پاکستان، دارالاسلام ؟

عائشہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏مارچ 9, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    سوال : دارالاسلام کی کیا تعریف ہے ؟ کیا اس وقت پاکستان دارالاسلام ہے ؟

    جواب: دارالاسلام اس سر زمین کو کہتے ہیں جہاں قرآن وحدیث کے قوانین نافذ ہوں اور چونکہ پاکستان اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ یہاں اسلامی قوانین نافذ ہوں ، اور پاکستان بننے کے بعد قرار دادِ مقاصد منظور کر کے اسے بنیادی طور پر دارالاسلام بنا دیا گیا تھا ، جس طرح ایک زمین کو خرید کر برائے مسجد وقف کر دیا جاتا ہے ۔ اگر بعد میں آنے والے اس کو سجدہ وعبادت کے لائق نہیں بناتے تو اس میں مسجد کی بنیاد کا کوئی قصور نہیں ۔جیسا کہ اہل مکہ نے بیت اللہ پر تین سو سے زائد بت نصب کر دیئے تھے ۔

    بہر حال پاکستان بنیادی طور پر دارالاسلام بھی ہے اور دارالمسلمین بھی ہے کیوں کہ اس کے باشندے مسلمان ہیں ۔ عملی طور پر دارالاسلام اس وقت بنے گا جب اس میں قرار دادِ مقاصد کے مطابق خالص اسلامی قوانین نافذ کیے جائیں گے ۔

    فتوی از علامہ ابوالبرکات احمد ، تصدیق : حافظ محمد گوندلوی رحمہم اللہ ، اقتباس از : فتاوی برکاتیہ ، تالیف ونشر : محمد یحیی طاھر ،جامعہ اسلامیہ گلشن آباد گوجرانوالہ، جنوری 1989 ء ۔
     
  2. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
  3. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    سسٹر یہ بات تو صحیح ہے کہ اس کی بنیاد تو کلمہ توحید پر رکھی گیئ تھی یہ نعرہ کے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا للہ لیکن 1947 سے لے کر آج تک کبھی بھی یہ ثابت نہی‌ ہوسکی کہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے کہونکہ اس ملک پر جب بھی کوئی حکمران آیا تو اُس نے آتے ہی اس ملک کو شرکستان بنانے کی کوشش کی۔۔۔آپ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کے اگر ہم کلمہ پڑھ لیں اور اُس کے بعد شرک کرتے پھرین تو کیا کلمہ ہم کو کوئی فایدہ دے گا ہرگز نیں ہم اگر شرک کریں‌گے تو کلم پرھیں یا نہ پڑھین مشرک ہی کھلایین گے۔ ہائے افسوس کہ کلمہ توحید کی بنیاد پر حاصل کییے جانے والا ملک میں شرک و بدعات کی سونامی آئی ہوئی ہے۔اگر آپ یہ کہین‌کے میری اس بات میں‌ صداقت نہین تو آپ علامہ احسان رحمۃ اللہ کو لے لیں اُنھون نے یہان کلمہ توحید کی دعوت کو عام کیا لیکن آج اُ ن کی کتابوں پر بھی پابندی ہے مجھے بتائیے کیا وہ تورات پڑھاتے تھے یا انجیل لکھی تھی۔۔۔۔یا زبور کا درس دیتے تھے۔۔۔۔ افسوس صد افسوس۔۔۔۔۔یہان نعتوں‌ کا نام لے کر ڈانس کرنے والے ہیجڑوں کو تو آزادی ہے ۔۔۔لکین قرآن و سنت کی آواز کو دبایا جاتا ہے ۔پھر بھی آپ اس ملک کو دارالسام کہین تو as you wish بس میں‌صرف یہی کہوں‌گا کہ اللہ ہمارا یہ ملک جو کلمہ توحید کی بنیاد پر حاصل کیا گیا اور 27 رمضان المبارک کو وحدہ لا شریک کی تمام نعمتوں‌سے افضل نعمت جو تو نے عطا کیا اس کو قرآن و سنت کا گہوارا بنادے میرے مالک تیرے لییے یہ کوئی مشکل نہیں‌۔۔۔۔آمین

    سسٹر میر ی بات کا برا لگا ہو تو معزرت
     
  4. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,333
    اگر بعد میں آنے والے اس کو سجدہ وعبادت کے لائق نہیں بناتے تو اس میں مسجد کی بنیاد کا کوئی قصور نہیں ۔

    بالکل درست
     
  5. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم
    اصل مراسلہ ایک علمی نوعیت کے بات ہے، آپکی باتیں‌درست۔
    جب عملی طور ر واقعی وہ کچھ حاصل ہوجائے گا جس ک لئے پاکستان حاصل کیا گیا تھا، تب پاکستان دارالاسلام نہ کہلائے اسکا کوئی جواز نہیں۔
    لیکن فی الوقت کے حالات کے لحاظ سے جہاں کے حکمراںوں کے لئےقران و ست، انکے ذہنوں‌کی بنیاد نہ رہا ہو ، تب یہ "تھیوریٹیکل قرار پاسکتا ہے (کنڈیشنل)، اور اگر عملی طور پر قران و سنت کے مطابق سارا ڈھانچہ بن جائے تب پراکٹیکل بھی دارالاسلام بن جائے۔
     
  6. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,637
    بھائی آپ کی بات کا جواب تو اس بات میں بالکل واضح ہے۔۔۔

    Muhammad zahid bin faiz بھائی، آپ کی بات 100 فیصد درست ہے کہ جو بھی حکمران آئے انہوں نے اسے دارالسلام بنانے کی بچائے دارلکفر ہی بنایا، لیکن یہ بھی تو دیکھو یہاں وہ لوگ بھی تو ہییں جو دن رات اسے اسلام کا قلعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرجہ وہ تعداد میں تھوڑے ہی صحیح، لیکن اس سب میں "پاکستان" کا تو کوئی قصور نہیں ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    خیر دارالکفر کہنا تو مبالغہ ہے ، بلکہ بہت ہی مبالغہ ہے ۔۔۔ نعمت کی قدر کرنی چاہئیے ۔ الحمدللہ پاکستان بہت سے ملکوں سے بہتر ہے ۔ ہاں نظریاتی طور پر جتنا اچھا ہم چاہتے ہیں ابھی نہیں ہوا ۔ ہم جی جان سے کوشش کریں گے تو ہو جائے گا ان شاء اللہ ۔
    اللہ نہ کرے کہ ہم کبھی کسی دارالکفر میں رہنے کی آزمائش میں مبتلا ہوں ۔ جب آپ اذان دے سکیں ، نہ نماز پڑھ سکیں، نہ قرآن کی بلند آواز میں تلاوت کر سکیں ۔گھر میں بھی جان مال محفوظ نہ ہو ۔
    ایک چائنیز دوست یاد آگئی ۔ بیچارے بیسمنٹ میں چھپ کر باری باری نماز ادا کرتے تھے ۔ قرآن مجید کا کوئی نسخہ برآمد ہونا جرم تھا ۔ اور اس کے خاندان کا واحد قرآن بوڑھی دادی کا تھا ۔
    وہ پاکستان کو ہم سے زیادہ چاہتی تھی ۔ اس کا خیال تھا کہ ہمیں احساس ہی نہیں کہ ہم کس مزے میں ہیں ۔ اور صرف وہی کیا ، اس کے بعد بہت سی غیر ملکی ساتھیوں سے میں نے یہی سنا ۔
    ناقدری کرنے سے نعمتیں چھننے لگتی ہیں ۔ہم جو پاکستان کی نعمت کی ناقدری ہر وقت کرتے رہتے ہیں کہیں اسی وجہ سے تو آج ہمارا یہ حال نہیں ۔
     
  8. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067

    مسلمان ہونےجیسی نعمت عظیم کی ہم کب پوری طرح قدر کرتے ہیں۔!؟
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    محترم بھائی ۔ میرے خیال میں آپ نے اصل مراسلے کا مطالعہ بغور نہیں کیا ۔ یہ میری ذاتی تحریر نہیں ، بلکہ حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کا تصدیق کردہ فتوی ہے۔ امید ہے ان کے نام اور مقام سے واقف ہوں گے ۔

    جوش اچھی چیز ہے، مگر اعتدال کے ساتھ ۔ خصوصا کسی کی مدح و ذم میں اعتدال ملحوظ رکھنا چاہئیے ۔

     
  10. رانا ابو بجاش

    رانا ابو بجاش ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 15, 2009
    پیغامات:
    80
    ایک بات قابل توجہ ہے دارالاسلام کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہاں قرآن و حدیث کے قوانین نافذ یوں- سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں قرآن و حدیث کے قوانین نافذ ہیں؟اگر نہیں تو پھر اسے دارالاسلام کیسے کہا جا سکتا ہے؟رہی مسجد کی مثال تو اس ضمن میں یہ نکتہ بھی لائق غور ہے کہ اگر کوئی مسجد بننے سے پہلے اس جگہ پر قابض ہو جائے اور بجائے مسجد کے وہاں کوئی کلب بنا دے تو کیا پھر بھی یہی کہا جائے گا کہ اس میں مسجد کی بنیاد کا کوئی قصور نہیں!!یہ انتہائی عجیب سی بات ہے جو باوجود کوشش کے فہم و فکر کی گرفت میں نہیں آسکی-اصل مسئلہ زمین کا نہیں اس پر نافذ شدہ قوانین کا ہے-حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی خطہ مکمل معنوں میں دارالاسلام نہیں ہے-البتہ پاکستان کو دارالکفر کے بجائے شیخ الاسلام ابن تیمیۃ کی اصطلاح میں دارالمرکبۃ کہنا چاہئے-واللہ اعلم- اس سے شیخین کریمین امام محمد گوندلوی اور علامہ ابو البرکات رحمہما اللہ کی تغلیط مقصود نہیں معاذ اللہ محض مسئلہ کے ایک رخ کو نظروبصر کے سامنے لانا پیش نظر ہے-خداوند قدوس ہمیں فکروعقیدہ کی گمراہیوں سے محفوظ رکھے-آمین یا رب العالمین-

    ہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ علامہ ابوالبرکات رحمہ اللہ نے اس سرزمین کو دارالاسلام قرار دیا ہے جہاں قرآن وحدیث کے قوانین نافذ ہوں ۔سوال یہ ہے کہ کیا پاکستا ن میں قرآن وحدیث کے قوانین نافذ ہیں؟ اگر نہیں تو اسے دارالاسلام کیونکر کہا جاسکتا ہے ؟جہاں تک مسجد کی مثال کا تعلق ہے تو اس باب میں یہ نکتہ بھی لائق غور ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد کےلیے وقف شدہ جگہ پر قبضہ کرکے بجائے مسجد کے کوئی اور عمارت قائم کردے تو کیا پھربھی یہی کہا جائے گا کہ اس میں مسجد کی بنیاد کا کیا قصور ؟یہ بات انتہائی عجیب ہے جو باوجود انتہائی کوشش کے فہم وفکر کی گرفت میں نہیں آسکی ۔اصل مسئلہ سرزمین کا نہیں بلکہ اس پر نافذ شدہ قوانین کا ہے ۔حقیقت کے اعتبارسے اس وقت پوری دنیا میں کوئی خطہ بھی صحیح معنوں میں دارالاسلام نہیں ہے البتہ پاکستا ن کو دارالکفر کہنے کے بجائے شیخ الاسلام ابن تیمیہ علیہ الرحمۃ کی اصطلاح میں دارالمرکبہ کہنا چاہیے ۔
    واللہ اعلم۔واضح رہے کہ اس سے شیخین کریمین امام محمد گوندلوی اور علامہ ابوالبرکات رحمہمااللہ کی تغلیط مقصود نہیں معاذاللہ بلکہ محض مسئلہ کا ایک رخ نظر وبصر کے سامنے لانا پیش نگاہ ہے ۔خداوند قدوس ہمیں اربابِ علم کی حقیقی قدردانی کی توفیق مرحمت فرمائے نیز فکروعقیدہ اور کردار و عمل کی لغزشوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

    یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ علامہ ابوالبرکاتؒ نے اس سرزمین کو دارالاسلام قرار دیا ہے جہاں قرآن وحدیث کے قوانین نافذ ہوں ۔سوال یہ ہے کہ کیا پاکستا ن میں قرآن وحدیث کے قوانین نافذ ہیں؟ اگر نہیں تو اسے دارالاسلام کیونکر کہا جاسکتا ہے ؟جہاں تک مسجد کی مثال کا تعلق ہے تو اس باب میں یہ نکتہ بھی لائق غور ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد کےلیے وقف شدہ جگہ پر قبضہ کرکے بجائے مسجد کے کوئی اور عمارت قائم کردے تو کیا پھربھی یہی کہا جائے گا کہ اس میں مسجد کی بنیاد کا کیا قصور ؟یہ بات انتہائی عجیب ہے جو باوجود انتہائی کوشش کے فہم وفکر کی گرفت میں نہیں آسکی ۔اصل مسئلہ سرزمین کا نہیں اس پر نافذ شدہ قوانین کا ہے ۔حقیقت کے اعتبارسے اس وقت پوری دنیا میں کوئی خطہ بھی صحیح معنوں میں دارالاسلام نہیں ہے البتہ پاکستا ن کو دارالکفر کہنے کے بجائے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی اصطلاح میں دارالمرکبہ کہنا چاہیے ۔
    واللہ اعلم۔واضح رہے کہ اس سے شیخین کریمین امام محمد گوندلوی اور علامہ ابوالبرکات کی تغلیط مقصود نہیں معاذاللہ بلکہ محض مسئلہ کا ایک رخ نظر وبصر کے سامنے لانا پیش نگاہ ہے ۔خداوند قدوس ہمیں اربابِ علم کی حقیقی قدردانی کی توفیق مرحمت فرمائے نیز فکروعقیدہ اور کردار و عمل کی لغزشوں سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

    تنبيہ : محترم رانا ابو بجاش صاحب ايك ہی پوسٹ تين تين بار دہرانے سے اجتناب كريں، پوسٹس يكجا كى گئیں _________ از انتظاميہ اردو مجلس
     
  11. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    دار الاسلام حقیقی کی تعریف:

    اس ملک کو کہتے ہیں جہاں دستوری طور پر اسلامی قوانین اور اسلامی احکام نافذ ہوں، اور اس ملک کے قائدین وحکام مسلمان ہوں۔ امام ابن القیم الجوزی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: دارالاسلام ہی التی نزلہا المسلمون وجرت علیہا احکام الاسلام. (احکام اہل الذمہ:ج۲،ص ۷۲۸)

    جہاں‌تک مجھے معلوم ہے اس ملک کو صرف دارالفسق کہہ سکتے ہیں یا پھر دارالسلام حکمی کیوں‌کہ حکمران مسلمان ہیں‌اور مسلمانوں‌کو نماز، روزہ، حج، زکاتہ اور دوسرے اعمال بجا لانے کی اجازت ہے۔ مگر یہاں‌حکم یا تو کفار کا ہے یا پھر اپنے نفس کی بات مانی جا رہی ہے۔

    اگر بہن نور العین صرف اس وجہ سے پاکستان سے محبت کرتی ہیں‌ کہ یہ نماز، روزے اور قرآن کریم پڑھنے کی اجازت دیتا ہے تو پھر انڈیا بھی یہ سب اجازت دیتا ہے پھر کیوں اہل حدیثوں کا ایک طبقہ ان کی جان کے پیچھے پڑھا ہوا ہے؟؟؟

    بے شک وہ تو دارالکفر ہے مگر میں‌صرف اس لیے آپ کو بتا رہا ہوں صرف اس بنیاد پر کوئی دار السلام نہیں‌ کہ وہ نماز کی اجازت اور قرآن پڑھنے پر خاموش رہے!!

    اور یہاں‌کے حکمران شرک وبدعات کی ترویج میں‌ساتھ دیتے ہیں‌!! پھر بھی آپ اس کو دارالسلام کہلوانے پر مضر ہیں‌۔
     
  12. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    اگر پاکستان دارالسلام ہی ہے جیسے دارالسلام ہونے کی شرائط ہیں تو وہ ان شرائط پر پوری ہی نہیں اترتا۔
    اور اگر کوئی اس کو داراسلام کہنے پر ہی تلا ہوا ہے تو میرے لیے برطانیہ بھی دارالسلام ہے۔
    والسلام علیکم
     
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496



    جزاكم اللہ خيرا وبارك في علمكم وعملكم ،

    اس بات ميں كوئى شك نہیں كہ پاکستان مكمل اسلامى قوانين نافذ نہیں مگر یہ بھی حقيقت ہے کہ پاکستان كے سارے قوانين وضعى بھی نہیں ! اسى ليے اسے "دار الكفر حكمى" كہنا بھی ممكن نہیں، بلكہ اس كے آئين ميں صراحت كے ساتھ مرقوم ہے كہ قرآن وسنت كے منافى كوئى قانون بنايا نہیں جائےگا اور جو پہلے سے موجود قوانين قرآن وسنت كے منافى ہوں انہیں قرآن وسنت كے مطابق بنايا جائے گا يہی وجہ ہے كہ علامہ ابو البركات احمد (رحمہ اللہ) نے وضاحت سے لكھا ہے کہ
    اور مزيد وضاحت سے فرمايا :
    مفتى ابو البركات رحمہ اللہ كا فتوى بالكل واضح ہے ، اور حافظ محدث گوندلوی رحمہ اللہ جیسے صاحبِ بصيرت عالم دين كى تصديق كوئى معمولى بات نہیں ، شيخ گوندلوی رحمہ اللہ نے سياسى لحاظ سے بڑا ہنگامہ خيز دور ديكھا تھا اور ان كا شمار ان علمائے دين ميں كيا جاتا ہے جو دين كے ساتھ ساتھ سياسيات ميں بھی بصيرت رکھتے تھے ۔ غفراللہ لھما وأسكنھما الفردوس الأعلى ۔

    جو لوگ پاكستان كو معاصى كى كثرت كى بنا پر دار الكفر وغيرہ کہتے ہیں وہ ايك واضح علمى غلطى كا شكار ہیں ( واضح رہے کہ مستند علماء ميں سے كوئى ايسا نہیں کہتا ) اس كے متعلق علامہ شوكانى رحمہ اللہ نے نيل الأوطار ميں لکھا ہے :
    [qh]وإلحاق دار الإسلام بدار الكفر بمجرد وقوع المعاصي فيها على وجه الظهور ليس بمناسب لعلم الرواية ولا لعلم الدراية .[/qh]ج8، ص 125۔
    ترجمہ: "اور دار الاسلام كو دار الكفر صرف اس سبب سے كہنا كہ وہاں معاصى ( اللہ كى نا فرمانى ) ظاہر ہو گئی ہے ، مناسب نہیں نہ تو علم روايت كى رو سے اور نہ ہی علم درايت كى رو سے ۔ "
    نيل الاوطار :كتاب الجھاد والسير، باب بقاء الهجرة من دار الحرب إلى دار الإسلام وأن لا هجرة من دار أسلم أهلها ج 8، ص 125،

    رہا آپ كا يہ فرمان كہ :
    يہ بہت عجيب بات ہے ، امام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے ايسا ماردين كے متعلق فرمايا تھا جس كے باشندے مسلمان تھے اور اس پر تاتاريوں نے قبضہ كر ليا تھا ۔ گویا دار المركبہ كى تعريف يہ ہے كہ جس ميں مسلمان رہتے ہوں مگر حكومت كفار كى ہو ۔ كيا واقعى پاکستان ايسا ہے ؟ الحمد للہ ابھی پاکستان پر كفار كا قبضہ نہیں ہوا ۔

    جب كہ اگلے ہی جملے ميں آپ فرماتے ہیں:


    ميرا خيال ہے جس بات پر آپ معاذ اللہ کہہ کر اللہ كى پناہ طلب كر رہے ہیں يعنى شيخين كى تغليط ، وہ تو آپ نے كر دى ، پاكستان كو دار المركبہ کہہ کر ۔ كيا اس سے پاكستان كے حكمرانوں كى تكفير بھی لازم نہیں آتى ؟ پھر اس كو دار المركبہ کہہ كر آپ اس کے باشندوں پر ہجرت واجب كر رہے ہیں ؟

    اللہ تعالى ہمیں فكر كی گہرائى عطا فرمائے ۔

    فتوى ماردين كى نص حاضر ہے ذرا غور فرمائيے:
    [qh]
    الحمد لله، دماء المسلمين وأموالهم محرمة حيث كانوا في" ماردين "أو غيرها. وإعانة الخارجين عن شريعة دين الإسلام محرمةٌ سواءٌ كانوا أهل ماردين أو غيرهم. والمقيم بها إن كان عاجزًا عن إقامة دينه وجبت الهجرة عليه. وإلا استحبت ولم تجب. ومساعدتهم لعدو المسلمين بالأنفس والأموال محرمة عليهم ويجب عليهم الامتناع من ذلك بأي طريقٍ أمكنهم من تغيبٍ أو تعريضٍ أو مصانعةٍ؛ فإذا لم يمكن إلا بالهجرة تعينت.ولا يحلّ سبهم عمومًا ورميهم بالنفاق؛ بل السبّ والرمي بالنفاق يقع على الصفات المذكورة في الكتاب والسنة فيدخل فيها بعض أهل ماردين وغيرهم.

    وأما كونها دارَ حربٍ أو سلمٍ فهي مركبةٌ: فيها المعنيان؛ ليست بمنزلة دار السلم التي تجري عليها أحكام الإسلام؛ لكون جندها مسلمين؛ولا بمنزلة دار الحرب التي أهلها كفارٌ؛ بل هي قسمٌ ثالثٌ يعامل المسلم فيها بما يستحقه ويقاتل الخارج عن شريعة الإسلام بما يستحقه.[/qh]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    چلیے الحمد للہ كم از كم شركستان كى تكرار تو ختم ہوئی ، اب يہ فرمائيے آپ دار الاسلام اور دارالسلام كا فرق سمجھتے ہیں یا نہیں ؟ یہاں كسى دارالاسلام كى بات ہو رہی تھی نہ كہ دارالسلام كى ۔خير خواہی کے جذبے كے تحت گزارش ہے کہ دار الاسلام حكمى كى تعريف پر ايك بار پھر غور كريں ۔ اور ايك عرض يہ بھی ہے کہ ايك ادنى طالبہ علم ہونے كے ناطے ميں مولانا ابو البركات احمد اور حضرت حافظ محمد گوندلوی رحمہما اللہ كے فتوى پر بحث كرنے كى جرات نہیں رکھتی كيونكہ ميں منصب افتاء پر فائز نہیں ۔ آپ جو جی چاہے فرمائيے، اپنی علمى قابليت سے خوب باخبر ہوں گے ۔اور یاد ركھیے روزِ محشر لكھے بولے كا حساب دينا ہے !

    ميرى جس پوسٹ كا حوالہ ديا گیا ہے اس ميں پاکستان کو دار الكفر كہنے سے روكا گیا ہے ۔۔۔۔
    اور علمى لحاظ سے اس موقف كو كوئى غلط نہیں كہہ سكتا ۔ میں پوری ديانت دارى سے اس موقف پر قائم ہوں کہ پاکستان دار الكفر نہیں ہے اور اس كو دار الكفر كہنا بہت زيادہ مبالغہ ہے ۔ اس پر دار الكفر كى تعريف كا كسى صورت اطلاق نہیں ہو سکتا ۔ جو ايسا كہتا ہے وہ فتوى لے آئے جس ميں پاکستان كو دارالكفر كہا گیا ہو ؟ ( تاہم مجھے يقين ہے شركستان كے فتوے كى طرح اس كا بھی انتظار ہی رہے گا۔ )

    پاکستان پر نہ تو دار الكفر كى تعريف كا اطلاق ہو سكتا ہے نہ ہی دار الكفر حكمى كى تعريف كا ، جو لوگ اللہ كے دين ميں بغير علم كے بول كر فتنہ پھیلاتے ہیں انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے دين كوئى مذاق نہیں ، قرآن كريم میں ارشاد ہے :
    [qh]
    قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ [/qh] سورت اعراف ، آيت نمبر 33

    اس آيت ميں چار باتوں كو حرام کہا گیا ہے :

    1_[qh]الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ[/qh]
    2_[qh]وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ [/qh]
    3_[qh]وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا[/qh]
    4_ [qh]وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ[/qh]

    آخرى چوتھی حرام بات ہے تقوّل على اللہ ، اللہ کے بارے ميں علم كے بغير بات كرنا ، خواہ وہ ذات وصفات الہیہ سے متعلق ہو يا دين وشريعت سے متعلق !!!

    اتنے اہم اور نازك دينى معاملات پر لاپروائی سے جذباتى باتيں كر کے علماء كے فتاوى كو غلط قرار دینے والے دين كى كوئى خدمت نہیں كر رہے جب كہ وہ خود مفتى وعالم تو دركنار دين كے كالب علم بھی نہیں ۔كيا تعجب كى بات نہیں کہ آپ آپریشن كے ليے ماہر سرجن كى خدمات حاصل كرنے كى بجائے كسى كمپاؤنڈر كے ہاتھ ميں آلات جراحى تھما كر خوش ہوں ۔ اللہ سے ڈرئیے دينى معاملات ميں ذمہ دراى كا مظاہرہ كيجيے ۔

    آخرى بات يہ کہ دين كى خاطر پاکستان سے يا كسى بھی وطن سے محبت كوئى جرم نہیں، اگر اس وجہ سے كوئى ميرى ذات كو تنقيد كا نشانہ بناتا ہے تو مطلق پرواہ نہیں ۔ الحمد للہ ہم پاکستان سے صرف اللہ كے دين كى خاطر محبت ركھتے ہیں، اس وطن كو ہمارے آباء واجداد نے بہت قربانیوں اور رياضتوں سے حاصل كيا تھا ، جب تك ہمارے بس ميں ہے ہم اس ميں دين اسلام كى تبليغ اور اسلام كے نفاذ كے ليے جى جان سے كوششيں كريں گے جس دن اس پر كفر كا نظام غلبہ پا گیا اور يہ مكمل دار الكفر اور دار الحرب بن گیا اس روز كسى قريبى دار السلام كو ہجرت كر جائيں گے ۔ وارض اللہ واسعہ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  15. رانا ابو بجاش

    رانا ابو بجاش ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 15, 2009
    پیغامات:
    80
    میں ذرا مصروف ہوں۔ عنقریب اپنی معلومات پیش کروں گا۔سیدھے سادے مسئلہ کو الجھایا جارہا ہے۔
     
  16. رانا ابو بجاش

    رانا ابو بجاش ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 15, 2009
    پیغامات:
    80
  17. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    [QH]
    العنوان دار الحرب
    المجيب خالد بن عبد الله البشر
    عضو هيئة التدريس بجامعة الملك سعود
    التاريخ الثلاثاء 09 صفر 1425 الموافق 30 مارس 2004
    أريد أن أعرف شيئاً عن أحكام دار الحرب، وما هي بعض الكتب التي فصلت في هذا الأمر؟ وهل تعتبر أمريكا دار حرب؟. جزاكم الله خيراً.
    الجواب

    الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على رسول الله، وبعد:
    وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته.
    قبل البدء لا بد من تأسيس أصلين يقوم عليهما الجواب :
    الأول : أن وصف ( الإسلام ) من جهة و( الكفر) من جهة أخرى أوصاف شرعية اختص الله بحكمها، دون غيره من خلقه، فليس لأحد من الناس أن يدخل في ( الإسلام ) إلاّ من أدخله الله، ولا يخرجه منه إلاّ من أخرجه الله. وكذلك الكفر لا يَدخلُ فيه إلاَّ من أدخله الله.وإذا كان هذا في الأشخاص، فكذلك في الأراضي والبقاع، فإما (دار إسلام)، وإما (دار كفر)، و لا دار غيرهما كما نصَّ عليه الفقهاء ( أحكام أهل الذمة لابن القيم (1/366) ( الآداب الشرعية لابن مفلح 1/190).فإذا تقرر ذلك فليس لأحد من الناس أن يُنزِّل أحد الحُكْمين ( الإسلام ) أو ( الكفر ) على شخص أو أرض إلاَّ إذا توفرت شروطهما، وانتفت موانعهما ( أي الإسلام أو الكفر).
    الثاني: أن أحكام سياسة الأمة وتدبيرها في شؤونها الداخلية والخارجية، كإعلان الجهاد وإبرام المعاهدات، المخاطب في ذلك هم : أولو أمر المسلمين من : العلماء والأمراء، وليس لآحادهم، فاعتبار تلك البقعة ( دار إسلام ) أو ( دار كفر) يقضي به أولو أمر المسلمين وليس لآحادهم.
    ومصطلح (الدار) مصطلح إسلامي يقابله في الوقت الحاضر مصطلح (الدولة ).وكانت مكة قبل فتح النبي صلى عليه وسلم (دار كفر)، والمدينة بعد هجرته صلى الله عليه وسلم ( دار إسلام ) وقال تعالى :" والذين تبوؤا الدار والإيمان ..." الآية. والدار أي: المدينة.أما تعريف دار الإسلام عند عامة الفقهاء فهي : البلاد التي تكون فيها الغلبة والسلطة للحاكم المسلم، وتظهر فيها أحكام الإسلام في الحاكم والمحكومين، بغض النظر عن أكثرية سكانها.
    ودار الكفر : هي البلاد التي تكون فيها الغلبة والسلطة للحاكم الكافر، وتظهر فيها أحكام الكفر في الحاكم والمحكومين، بغض النظر عن أكثرية سكانها.و( دار الكفر) و ( دار الحرب ) عند الفقهاء بمعنى واحد، أما كونها ( دار كفر ) فلأن الغلبة والسلطة للكافر. وأما كونها ( دار حرب ) فهو بالنسبة لمآلها، وتوقع الحرب منها ، حتى ولولم تكن هناك حرب فعلية مع ( دار الإسلام ). وهذا الأصل في ( دار الكفر ) أنها ( دار حرب ) ما لم ترتبط مع دار الإسلام بعهود ومواثيق؛ فإن ارتبطت فتصبح بعد ذلك (دار كفر معاهدة)، وهذه العهود والمواثيق لا تُغيِّر من حقيقة دار الكفر.ويحسن التنبيه ههنا : أن تعريف (دار الكفر) هو للدار الأصلية التي لم يسبقها إسلام، وليست المتحولة من (دار الإسلام)، فلينتبه له!.
    أما أمريكا هل هي ( دار حرب أم لا ) ؟ الجواب : تأسيساً على ما سبق فالجواب فيه تفصيل :
    أما بالنسبة لمن دخلها من المسلمين بتأشيرة دخول (الفيزا) فهذا عهد وميثاق يجب الوفاء به، ولا يحل لأحد دخلها من المسلمين أن ينقض العهد والميثاق حتى ولو كانت دولة الداخل إليها في حرب معها؛ قال الله تعالى:" وأوفوا بالعهد إن العهد كان مسؤلا " الإسراء: آية 34.-
    أما الدول الإسلامية التي دخلت في عهود ومواثيق مع أمريكا، تتضمن عدم الاعتداء من الطرفين؛ فيجب الوفاء بها، وهذه العهود والمواثيق لا تُغيّر من حقيقة (دار الكفر) من حيث الأحكام المتعلقة بها من : وجوب الهجرة منها، وحرمة البقاء فيها لغير ما ضرورة تستوجب ذلك من : الدعوة إلى الله، وتعلم علمٍ يحتاج إليه المسلمون، أو تطبب لا يُنال في بلاد الإسلام... وغيرها من الضرورات.
    وأنبه إلى أن اختلاف الدارين ( دار الإسلام ودار الكفر ) لا يُغيّر من أحكام الله شيئاً فما كان محرماً في دار الإسلام: كالأنفس والأعراض والأموال المعصومة بالإسلام أو العهد والمحرمات : الربا والزنى والسرقة... وغيرها من المحرمات فهو محرم في دار الكفر قال الشافعي – رحمه الله -: " ومما يوافق التنزيل والسنة، ويعقله المسلمون، ويجتمعون عليه : أن الحلال في دار الإسلام حلال في بلاد الكفر، والحرام في بلاد الإسلام حرام في بلاد الكفر، فمن أصاب حراماً فقد حدَّه الله على ما شاء ، ولا تضع عنه بلاد الكفر شيئاً ". (الأم 4/165).وقال أيضاً :" لا فرق بين دار الحرب ودار الإسلام فيما أوجبه الله على خلقه من الحدود ".(الأم 7/354).وقال الشوكاني – رحمه الله -: " إن دار الحرب ليست ناسخة للأحكام الشرعية أو بعضها ". (السيل الجرار 4/552)وأما الكتب التي تناولت هذا الموضوع فمنها : ( مجموعة بحوث ) للدكتور عبدالكريم زيدان، و(اختلاف الدارين ) لإسماعيل فطاني، و( الاستعانة بغير المسلمين ) للدكتور عبدالله الطريقي، و( تقسيم الدار في الفقه الإسلامي ) لأخيك المجيب . عصمنا الله وإياكم من الزلل في القول والعمل. آمين. [/QH]
    الفتاوى » خزانة الفتاوى



    [QH]نميل إلى اعتبار جميع البلاد الإسلامية، وهي البلاد التي تقطنها أكثرية إسلامية، نميل إلى اعتبارها دار إسلام بحيث يجب إنزال أحكام دار الإسلام عليها والسعي لدى الحكّام إلى تطبيق جميع الأحكام الشرعية. وانطلاقاً من هذا الواقع فإنّنا نعتقد أنّ الدول الإسلامية، أي الحكّام، هم الذين من شأنهم أن يحدّدوا دار الحرب أو دار العهد. وقد اتفق جميع حكّام المسلمين بعد دخولهم في مواثيق الأمم المتحدة على اعتبار دول العالم كلّها دولاً معاهدة وليست دار حرب!!!![/QH]
    http://www.islamonline.net/servlet/Satellite?pagename=IslamOnline-Arabic-Ask_Scholar/FatwaA/FatwaA&cid=1122528607238
    Read more: http://www.islamonline.net/servlet/Satellite?pagename=IslamOnline-Arabic-Ask_Scholar/FatwaA/FatwaA&cid=1122528607238#ixzz0vjDeq85U
     
  18. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    بالا ذكر كردہ فتوے ميں شيخ خالد بن عبد اللہ البشر نے اپنے جس تحقيقى مقالے بعنوان : [QH]تقسيم الدار في الفقه الإسلامي[/QH] كا ذكر كيا ہے اس كا خلاصہ يہاں ديكھا جا سكتا ہے : تقسيم الدار في الفقه الإسلامي - عالم الكتب - موقع ثقافة ومعرفة - شبكة الألوكة


    ان سطور میں آپ کے سوال کا جواب موجود ہے :
    [QH]وأن دار الإٍسلام لا تتحول إلى دار الكفر ما دامت أحكام الإسلام وشعائره ظاهرة والمتعلقة بالإمام والسكان معاً، كالصلاة والأذان ووجود المساجد كمعالم بارزة مميزة لبلاد الإسلام وسلطته. [/QH]
    تقسيم الدار في الفقه الإسلامي - عالم الكتب - موقع ثقافة ومعرفة - شبكة الألوكة

    [QH]العنوان دار الإسلام ودار الكفر
    المجيب العلامة/ عبد الله بن بيَّه
    وزير العدل في موريتانيا سابقاً
    التاريخ الثلاثاء 15 ربيع الأول 1425 الموافق 04 مايو 2004
    السؤال
    ما هو تعريف دار الإسلام ودار الكفر ودار الحرب؟ هل تنطبق هذه المصطلحات على عالم اليوم؟ إذا كان الجواب نعم أرجو بيان مواقع كل دار على أرض الواقع.

    الجواب
    الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وبعد:
    هذه المسألة اختلف فيها العلماء، فبعضهم قسم الدور إلى دارين فقط إلى دار إسلام ودار حرب، وهم الأحناف،ومعنى هذه القسمة أن كل دار لا يحكمها الإسلام تعتبر دار حرب، ولكن أكثر العلماء من المذاهب الثلاثة قسموا الدور إلى ثلاثة، إلى دار إسلام ودار حرب، ودرا هدنة وموادعة، وصلح، فتسمى بكل هذا: دار هدنة، ودار موادعة، ودار صلح، فأكثر الدور الآن – أي ديار غير المسلمين- هي في الحقيقة من هذا النوع من دار الهدنة، بناء على الاتفاقيات الدولية التي انخرط فيها المسلمون مع غيرهم في ميثاق الأمم المتحدة فيمكن اعتبار هذه الدور في العالم الغربي والعالم الشرقي أنها من باب دار الهدنة ودار الموادعة، وبالتالي فيمكن أن تعتبر دار سلم، وليست دار إسلام، فدار الإسلام هي الدار التي يحكمها المسلمون، وبعض العلماء يقول التي تتسم بشرائع الإسلام، لكن بصفة عامة نقول إن الدار التي يكون أكثر سكانها مسلمين فهي إن شاء الله دار إسلام،[/ أما الدار التي تحكمها قوانين غير إسلامية وسكانها ليسوا مسلمين، فهذه تعتبر في الوقت الحاضر – إلا ما شذ وندر – هي دار موادعة أو دار سلم، يطلق عليها دار سلم لوجود معاهدات دولية تمنع الاعتداء.
    طبعاً على أرض الواقع هناك شيء آخر، يعني طموحات أو ميولات عدوانية لدى بعض الدول، لكن مع هذه الميولات العدوانية هي لا تعلن أنها تحارب الإسلام، ومع وجود الميولات العدوانية عند بعض الدول بالنسبة لبعض المسلمين، أو بالنسبة لبعض البلاد الإسلامية تكون هذه الدول ذات الميول العدوانية بالنسبة لها تعتبر دار حرب، ولكن بصفة عامة نقول إن ميثاق الأمم المتحدة والتداخل العالمي الحالي جعل الدور كلها يمكن أن تعتبر دار سلم، إلا ما قل وندر، كدولة بني إسرائيل ونحو ذلك التي تعلن حرباً حقيقية على بعض المسلمين.[/QH]
    الفتاوى » خزانة الفتاوى
     
  19. محمد نعیم

    محمد نعیم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 26, 2007
    پیغامات:
    901

    " خرد نے زبان سے لا الہ کہہ بھی دیا تو کیا حاصل "

    پاکستان محض اسلام کے نام پر حاصل کرنے سے ہی دارالسلام نہیں بن جائے گا ۔ یا یہاں پر %70 وضعی قوانین اور %30 اسلامی قوانین کے نفاذ سے یہ دارالسلام میں تبدیل ہوجائے گا ۔ بلکہ دارالسلام کے حکم کے لیے اس میں مکمل %100 خالص اسلام قوانین کا نفاذ لازمی ہے ۔ وگرنہ چوں چوں کا مربہ تو ہرجگہ پہ ہے ۔ اور کچھ عرصہ قبل تو بریطانیہ میں بھی ایک جج صاحب نے بعض اسلامی قوانین کو اختیار کرنے کی حمایت کی تھی ۔ کی اس طرح برطانیہ بھی دارالسلام بن جاے گا ؟

    نہیں بلکہ دارالسلام کے لیے خالصتا %100 مکمل اسلامی قوانین کا نافذ ہونا لازمی ہے ۔
     
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,496
    محمد نعيم صاحب ،علمائے كرام كے فتاوى كے جواب ميں دليل كے بجائے صرف اقبال كے غلط مصرعے لکھ دینے سے كام نہیں چلے گا ۔

    زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
    دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں​

    اگر آپ حافظ محدث محمد گوندلوی رحمہ اللہ سے واقف نہیں تو ان کے متعلق معلومات یہاں دیکھ سکتے ہیں ۔ معاملہ علمى ہے جذباتى نہیں ۔ اگر آپ مفتى اور شيخ الحديث ہیں تو فتوى ضرور ديجیے ۔اللہ ہمیں ہدايت دے ۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں