمجے کوئی کیا جانے، سن عرض میری کملی والے"

    "بگڑی بناو مکی مدنی، در پہ بلاو مکی مدنی ۔۔۔۔دکھیا ہوں میں‌بھکاری ہوں،
     
  2. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    اس بات سے کس کو انکار ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کا مدد اور شفاعت کرنا اللہ تعالی کے اذن سے ہی ہوگا مگر کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسی صورت مدد اور شفاعت نہیں فرماسکتے یہ بات آپ نے جو بیان کی قرآنی آیات ان کے خلاف ہے یا نہیں ؟؟؟؟؟
     
  3. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    لیکن روز محشر تمام مخلوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کر رہی ہوگی کہ

    "سن عرض میری کملی والے، کوئی کیا سمجے کوئی کیا جانے، سن عرض میری کملی والے"
    کیونکہ یہ لوگ تمام انبیاء علیہ السلام سے عرض کریں گے کہ ہماری مدد کریں سب انبیاء علیہ السلام فرمائیں گے کہ آج کسی اور کے پاس جاؤ اور جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کریں گے کہ
    "سن عرض میری کملی والے، کوئی کیا سمجے کوئی کیا جانے، سن عرض میری کملی والے"
    تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرمائیں گے کہ ہاں میں اس کام کے لیے ہوں اور پھر جو آپ نے حدیث شریف بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سجدے میں گر کر اللہ تبارک تعالٰی کی حمد بیان کریں گے اور اللہ انھیں شفاعت کا اذن عطاء فرمائے گ
    ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز سورج لوگوں کے بہت قریب آ جائے گا یہاں تک کہ (اس کی تپش کے باعث لوگوں کے) نصف کانوں تک (پسینہ) پہنچ جائے گا لوگ اس حالت میں (پہلے) حضرت آدم علیہ السلام سے مدد مانگنے جائیں گے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، پھر بالآخر (ہر ایک کے انکار پر) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگیں گے۔‘‘ا

    أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الزکاة، باب : مَنْ سأل الناس تَکَثُّرًا، 2 / 536، الرقم : 1405، وابن منده في کتاب الإيمان، 2 / 854، الرقم : 884، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 30، الرقم : 8725، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 269، الرقم : 3509، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 377، الرقم : 3677، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 371، ووثّقه.
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 8, 2010
  4. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
     
  5. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    اصل بات یہ ہے کہ جب آپ یہ تسلیم کرچکے کہ پوجا کرنا اور پکارنا ہم معنی ہے تو پھر یہ بحث ہی ختم ہوجانی چاھئے لیکن اس کے باوجود آپ دیگر موضوع پر اس دھاگہ پر بات کئے جارہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  6. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    959
    جناب عالی، اب میں بتاوں گا کہ بحث اب تک جاری کیوں ہے اور میں نے کیا تسلیم کیا ہے۔ بہتر ہے ذرا دلائل اور بحث کا ایک خلاصہ بیان کر دیا جائے تا کہ سمجھنے میں قدرے آسانی ہو۔ جناب میرا یہاں دلائل دینے کا مقصد آپ کو ہرانا نہیں ہے بلکہ ایک ادنیٰ سی کوشش ہے کہ آپ اپنی حاجات اور مشکلات سچے مشکل کشا،دستگیر، غوث اعظم، داتا، غریب نواز، لجپال، مختار کل، اکیلے عالم الغیب اللہ سے کریں

    لیجئے کچھ نقاط عرض کرتا ہوں:

    1) میں نے اس تھریڈ کی پوسٹ نمبر 2، 5، 8 اور 10 کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ غیر اللہ کو صرف معبود سمجھ کر پکارنا ہی ان کی عبادت نہیں بلکہ اسباب کے بغیر ان کو مدد کے لئے پکارنا بھی ان کی عبادت ہے۔ جبکہ آپ کے نزدیک صرف ان کو معبود سمجھ کر پکارنا ہی ان کی عبادت ہے۔

    2) احمد رضا خان صاحب پر میں نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر پکار کو پوجا کا ترجمہ دیا ہے تا کہ ایک سیدھے سادھے ان پڑھ مسلمان کا ذہن بتوں کی طرف جائے، اللہ کے نیک بندوں کی پکار کو وہ جائز سمجھے۔ اس تھریڈ کی پوسٹ نمبر 12،15، 30 اور 24 کو دیکھیے کہ میں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن نے صرف بتوں کو پکارنے سے منع نہیں کیا بلکہ بندوں کو بھی مشکلات میں پکارنے سے منع کیا ہے۔

    3) پوسٹ نمبر 29 میں میں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد جب صحابہ رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر مشکلات پڑیں یا ان میں اختلافات ہوئے تو انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مشکلات میں‌نہ پکارا


    4) پوسٹ نمبر 31 اور 32 کے ذریعے بھی میں نے یہ بات‌ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مشکلات میں نہیں پکارا جانا چاہیے بلکہ اللہ کو پکارا جانا چاہیے۔

    5) مردوں کے جوتیوں کی چاپ سننے کو ہم بھی مانتے ہیں لیکن جاتے ہوئے اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ قبر پر چڑی آئی ہے یا چڑیا کچھ بعید از قیاس ہے

    6) قیامت کے روز نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفاعت کو ہم مانتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ مقام عطا فرمایا ہے لیکن دنیا کی زندگی میں وہ ہماری پکار نہیں سنتے اور نہ ہی ان سے مدد مانگنا احادیث سے ثابت ہے۔ دیکھیے پوسٹ نمبر 41

    7) شہید اس دنیا میں واپس نہیں‌آسکتے دیکھئیے پوسٹ نمبر 39 اور ہمیں ان کی زندگی کا شعور بھی نہیں


    ---- جاری ہے
     
  7. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    959
    میں ضروری سمجھتا ہوں کہ چند دلائل مذید دے دئیے جائیں باقی ماننا نہ ماننا آپ کی مرضی۔ یاد رکھیے ایک روز ہم نے اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے، نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفاعت کے امیدوار بھی ہیں لیکن کیا نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کبھی غیراللہ سے ویسے ہی امیدیں، تمنائیں لگائیں جیسا کہ ہمارے بریلوی دوست لگاتے ہیں۔

    1) اللہ کی پکار سے چڑ؟؟؟؟ اللہ کی پکار وسوسہ ؟؟؟؟

    غالباً حدیقہ ندیہ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیدی جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالی علیہ دجلہ پر نشریف لائے اور یا اللہ کہتے ہوئے اس پر زمین کی مثل چلنے لگے بعد کو ایک شخص آیا۔ اسے بھی پار جانے کی ضرورت تھی کوئی کشتی اس وقت موجود نہ تھی جب اس نے حضرت کو جاتے دیکھا عرض کی میں کس طرح آوﺅں فرمایا یا جنید یا جنید کہتا چلا آ۔ اس نے یہی کیا اور دریا پر زمین کی طرح چلنے لگا۔ جب بیچ دریا میں پہنچا شیطان لعین نے دل میں وسوسہ ڈالا کہ حضرت خود تو یا اللہ کہیں اور مجھ سے یا جنید کہلواتے ہیں۔ میں بھی یا اللہ کیوں نہ کہوں اس نے یا اللہ کہا اور ساتھ ہی غوطہ کھایا۔ پکارا حضرت میں چلا فرمایا وہی کہہ یا جنید یا جنید جب کہا دریا سے پار ہوا۔عرض کی حضرت یہ کیا بات تھی آپ اللہ کہیں تو پار ہوں اور میں کہوں تو غوطہ کھاوﺅں فرمایا ارے نادان ابھی تو جنید تک تو پہنچا نہیں اللہ تک رسائی کی ہوس ہے اللہ اکبر۔

    بحوالہ: ملفوظات احمد رضا خان بریلوی، صفحہ نمبر 117)

    جناب عالی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ احمد رضا خان صاحب نے اللہ کی پکار کو کس کا وسوسہ قرار دیا ہے ۔ اسی لئے ترجمہ میں تحریف کی ہے جان بوجھ کر


    وہ مشرکین مکہ جب پانی میں پھنس جاتے تھے تو صرف اللہ کو پکارتے تھے ثبوت

    فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ ‌[29-65]
    پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں (ف۱۵۲) اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی عقیدہ لاکر (ف۱۵۳) پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے (ف۱۵۴) جبھی شرک کرنے لگتے ہیں (ف۱۵۵)
    ﴿65﴾

    لیکن ہمارے برصغیر کے لوگ پھر بھی علی کو پکارتے ہیں

    اے مولا علی اے شیر خدا میری کشتی پار لگادینا۔


    جناب عالی، آپ غیر اللہ کو پکارنا چاہتے ہیں تو شوق سے پکارئیے۔ ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے۔ بحث برائے بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ دنیاوی زندگی چند روزہ ہے آخر میں ہم سب کو اللہ کے روبرو حاضر ہونا ہے جو رحمان بھی ہے اور جبار بھی اور بے نیاز بھی ہے۔

    والسلام۔
     
  8. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    پھر تو جو صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پکارتے تھے وہ کیا تھا
     
  9. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    میں یہ مانتا ہوں کہ آپ نے جو آیات قرآنی کوٹ کی ہیں ان میں اللہ کے بندوں اور رسولوں کو عیسائی اور اور یہودی پکارتے ہیں مگر شاید آپ نے اس بات پرغور نہیں کیا کہ عیسائی حضرت عیسٰی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور تین میں سے ایک خدا سمجھ کر پکارتے ہیں اور یہودی حضرت عزیر علیہ السلام کو بھی خدا کا بیٹا سمجھ کر ہی پکارتے ہیں اور مشرکن جنوں کو بھی معبود سمجھ کر ہی پکارتے تھے آپ اس بات پر غور فرمالیں کیونکہ ان لوگوں کا ایسا ماننا ہی شرک ہے اب چاھے یہ پکاریں یہ نا پکاریں اور میں آپ کی باتوں سے یہ سمجھ سکا ہوں کہ ایسا ماننا شرک نہیں بلکہ ایسا مان کر جب پکاریں گے تب شرک ہوگا
    انسان پر سب سے ذیادہ مشکل بروز قیامت ہوگی اس دن لوگ اللہ کے بندوں سے ہی فریاد کریں گے جب کہ اس دن اللہ تبارک تعالٰی اپنی شان کے لائق جلوہ افروز ہوگا
    جب اس دن یہ عمل شرک نہیں ہوگا تو آج کیوں
     
  10. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    ’’حضرت مالک دار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے پھر ایک صحابی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اطہر پر حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ (اﷲ تعالیٰ سے) اپنی امت کے لئے سیرابی مانگیں کیونکہ وہ (قحط سالی کے باعث) ہلاک ہو گئی ہے پھر خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صحابی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : عمر کے پاس جا کر اسے میرا سلام کہو اور اسے بتاؤ کہ تم سیراب کئے جاؤ گے اور عمر سے (یہ بھی) کہہ دو (دین کے دشمن (سامراجی) تمہاری جان لینے کے درپے ہیں) عقلمندی اختیار کرو، عقلمندی اختیار کرو پھر وہ صحابی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں خبر دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا : اے اﷲ! میں کوتاہی نہیں کرتا مگر یہ کہ عاجز ہو جاؤں۔‘‘

    أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 356، الرقم : 32002، والبيهقي في دلائل النبوة، 7 / 47، وابن عبد البر في الاستيعاب، 3 / 1149، والسبکي في شفاء السقام، 1 / 130، والهندي في کنزل العمال، 8 / 431، الرقم : 23535، وابن تيمية : في اقتضاء الصراط المستقيم، 1 / 373، وً ابنُ کَثِيْرٌ في البداية والنهاية، 5 / 167، وَ قَال : إسْنَادُهُ صَحيحَ، والعَسْقلانِيُّ في الإصابة، 3 / 484 وقَال : رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شيبة بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ.
     
  11. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    چڑی والا عقیدہ ابن تیمیہ اور ابن قیم کا بھی ہے یا نہیں آپ نے اب تک جواب عنایت نہیں کیا جو مردہ جوتیوں کی معمولی آواز سن لے کیا وہ دوسری آوازیں نہیں سن سکتا ؟؟؟؟؟؟؟
     
  12. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    جو عمل قیامت کے روز جائز ہے پھر وہی عمل دنیا میں شرک کس طرح سے ہوگا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    آپ یہ کیوں نہیں مان رہے کہ شہید کو زندہ ہوتے ہوئے سپرد خاک ہی کیا جاتا ہے
     
  13. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    میں ایک ادنا سا طالب علم ہوں اور میں نے آپ سے سوال پوچھا تھا کہ اس دھاگہ کے نمبر1 پر

    اور آپ میرے سوال کا جواب عنایت فرما چکے کہ ہاں یہ دونوں جملے مساوی ہیں آپ کا بہت شکریہ
     
  14. محتشم

    محتشم -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جون 4, 2009
    پیغامات:
    24
    بھائی! میرا آپ سے ایک سوال ہے موت اور زندگی میں آپ کے نزدیک کیا فرق ہے؟
    ایک انسان اگر اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لے تو بات سننا محال ہو جاتا ہے جبکہ مرنے کے بعد ایسی کون سی خوبی آجاتی کہ منوں مٹی کے نیچے باتیں سنتا رہے؟
    کچھ اس بات پر غور کریں کہ اگر مردے سن سکتے ہیں تو پھر تو ہمیں قبرستان آبادی وغیرہ سے دور پرسکون جگہوں پر بنانے چاہیئں۔ حالانکہ میں نے تو کئی قبرستان عین مین روڈز کے ساتھ دیکھے ہیں کبھی اس بات کا خیال آپ کو نہیں آیا کہ یہ تو سارا دن ٹریفک کے شور سے ڈسٹرب ہوتے ہوں گے؟
    ایک بات تو اور بھی اذیت ناک لگتی ہے کہ آپ کسی بندے سے بات کرتے رہیں وہ آپ کی بات سنتا رہے لیکن آپ تک اپنا جواب نہ پہنچا پائے۔ یہ تو ایسے ہی ہوا جیسے انسان کسی بت کے آگے اپنی حاجت بیان کر رہا ہو۔
    اگر کوئی بے چارہ گونگا ہو تو؟ پھر تو وہ اس قابل بھی نہیں کہ اپنے مردوں سے گپ شپ کر سکے۔
    ایک اور بات ذہن میں آتی ہے کہ اگر مرنے کے بعد انسان منوں مٹی کے نیچے سے سن سکتا ہے تو کیا دیکھ بھی سکتا ہے؟
    اگر منوں مٹی کے نیچے سے دیکھ بھی سکتا ہے تو پھر یہ معمولی کپڑے کیا چیز ہیں۔ ان کے آر پار بھی دیکھ لیتے ہوں گے؟؟؟؟؟
    اور سب سے اہم بات یہ کہ کوئی پچاس ساٹھ سالہ پرانی قبر اگر کھو کر دیکھیں تو اس کے اندر آپ کیا کنڈیشن پائیں گے؟؟ اس کے علاوہ بڑھتی آبادی اور اموات کے پیش نظر پرانی قبروں کو مسمار کر کے ان کے اوپر دوسری بنا دی جاتی ہیں ایسے میں جو بندہ جائے اسی کا مردہ اس کی بات سنتا ہے یا اس کا روم میٹ بھی؟
    ویسے آس پاس کی قبروں والے بات سن سکتے ہیں یا یہ کوالٹی بھی مل جاتی ہے کہ جس کو سنانا چاہیں وہی سنے۔
    آخری بات یہ کہ انسان اگر سو رہا ہو تو اسے زمانے کی خبر نہیں ہوتی کہ کیا ہو رہا ہے تو موت کو آپ کیا ہلکی پھلکی چیز سمجھتے ہیں؟ امید ہے تسلی بخش جواب عنایت فرما کر ہماری رہنمائی کریں گے۔ شکریہ
     
  15. محتشم

    محتشم -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جون 4, 2009
    پیغامات:
    24
    آپ ایک بات کی بات کرتے ہیں، قیامت کے دن کیا‘ جنت میں جانے کے بعد تو بہت کچھ جائز ہو جائے گا کیا وہ ابھی سے کرنا شروع کر دیں؟؟:00002::00002:
     
  16. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    یہ جو معاملہ ہے یہ جنت میں جانے سے پہلے کا معاملہ ہے یعنی قیامت کے میدان میں تمام مخلوق نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مدد مانگے گی جب کہ اس روز اللہ تعالیٰ اپنی شان کے لائق جلوہ افروز ہوگا
     
  17. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    مردے سن سکتے ہیں یہ میرا ہی نہیں بلکہ ابن تیمیہ ارو ان کے شاگرد ابن قیم کا بھی عقیدہ ہےhttp://www.vblinks.urdumajlis.net/showthread.php?t=10733

    پھر جب نبی اکرم نے فرمادیا کہ مردے جوتوں کی آواز سنتے ہیں تو پھر ہمیں کیوں کہاں کسے کب کرنے کی ضرورت نہیں ہے

    اس تھریڈ میں سلفی بھائی سے صرف یہ ہی معلوم کیا تھا کہ پوجا کرنا اور پکارنا مساوی ہیں یا نہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ مساوی ہیں اس سے میرا مسئلہ حل ہوگیا اس لیے ان کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں
     
  18. bheram

    bheram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏دسمبر 18, 2009
    پیغامات:
    261
    لیکن کیا آپ اس بات سے انکار کریں گے کہ مردہ اس دنیا میں موجود لوگوں کی جوتیوں کی آواز سن لیتا ہے مگر سوتا ہوا انسان یہ آواز نہیں سن سکتا ،

    اس بات سے کیا نتیجہ نکلے گا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  19. محتشم

    محتشم -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جون 4, 2009
    پیغامات:
    24
    اب آپ اپنی اسی بات پر قائم رہیں اور یہ بتائیں کیا ڈائریکٹ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد مانگی جائے گی یا پہلے دوسرے انبیا کے پاس بھی جایا جائے گا؟؟ امید ہے آپ میری بات کا مطلب سمجھ گئے ہوں گے۔
     
  20. محتشم

    محتشم -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جون 4, 2009
    پیغامات:
    24
    آپ نے میری اس بات کا جواب نہیں دیا کہ جب انسان میں زندوں والی ساری خوبیاں ہوتی ہیں تو پھر موت و حیات میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟
    اور مرنا تو انسانیت کے لیے اور مصیبت نہیں ہو جاتا کہ قیامت تک قبر میں بیٹھے خالی دوسروں کی باتیں سنتے رہو۔
    اور جو اولیا ہیں تو وہ کیا سوچتے ہوں گے کہ دین کی خدمت کرنے کا یہ صلہ ملا کہ دن رات ان کی قبروں پر رش لگا رہتا ہے؟ کوئی انسان یہ برداشت کرتا ہے کہ چوبیس گھنٹے اس کے پاس سینکڑوں لوگ موجود رہ کر شور شرابا کرتے رہیں اور وہ بے بس خاموش لیٹا رہے؟؟
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں