غیر اللہ کی عبادت - مباحث

bheram نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جنوری 20, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز سورج لوگوں کے بہت قریب آ جائے گا یہاں تک کہ (اس کی تپش کے باعث لوگوں کے) نصف کانوں تک (پسینہ) پہنچ جائے گا لوگ اس حالت میں (پہلے) حضرت آدم علیہ السلام سے مدد مانگنے جائیں گے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، پھر بالآخر (ہر ایک کے انکار پر) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگیں گے۔‘‘

    أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الزکاة، باب : مَنْ سأل الناس تَکَثُّرًا، 2 / 536، الرقم : 1405، وابن منده في کتاب الإيمان، 2 / 854، الرقم : 884، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 30، الرقم : 8725، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 269، الرقم : 3509، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 377، الرقم : 3677، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 371، ووثّقه.

    ڈاکٹر محمد طاہرالقادری : المنہاج السوی من الحدیث النبوی
     
  2. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    خرم صاحب!
    چلیں آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن سب کی مدد کریں گے تو وہ اس وقت زندہ ہونگے نہ کہ فوت شدہ۔
    آپ لوگ تو وفات پائے ہوئے نبی سے مدد طلب کرتے ہو، قبر والے سے مدد طلب کرتے ہو یہاں تک کہ کسی قبر میں کتا یا گھوڑا دفن ہوا ہوتا ہے تو برس ہا برس اس کے عرس کرتے ہو اور اس سے مدد طلب کرتے ہو۔
    اللہ ہی آپ لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین
    ویسے مِن دون اللہ سے مراد صرف بت نہیں ہیں بلکہ وہ انسان بھی ہیں جنیں آپ لوگ مرنے کے بعد پکارتے ہو اور مشرک بن جاتے ہو۔
    کیا (من دون اللہ) سے مراد صرف بت ہیں؟ - URDU MAJLIS FORUM
    والسلام علیکم
     
  3. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    اسلام علیکم

    محترم بھائی شاید آپ نے غور نہیں فرمایا کی میں نے صرف حدیث شریف ہی آپ کی خدمت میں پیش کی ہے اپنی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں لکھا مگر اس پر آپ یہ فرما رہے ہیں کہ " چلیں آپ کی بات مان بھی لی جائے " آپ سے عرض ہے کہ آپ میری بات نہ مانیں مگر آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ آپ صرف آللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات ہی مانتے ہو تو پھر اپنے دعوے کے برخلاف اس حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو میری بات کہہ کر رد کیوں فرمارہے ہیں

    ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز سورج لوگوں کے بہت قریب آ جائے گا یہاں تک کہ (اس کی تپش کے باعث لوگوں کے) نصف کانوں تک (پسینہ) پہنچ جائے گا لوگ اس حالت میں (پہلے) حضرت آدم علیہ السلام سے مدد مانگنے جائیں گے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، پھر بالآخر (ہر ایک کے انکار پر) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگیں گے۔‘‘

    أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الزکاة، باب : مَنْ سأل الناس تَکَثُّرًا، 2 / 536، الرقم : 1405، وابن منده في کتاب الإيمان، 2 / 854، الرقم : 884، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 30، الرقم : 8725، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 269، الرقم : 3509، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 377، الرقم : 3677، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 371، ووثّقه.

    ڈاکٹر محمد طاہرالقادری : المنہاج السوی من الحدیث النبوی
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں